• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی افریقا، اومیکرون کے کیسز میں اضافہ، ہلاکتوں کی شرح کم

جوہانسبرگ، واشنگٹن (اے ایف پی، جنگ نیوز) جنوبی افریقا میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے نئے کیسز میں اضافے کے باوجود کورونا سے ہلاکتوں کی شرح کم رہی ہے، اومیکرون کے باعث صرف چند لوگوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے

جنوبی افریقا میں جمعرات کے روز کورونا کے 11 ہزار 535 نئے کیسز رپورٹ کئے گئے ہیں جو ایک ہفتہ قبل یومیہ کیسز سے پانچ گنا زائد ہیں، ان کیسز میں سے تین چوتھائی کیسز اومیکرون کے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل ویکسی نیشن کروانے والے افراد کورونا سے زیادہ بیمار نہیں ہورہے ہیں، فرانس میں بھی کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پہلے کیس کی تصدیق کردی گئی ہے۔

امریکا میں اومیکرون کے دوسرے کیس کی تصدیق کردی گئی ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دوسرا مریض بھی مکمل ویکسی نیشن کے باعث زیادہ بیمار نہیں ہوا اور اس کی حالت میں بہتری آرہی ہے

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے کووڈ 19 کیخلاف اقدامات کو سیاسی طور پر منقسم نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے رواں موسم سرما میں کورونا سے نمٹنے کیلئے اپنی سیاسی حریف جماعت سے بھی تعاون کا مطالبہ کیا۔

ادھر اقوام متحدہ کی جانب سے جنوری میں ہونے والا بائیو ڈائیورسٹی اجلاس کوپ 15 ملتوی کردیا گیا ہے، اجلاس کورونا کی نئی قسم کے باعث ملتوی کیا گیا ہے۔ ادھر جرمنی اور ناروے میں کورونا کی نئی قسم سے نمٹنے کیلئے پابندیوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔

جرمنی میں مکمل ویکسی نیشن نہ کروانے والے شہریوں کے عوامی مقامات پر جانے کے علاوہ انہیں دیگر پابندیوں کا سامنا رہے گا۔ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں شہریوں کے عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

افریقی یونین میں صحت سے متعلق نگران ادارے نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اومیکرون کے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کریں، ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تشویش ضروت ہے لیکن ہم لوگ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پریشان نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنا تحفظ خود کرسکتے ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید