• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (نیوز ڈیسک) لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر کیس بنا، آلودگی اور موسمیاتی حالات نے مل کر شہر کو اسموگ سے ڈھک دیا ہے۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی میں رفتہ رفتہ اضافہ ہورہا ہے۔

جب کہ کراچی میں بھی اس لحاظ سے صورت حال زیادہ اچھی نہیں ہے۔ زہریلی فضا کی وجہ سے لوگوں کی صحت خراب ہورہی ہے اور وہ استھما، پھیپھڑوں کے امراض، سانس کی نالی میں انفیکشن، اسٹروک، امراض قلب میں مبتلا ہورہے ہیں۔

صحت اور آلودگی کے حوالے سے دی گلوبل الائنس کے 2019 کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کی وجہ سے سالانہ 1 لاکھ 28 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھورہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے لاہور میں اسموگ کے مسئلے کو غلط معلومات کے پھیلائو کی سازش قرار دیا، جب کہ بہت سے حکام اور سیاست دان اس کا الزام بھارتی کاشت کاروں پر عائد کرتے ہیں جو فصلوں کی باقیات جلائے جانے کی وجہ سے اسموگ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی ریسورس پینل کے رکن سلیم علی کا کہناہے کہ لاہور میں اسموگ کی وجہ میٹرولوجیکل اور انتھروپوجینک عوامل کا ملنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت کی تبدیلی سے فضا میں آلودگی تھم جاتی ہے، جس کے ساتھ موسم سرما میں فصلوں کی باقیات کے جلائے جانے اور دیگر عوامل کے سبب اسموگ پھیلتا ہے۔

فضائی آلودگی میں کئی عوامل شامل ہیں جس میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی آلودگی، فوسل فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس، کچرے کا جلانا اور بھٹی مالکان کا کوئلے جلانا وغیرہ شامل ہیں۔

ایک غذائی اور زرعی ادارے کی تحقیق میں بجلی پیداکنندگان، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے کو اسموگ کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید