آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ23؍ صفرالمظفّر 1441ھ 23؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم پر اگرچہ سعادت حسن منٹو جیسے افسانہ نگار نے اپنا شاہکار افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ “ لکھا تھا لیکن حوالدار غلام علی حقیقی لیکن برصغیر کی منقسم تاریخ کا ایک حقیقی کردار ہے جو امریکہ میں براؤن یونیورسٹی میں پڑھانے والی اسکالر وزیرہ فضیلہ یعقوب علی زمیندار نے اپنی کتاب ” دی لانگ پارٹیشن اینڈ دی میکنگ آف ماڈرن ساؤتھ ایشیا ،ریفیوجیز،باؤنڈریز اینڈ ہسٹریز“ (طویل تقسیم اور جدید برصغیر کی تعمیر:مہاجر، سرحدیں اور تاریخیں) میں رقم کیا ہے۔ میرے حساب سے وزیرہ فضیلہ زمیندار کی یہ کتاب جسے کولمبیا یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے موضوع پر چند بہترین کتابوں میں سے ایک ہے جو انہوں نے خاردار تاروں کے دونوں پار منقسم خاندانوں، اور تاریخ کی زبانی تاریخ پر پورا برصغیرچھان پھٹک کر کئی منقسم خاندانوں سے مل کر اور بے شمار سرکاری فائلیں اور اخبارات کھنگال کر لکھی۔ حوالدار غلام علی کی کہانی بھی وزیرہ زمیندار جیسی محقق اسکالرکو اپنی کتاب کیلئے ریسرچ کے دوران سرکاری فائلوں میں ملی تھی۔ میں یہاں حوالدار غلام علی کی کہانی وزیرہ زمیندار کی اجازت سے انہی کی زبانی ان کی کتاب (جس کا ایک نسخہ انہوں نے مجھے بھی مسودے کی صورت بھیجا تھا) سے نقل کر رہا ہوں:
”غلام علی برٹش انڈین

آرمی میں ایک چھوٹا سا دیسی عملدار یعنی حوالدار تھا جسے دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں مصنوعی اعضاء بنانے والی ایک فیکٹری میں تیکنیکی تربیت کیلئے برطانیہ بھیجا گیا تھا۔ جب حوالدار غلام علی تین جون انیس سو سینتالیس کو برطانیہ سے واپس لوٹا تو اس کی تعیناتی راولپنڈی کے قریب چکلالہ کی ایک فوجی ورکشاپ میں کردی گئی۔ تین جون انیس سو سینتالس وہ دن ہے جب برصغیر ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تھا جس کے ساتھ برصغیر پر انگریزوں کے سو سالہ بیٹھکیراج کا خاتمہ ہوا اور ایک پارٹیشن کونسل تشکیل دے دی گئی تھی جس جسے تمام بیٹھکی ریاست سازی کی وسیع مشینری کی گنتی کر کے اسے ٹھیک دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فرض سونپ دیا گیا تھا۔ ریاستی بیٹھکی مشینری میں میز کرسی سے لیکر ،موسمی آلات اور فوجی سازو سامان تک ، ریلوے انجنوں سے لیکر دفتری کلرکوں تک ہر شے و اہلکاروں کی تقسیم کرنی تھی۔ حکومت اور فوج میں شامل تمام لوگوں سے بھی پوچھنا تھا کہ آزادی کے بعد وجود میں آنے والی قومی ریاستوں انڈیا اور پاکستان دونوں میں سے ان کا انتخاب کونسا ملک ہوگا؟
حوالدار غلام علی نے انڈین آرمی کا چناؤ کیا کیونکہ اس کا خاندان لکھنو میں رہتا تھا لیکن پہلے کہ نقشوں کی لکیریں کھنچ جانے سے ہی پہلے جن میں آزادی کے بعد لکھنو انڈیا میں اور چکلالہ نئے ملک پاکستان میں دکھایا جانا تھا راولپنڈی میں نسل کشی کی سطح کا تشدد بھڑک اٹھا اور پھر کشمیر پر دونوں نوزائیدہ ملکوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ غلام علی بھی انڈیا جانے سے قاصر اور راولپنڈی میں پاکستان کی نئی تشکیل شدہ فوج میں کام کرنے پر مجبور تھا لیکن انیس سو پچاس میں آخر کارحوالدار غلام علی کو پاکستان آرمی نے اس بنیاد پر ڈسچارج کردیا کہ انہوں نے انڈین آرمی کا چناؤ کیا تھا۔ اعضاء ساز غلام علی کو بھارتی گنوا کر کھوکھراپار پر پاکستانی سرحد ی چوکی پر لیجا کر زبردستی سرحد پار انڈیا کے علاقے میں دھکیل دیا گیا۔ بہرحال انڈین چیک پوسٹ والوں نے اسے انڈین نہیں مانا۔ انڈین ملٹری پولیس نے اسے بغیر سفری پرمٹ کے سرحد کراس کرنے پر گرفتار کرلیا، غلام علی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے ایک سال تک جیل کی زبردستی سزا کاٹنی پڑی اور انیس سو اکاون میں اسے اس بنیاد پر انڈیا بدر کردیا گیا کہ وہ ایک پاکستانی تھا۔
بے سروسامان غلام علی نے پاکستانی عدالتوں میں برسوں تک عرضی ڈالی کہ اسے پاکستانی شہری تسلیم کیا جائے لیکن انیس سو چھپن میں پاکستانی عدالت نے اسے ہندوستانی شہری قرار دے دیا۔ اس کے بعد غلام علی نے خود سے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا تاکہ وہ لکھنو میں اپنے خاندان سے ملنے کیلئے سرحد عبور کرسکے۔ غلام علی انڈیا پہنچا جہاں اس نے بھارتی شہریت کیلئے درخواست دائر کی جو مسترد کردی گئی، اس کے بھائی کی اپیلوں کے باوجود انیس سو ستاون میں اتر پردیش کی صوبائی حکومت نے غلام علی کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ جب اسے ہندوستانی پولیس کی معیت میں واہگہ سرحد پر سے بھارت بدر کردیا گیا تو جواب میں پاکستانی اہلکاروں نے اسے پھر سے بھارتی شہری سمجھتے ہوئے گرفتار کرکے لاہور کے”ہندو کیمپ“ میں رکھ دیا۔
وزیرہ زمیندار اپنی اس برصغیر کی تقسیم پر حکایت خونچکاں جیسی زبانی تاریخ (جس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے کراچی اور دہلی کے منقسم خانوادوں کی رودادوں پر مبنی ان کی زبانی تاریخ پر لکھا ہے۔ ایسے لوگوں کو بقول وزیرہ زمیندار ای ویلنٹائن نے ”خاموشی کے ڈرونز“ قرار دیا تھا جو کہ نہ کہہ پائے اور نہ کہہ پا سکتے تھے۔ مصنفہ حوالدر غلام علی کی کہانی کے آخر میں کہتی ہیں کہ منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرح غلام علی بھی ان لوگوں کی طرح تھا جن کے دل و دماغ دونوں ممالک کے بیچ خاردار تاروں کی درمیان پھنس کر رہ گئے تھے کہ ہندوستان کہاں ہے؟ پاکستان کہاں ہے؟ کون پاکستانی ہے اور کون ہندوستانی ؟
دونوں اور لوگ مارے گئے۔ تقسیم برصغیر کے کسی بھی دستاویز میں انتقال آبادی کا ذکر نہیں تھا۔ فسادات نہیں تھے نسل کشیاں تھیں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کی۔ اصل نسل کشی اور تقسیم تو سب سے بڑی پنجاب کی ہوئی۔ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے تقسیم کا اعلان ہوچکا تھا لیکن دونوں جانب لاکھوں لوگ تھے جنہیں پتہ نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے۔( جی ہاں وہی جسونت سنگھ جن کے جناح صاحب کو سیکولر قرار دینے پر( ان کی پارٹی) بی جے پی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ جسونت سنگھ نے کہا کہ انہوں نے صرف پارٹی سے نکال دیا اگر وہ زندہ بھی جلا ڈالتے تو کون کیا کرسکتا تھا)۔
”وہاں خاردار تاروں کے پیچھے ایک جانب انڈیا تھا تو اور زیادہ خاردار تاروں کے پیچھے پاکستان تھا۔ ان کے درمیان میں ذرہ برابر زمین جس کا کوئی نام نہیں تھا پر ٹوبہ ٹیک سنگھ تھا ”سعات حسن منٹو نے تقسیم کے خون آشام پاگل پن کے پس منظر میں اپنے سدا امر افسانے “ٹوبہ ٹیک سنگھ “ میں لکھا۔اور سندھی لکھاری و ناول نگار موہن کلپنا نے اپنے ناول ”جلاوطنی“ میں لکھا جو لسی کوٹری کے اسٹیشن پر بکتی تھی اگر وہ لسی جناح اور نہرو نے پی ہوتی تو شاید ہی بٹوارا ہوتا لیکن وہ کٹھ ملّا جنہوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی وہی بعد میں پاکستان کے مامے بن بیٹھے۔ جی ایم سید جنہوں نے پاکستان کو مسلمانان ہند و سندھ میں مقبول بنایا اور سندھ میں جناح صاحب کو وہ سید غدار قابل گردن زنی اور تادم مرگ پابند سلاسل یا نظربندی رہے۔ جی ایم سید جنہوں نے بحیثیت صدر آل انڈیا مسلم لیگ سندھ پوسٹر چھپوا کر تقسیم کرائے تھے کہ ہندوستان سے آنے والے مسلمان مہاجرین مدینہ کی یاد تازہ کردیں گے۔ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔بارے یہ جشن آزادی تھا یا جشن مرگ انبوہ!
اردو کے مایہ ناز شاعر گلزار جو خود اس ذرہ برابر زمین پر خاردار تاروں کے درمیان پھنس کر رہ گئے نے سعادت حسن منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ پر کیا خوب معرکتہ الآرا نظم کہی ہے:
مجھے واہگہ پہ ٹوبہ ٹیک سنگھ والے بشن سے جا کر ملنا ہے
سنا ہے وہ ابھی تک سوجے پیروں پر کھڑا ہے
جس جگہ منٹو نے چھوڑا تھا اسے
وہ اب تک بڑبڑاتا ہے
”اپڑ دی گڑ گڑ دی مونگ دی دال دی لالٹین“
پتہ لینا ہے اس پاگل کا
اونچی ڈال پر چڑھ کر جو کہتا ہے
خدا ہے وہ اسے فیصلہ کرنا ہے کس کا گاؤں کس کے حصے میں آئے گا وہ کب اترے گا
اپنی ڈال سے اس کو بتانا ہے
ابھی کچھ اور بھی دل ہیں کہ جن کو بانٹنے کا، کاٹنے کا کام جاری ہے وہ بٹوارہ تو پہلے تھا
ابھی کچھ اور بٹوارے باقی ہیں
مجھے واہگہ پہ ٹوبہ ٹیک سنگھ والے بشن سے ملنا ہے
خبر دینی ہے اس کے دوست افضل کو
وہ لہنا سنگھ ودھاوا سنگھ وہ” بھین امرتی وہ سارے قتل ہو کر اس طرف آئے تھے
ان کی گردنیں سامان ہی میں لٹ گئیں پیچھے ذبح کردے وہ بھوری اب کوئی لینے نہ آئے گا
وہ لڑکی اک انگلی جو بڑی ہوتی تھی ہر بارہ مہینے میں وہ اب ہر اک برس اک پوٹا پوٹا گھٹتی رہتی ہے
بتانا ہے کہ سب پاگل پہنچے نہیں اپنے ٹھکانوں پر
بہت سے اس طرف بھی ہیں بہت سے اس طرف بھی ہیں
مجھے واہگہ پہ ٹوبہ ٹیک سنگھ والا بشن اکثر یہی کہہ کر بلاتا ہے۔ (بشکریہ وزیرہ زمیندارہ اور گلزار)