• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللّٰہ اخونزادہ زندہ ہیں یا مردہ؟

قندھار (اے ایف پی) طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللّٰہ اخونزادہ زندہ ہیں یا مردہ، اس سے متعلق اسرار مزید گہرا ہوگیا ہے۔ اب بھی یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ طالبان کی قیادت کون کر رہا ہے۔

اس دوران ایسی خبریں ہیں کہ "طالبان امیر" نے قندھار میں ایک مدرسے میں خطاب کیا۔ مدرسہ حکیمیہ کے مہتتم کا کہنا ہے کہ طالبان امیر کے منظر عام پر آنے کے بعد افواہیں اور پروپیگنڈا ختم ہو چکا ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 3 برس قبل اپنے بھائی کے ساتھ ایک خودکش حملے میں مارے جاچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے طالبان کے روپوش سپریم لیڈر ہیبت اللّٰہ اخونزادہ کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں پتہ لگانے کی بھرپور کوشش کی تاہم کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔

طالبان کے ترجمان کے اس دعوے کے دو ماہ بعد، کہ اخونزادہ زندہ ہیں اور قندھار میں ہیں، 30 اکتوبر کو یہ افواہ پھیل گئی کہ " طالبان امیر " نے قندھار کے ایک مدرسے میں خطاب کیا۔

طالبان کے عہدیداروں نے بھی حکیمیہ مدرسہ میں ان کی تقریر کی تصدیق کی اور تقریباً دس منٹ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کی۔ اس آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز اخونزادہ کی ہے۔ جس میں وہ کہہ رہے ہیں " اللّٰہ افغانستان کے مظلوم عوام کو اجر عظیم عطا کرے جنہوں نے 20 برس تک کافروں اور ظالموں سے مقابلہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید