• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کر دیا


اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو ڈیڑھ فیصد بیسسز پوائنٹس بڑھا دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دو ماہ کے لیے  مانیٹری پالیسی جاری کردی۔

مانیٹری پالیسی اجلاس میں شرح سود 8.75 فیصد کردی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ اجلاس کے بعد مہنگائی اور ادائیگیوں کا توازن خراب ہوا ہے، جبکہ معاشی نمو کا منظرنامہ بہتر ہوا۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور ادائیگیوں کا توازن مقامی اور عالمی وجوہات کے سبب بڑھ رہا ہے، جبکہ  بلند درآمدی قیمتیں مہنگائی کو توقعات سے زائد بڑھا رہی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وباء کے بعد سپلائی مشکلات نے قیمتوں کو اندازوں سے زیادہ بڑھایا ہے، مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے زری پالیسی کو سخت کرنا شروع کردیا۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ اجلاس کے بعد روپے کی قدر مزید 3.4 فیصد گر گئی ہے، امریکی ڈالر مئی سے بیشتر ابھرتی ہوئی منڈیوں کی کرنسیوں کے مقابلے میں بڑھا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود اور مالیاتی پالیسی معمول پر آنے سے روپے پر دباؤ کم ہونا چاہیے، پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں بڑی کمی کی وجہ سے نان ٹیکس محاصل 22.6 فیصد کم ہوا ہے۔

مرکزی بینک کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں ملکی طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے بجٹ اہداف کو حاصل کرنا ضروری ہوگا، معاشی بحالی مضبوط بنیادوں پر قائم ہوچکی ہے، زری حالات کو معمول پر لانے کے لئے نمو میں تھوڑی کمی لائی جائے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اجناس کی عالمی اور توانائی کی سرکاری قیمتوں میں مزید ممکنہ اضافے سے رواں مالی سال اوسط مہنگائی پیشگوئی سے زائد رہ سکتی ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی مہنگائی، مالی استحکام اور نمو کی بغور نگرانی اور اس کے مطابق کارروائی کے لیے تیار ہے، اسٹیٹ بینک نے ایک سال میں مانیٹری پالیسی اجلاسوں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کردی ہے۔

قومی خبریں سے مزید