• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’موسمِ سرما‘ اللہ کے نیک بندوں کیلئے عبادت و ریاضت کے شب و روز

ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے چار موسم بنائے ہیں‘ بہار‘ گرمی‘ خزاں اور سردی۔ بہار میں کائنات کھل اٹھتی ہے‘ نئی کو نپلیں پھوٹتی ہیں‘ پھول نکلتے ہیں اور پھل لگتے ہیں‘ گرمی آتی ہے تو فصلیں پکتی ہیں‘ پھلوں میں رس پڑتا ہے‘فصلیں کٹنے کےلئے تیار ہوتی ہیں اور درختوں کے پتے ہوا اور سایہ دیتے ہیں‘ خزاں کے موسم میں ہر چیز مرجھا جاتی ہے‘ گھاس سوکھ جاتی ہے‘ پتے گر جاتے ہیں‘ شاخیں جھک جاتی ہیں‘ پھول غائب ہو جاتے ہیں‘ پانی کم ہو جاتا ہے اور چوتھا موسم سردی کا ہوتا ہے‘ سردی کے موسم میں پالے پڑتے ہیں‘ کہرازمین کو ڈھانپ لیتا ہے اور برف زندگی کو منجمد کر دیتی ہے۔

سردی ہو یا گرمی! ہر موسم عبادت کا موسم ہے، لیکن سردیوں میں کم وقت میں زیادہ ثواب کمانا نسبتاً آسان ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: موسمِ سرما مؤمن کا موسمِ بہار ہے کہ اِس میں دن چھوٹے ہوتے ہیں تو مؤمن ان میں روزہ رکھتے ہیں اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں تو وہ ان میں قیام کرتے (یعنی نوافل وغیرہ پڑھتے) ہیں۔ (شعب الایمان)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سردی کا موسم مومن کے لئے موسم بہار ہے، اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں ،جن میں وہ روزے رکھ لیتا ہے اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں ،جن میں وہ قیام کرلیتا ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی )

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سردیوں کے روزے رکھنا مفت میں اجر کمانا ہے۔ (طبرانی )

ہمارے بزرگانِ دین موسم سرما کی آمد پر خوش ہوتے اور اِسے عبادت میں اِضافے کا موسم قرار دیتے، جیسا کہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ موسمِ سرما کی آمد پر فرماتے: سردی کو خوش آمدید، اِس میں اللہ تعالیٰ کی رَحمتیں نازل ہوتی ہیں کہ شب بیداری کرنے والے کے لئے اِس کی راتیں لمبی اور روزے دار کے لئے دن چھوٹا ہوتا ہے۔ (فردوس الاخبار،ج 2)

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تمہیں چاہیے کہ رات کو قیام (بطور خاص تہجد ادا)کرو۔ اس لیے کہ تم سے پہلے نیک بندوں کی عادت بھی یہی تھی، یہ تمہارا اپنے رب سے قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، یہ عمل تمہاری برائیوں کو مٹانے والا اور تمہیں گناہوں سے بچانے والا ہے۔(جامع ترمذی،باب فی دعاء النبی ﷺ)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے شفاف کمرے ہیں کہ جن کے اندر کی طرف سے باہر کا سب کچھ نظر آتا ہے اور باہر کی طرف سے اندرکا سب کچھ نظر آتا ہے۔ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ !یہ کن کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ،یہ اللہ نے ان لوگوں کے لیے تیار فرمائے ہیں جو نرم انداز میں گفتگو کرتے ہیں، غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں، اکثر روزے رکھتے ہیں اور راتوں کو اٹھ کر نمازیں (تہجد) پڑھتے ہیں، جب کہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔(جامع الترمذی ،باب ماجاء فی صفۃ غرف الجنۃ )

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرتا ہے جو آدھی رات کو اٹھتا ہے اور تہجد کی نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے اور اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر(پیار سے) پانی کے چھینٹے مارتا ہے اور اللہ اس خاتون پر بھی نظر کرم فرماتا ہے جو رات کو اٹھ کر تہجد پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی تہجد کے لیے جگاتی ہے اور اگر وہ انکار کرے تو وہ عورت (پیار سے) اپنے خاوند کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے۔(سنن ابوداؤد،باب قیام اللیل)

اللہ تعالیٰ کے نیک بندے سردیوں کی راتوں میں عبادت کو محبوب جانتے تھے ۔حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: سردی کا موسم عبادت گزاروں کے لئے غنیمت ہے۔(موسوعۃ لابن ابی الدنیا،ج1) حضرت صفوان بن سلیمؒ گرمیوں میں گھر کے اندر اور سردیوں میں چھت پر نماز پڑھتے، تاکہ نیند نہ آئے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3)

حضرتِ سیدنا عبید بن عمیر ؓ موسمِ سرما کی آمد پر فرماتے: اے اَہلِ قرآن! تمہاری قرأت کے لئے راتیں لمبی ہو گئی ہیں تو تم اِن میں قیام کرو، اور تمہارے روزوں کے لئے دن چھوٹے ہو گئے ہیں تو تم اِن میں روزے رکھو۔(احادیث الشتاء للسیوطی، ص97)

حضرت ابوعبداللہ محمد بن مفلحؒفرماتے ہیں: سردی کے موسم میں رات کے اوّل حصّے اور گرمیوں میں دن کے اِبتِدائی حصّے میں ختمِ قراٰن مسنون ہے۔ (الآداب الشریعۃ لابن مفلح،ص688)

سردیوں میں دن چھوٹے اور موسم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے بھوک اور پیاس کا اِحساس کم ہوتا ہے، لہٰذا اِس موسم میں روزے کا ثواب کمانا آسان ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:سردی کے روزے ٹھنڈی غنیمت ہیں۔(ترمذی،ج 2،ص210)

سردی کی وجہ سے نماز میں سُستی مت کیجئے، بلکہ سردی کی مشقّت پر صبر کرکے اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ اَحْمَزُہَا (یعنی افضل ترین عمل وہ ہے جس میں مشقّت زیادہ ہو۔(تفسیرِ کبیر،ج1،ص431) نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے سخت سردی میں کامِل وضو کیا اُس کے لئے ثواب کے دو حصے ہیں۔(مجمع الزوائد،ج1،ص542)

یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سردیوں کا موسم عبادت کا موسم ہے۔ چھوٹے چھوٹے دن ہیں ، لمبی لمبی راتیں ہیں۔ دن کو روزہ رکھیں، نہ ہی بھوک اور نہ ہی پیاس ستاتی ہے۔ ان دنوں میں رمضان کے قضا روزے بھی آسانی سے رکھے جا سکتے ہیں۔ راتیں بہت لمبی ہیں۔ تلاوت ، ذکر، درود پاک ، نوافل ، قضا نمازیں اور معتبر دینی کتب کا مطالعہ وغیرہ جیسی عبادات میں خرچ کریں۔

ناشکری سے بچنے کا نسخہ…!

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو ،جسے مال وجمال میں تم پرفوقیت عطا کی گئی ہے تو تمہیں چاہیے کہ کسی ایسے آدمی کو بھی دیکھ لو جو ان چیزوں میں تم سے کمتر ہو‘‘۔ (صحیح بخاری)

پریشان حال کی مدد…!

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا،جو شخص کسی پریشان حال انسان کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے تہتّر درجے مغفرت لکھے گا، جن میں سے ایک مغفرت تو اس کے تمام کاموں کی اصلاح کے لیے کافی ہے اور بہتّر درجےمغفرت قیامت کے دن اس کے لیےبلندی درجات کا سبب بن جائےگی۔(سنن بیہقی)