• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: باجماعت جہری نمازوں میں حدر میں کہ تجوید وقرأ ت کے قواعد نہ بگڑیں ، تلاوت کرسکتا ہے ؟،(ظہور احمد باروی ،کراچی )

جواب: قُرّاء کرام و فنِ تجوید کے ماہرین کے نزدیک تلاوتِ قرآن کریم کے تین مراتب ہیں :

(۱)تحقیق (ترتیل )،(۲) حدر ،(۳) تدویر (توسط)۔

مخارج اور صفات کی رعایت کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا تحقیق کہلاتا ہے، اسے ترتیل بھی کہتے ہیں ،جیسا کہ جلسوں میں قراء کرام تلاوت کرتے ہیں ۔فنِ تجوید کے قواعد کی رعایت کرتے ہوئے روانی سے پڑھنا حدر کہلاتا ہے ،جیسا کہ نمازِ تراویح اور شبینوں میں پڑھاجاتا ہے۔ اور ترتیل وحدر کے درمیانی انداز میں تلاوت کرنا توسط یا تدویر کہلاتا ہے، جیسا کہ عام طور پر فرض نمازوں میں پڑھا جاتا ہے ،(ملخصاً: قواعد التجوید علیٰ روایۃ حفص عن عاصم بن أبی النجود،ص:124-125)‘‘۔

ہمارے یہاں قراء ت امام عاصم بروایتِ حفص رائج ہے ،امام عاصم کے دو طریقِ ہیں: (۱) طریقِ جزری (۲) طریقِ شاطبی۔اہلِ عرب طریقِ جزری میں پڑھتے ہیں اور اہلِ عجم طریقِ شاطبی میں پڑھتے ہیں۔

فرض اور واجب نمازوں میں ترتیل کا لحاظ رکھا جائے اور دیگر سنن ونوافل میں اگر حدریا تدویرکے ساتھ تلاوت کی جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ افضل تو یہ ہے کہ توسط واعتدال کے ساتھ قواعدِ تجوید کا لحاظ رکھتے ہوئے نمازوں میں قرأ ت کی جائے ،لیکن حدر کے ساتھ بھی تلاوت کرسکتا ہے ۔

علامہ فریدالدین عالم ابن العلاء مُتوفّٰی 786ھ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ قرأ ت کی تین صورتیں ہیں : فرض نماز میں ٹھہر ٹھہر کر اورسکون واطمینان سے ایک ایک حروف میں غوروفکر کرکے پڑھنا ، نمازِ تراویح میں سکون اورتیز رفتاری کے درمیان پڑھنا جیساکہ اَئمہ تلاوت کرتے ہیں اور رات کے نوافل میں سُرعت کے ساتھ اس طرح پڑھنا کہ سمجھ آسکے ، یہ مباح ہے، (فتاویٰ تتارخانیہ، جلد2،ص:67)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk