• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ … شہزادعلی
برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی حکومت کے حالیہ بجٹ پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آراء اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ قومی اخبارات اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اس اہم ترین موضوع پر ہر طرح کا مواد سامنے لا رہے ہیں تاکہ عام لوگوں کو اچھی علم ہو سکے کہ زندگی کے مختلف شعبوں پر اس بجٹ کے اثرات کس طرح مرتب ہوں گے۔ برطانیہ کے مالیاتی امور کے ممتاز روزنامہ فنانشل ٹائمز میں پالیٹکس اینڈ پالیسی بجٹ موسم خزاں 2021 کے عنوان کے تحت اس موضوع پر مختلف جائزے اور تبصرہ جات شامل اشاعت کیے گئے ہیں۔ اس میں ایک جملہ نمایاں طور پر چھاپا گیا ہے جو بجٹ پر گویا کہ ایک مدلل تبصرہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے غریب سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ The poor will be hit hardest by rising costs of necessities. واضح کیا گیا ہے کہ روز مرہ ضروریات زندگی کی اشیاء میں قیمتوں کی بڑھتی ہوئی "لہر" لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر سخت جدوجہد اور مشقت پر مجبور کر رہی ہے۔ لوونگ کاسٹس living costs میں کمی غریب خاندانوں کو بہت متاثر کرے گی، فنانشل ٹائمز نے جو جمع تفریق کی ہے اس کے مطابق چونکہ نادار لوگ ہی برطانیہ کے معاشرے کا وہ گروپ ہے جو حکومتی بینیفٹس لیتا ہے مگر ان کو جو فنڈز ملتے ہیں ان کا ایک قابل ذکر حصہ خوراک، گیس اور بجلی بلز کی انتہائی اہم ضرورتوں پر صرف ہو جاتا ہے۔ ملک کے غریب غرباء موجودہ کنزرویٹو پارٹی کے دور میں جس طرح پرسان حال ہیں اس کا اندازہ فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک سابقہ شراب خانے کی مالکہ کی حالت زار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ خاتون جو ایک وقت تھا کہ خود اپنا کاروبار چلاتی تھی اور اب وہ ایک چیرٹی کے باہر قطار میں کھڑی ہے تاکہ وہ وہاں سے کھانا لے سکے۔اس خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ خوراک کے لئے ایک خیراتی ادارے کے در پر جائیں گی، بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ مایوس ہیں کہ یہ بجٹ کسی بھی ایمپلائمنٹ سپورٹ الاونس یا پرسنل انڈی پینڈینس ادائیگی میں اضافہ میں ناکام رہا ہے ۔ ستمبر میں فرلو سکیم کے خاتمے نے بھی کئی لوگوں پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے جبکہ اگلے اپریل تک آجروں اور ملازمین کے نیشنل انشورنس کنٹری بیوشنز میں ایک عشاریہ 25 فیصد کا اضافہ کا مطلب ہے کہ ان کے لئے ٹیکس میں اضافہ ہو جائے گا ۔ اسی طرح کرونا پینڈیمک کے شروع میں یونیورسل کریڈٹ میں 20 پونڈ فی ہفتہ کا ایک عارضی اضافہ کیا گیا تھا جس سے حکومت کی امداد پر گزر بسر کرنے والے لوگوں کو وقتی طور پر مدد مل رہی تھی مگر چانسلر رشی سوناک نے یہ عارضی ریلیف بھی ختم کرنے کا جو اعلان کیا ہے اس سے بھی غریب اور مفلس لوگ مزید متاثر ہوئے ہیں۔ کورنوال ان سائٹ جو ایک کنسلٹینسی ہے کا اندازہ ہے کہ ماہ اپریل تک انرجی بلز میں کم از کم 30 فیصد تک کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ ہول سیل گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ بعض گھرانے سخت سردیوں کے موسم میں اپنے ہیٹرز اکثر اوقات بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور سردی کا سامنا کریں گے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی نے اپنے ردعمل میں موجودہ کاسٹ آف لونگ کرائسزمیں نرمی لانے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا ہے ۔شیڈو چانسلر کا کہنا ہے کہ ورکنگ پیپلز کو بجٹ میں کم تنخواہ پر زیادہ ادائیگی کے لیے کہا گیا ہے لیبر پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ اس موسم خزاں میں ملینز کی تعداد میں جو لوگ زندہ رہنے کے بحران سے دوچار ہیں حکومت ان فیملیز کے مسائل سے نبٹنے میں ناکام رہی ہے ۔ ریچل ریوز کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کو اشیاء ضروریہ، انرجی بلز، فوڈ پرائسیز میں اضافہ سے سخت تگ و دو کر رہے ہیں کے بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، ریچل ریوز جنہوں نے لیبر پارٹی لیڈر سر کئیر سٹارمر کا کووڈ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد ہاوس آف کامنز میں رشی سوناک کی بجٹ تقریر کا ردعمل دے رہی تھیں کا کہنا تھا کہ چانسلر کا اگلے سال نیشنل لوونگ ویج کو 9 پونڈ اور 50 پنس فی گھنٹہ کرنے کا پلان ورکنگ پیپلز /کام کرنے والے لوگوں/ ملازمت پیشہ کی درکار ضرورت کے مطابق کافی نہیں ۔چانسلر ان الفاظ کے گورکھ دھندوں سے لوگوں کو بہلانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے کہ گراوتھ اپ، جابز اپ اینڈ ڈیٹ ڈاون، یعنی شرح پیداوار میں اور ملازمتوں میں ان کی حکومت اضافہ کرے گی اور قرضوں میں کمی لائی جائے گی مگر ریچل ریوز نے الفاظ کے گورکھ دھندے کی قلعی کو یہ کہہ کر ایکسپوز کر دیا کہ فیملیز زندہ رہنے کے اخراجات سے نبٹنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، بزنسیز سپلائی چین کرائسیز سے دوچار ہیں جن پر ہمارے اسکول، ہسپتال اور پولیس انحصار کرتے ہیں _ لبرل ڈیموکریٹ کے ایڈ ڈیوی کا بھی تبصرہ تھا کہ یہ ایک آوٹ آف ٹچ بجٹ تھا جس میں یعنی عام لوگوں کے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔لوگوں پر ٹیکسوں کا تو بوجھ لادا جا رہا ہے مگر اس موسم سرما میں جو خاندان توانائی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ دیکھ رہے ہیں ان کو مدد فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ لب ڈیم لیڈر نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ الفاظ کا بہت ہیر پھیر تو دیکھ رہے ہیں مگر تین بڑے معاملات پر ہم بہت کم سن رہے ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے: رہنے کے لئے اخراجات، ماحولیاتی ایمرجنسی اور بچوں کا تعلیمی نقصان _ ایس این پی ویسٹ منسٹر لیڈر این بلیک فورڈ نے یہ اضافہ کیا کہ ٹوریز (کنزرویٹو پارٹی) کے تحت برطانیہ میں غربت، نارتھ ویسٹ یورپ میں عدم مساوات اور ملازمتوں میں غربت بدترین سطح پر ہے۔اور پھر اس بجٹ نے اسی پارٹی کے پیدا کردہ کاسٹ آف لوونگ کرائسیز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے برطانیہ کی اصل صورت حال مگر جب امراء اور روساء کی حکمران جماعت کے تبصرے پڑھیں گے تو آپ کو برطانیہ میں ہر جانب سبزہ ہی سبزہ دکھائی دے گا۔