• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب بھی کہتا ہوں کہ پاکستان میں کم مہنگائی ہے، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب بھی کہتا ہوں کہ پاکستان میں دیگر ملکوں سے کم مہنگائی ہے، تین ماہ پہلے پلان بنایا کہ کس طرح لوگوں پر مہنگائی کا دباؤ کم کرسکتے ہیں، کسان کارڈ کے ذریعے کسان کو پانچ لاکھ کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نصب العین واضح تھا کہ پاکستان کواسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، جب پہلی بار خیبرپختونخوا میں حکومت ملی تو اتحادی حکومت تھی، بہت لوگوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اتحادی حکومت چلانا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی پر لوگوں کو بڑا تعجب ہوا، ہر وقت ہمیں طعنے دیے گئے کہ کہاں ہے نیا پختونخوا؟ ہمیں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کسی کو دوسری باری نہیں دیتے، خیبرپختونخوا میں ہمیں دو تہائی اکثریت اس لیے ملی کی یہاں غربت تیزی سے کم ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں غربت کو تیزی سے کم کیا، کینسر کا علاج مشکل تھا اس لیے کینسر کا اسپتال بنایا، جب 2018 میں خیبرپختونخوا کی حکومت ملی تو فیصلہ کیا کہ ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس دینی ہے، پنجاب میں بھی یکم جنوری سے ہیلتھ انشورنس کارڈ تقسیم ہونا شروع ہورہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ علاج میں سہولت پر غریب ہمیشہ آپ کو دعا دیں گے ، بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بھی ہیلتھ انشورنس کا کہا ہے ،دنیا میں امیرترین ملکوں میں بھی یونیورسل ہیلتھ انشورنس نہیں،یہ وہ چیزہے جو ہمیں فلاحی ریاست کی طرف لے کر جارہی ہے ۔

عمران خان نے مزیدکہا کہ کورونا آیا تو بڑا زور لگایا گیا کہ سب کچھ بند کردیں،کسی نے کہا اس کو پتا نہیں کسی نے کہا ایف آئی آر کاٹ دو یہ لاک ڈاؤن نہیں کررہا ،پوری دنیا نے کورونا کی صورتحال کو کنٹرول کرنے پر پاکستان کی تعریف کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے کہا جارہا تھا کہ نریندرمودی کورونا میں جوبھارت میں کررہا ہے آپ بھی کریں،لاک ڈاؤن کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہوئی اور اس سے چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئیں،گھی ،پیٹرول ، گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،جتنی چیزیں پاکستان میں تھیں کوشش کی کہ ان کی قیمتیں نہ بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ گھی، آٹا اور دالوں پر 30 فیصد سبسڈی دے رہے ہیں، فیصلہ کیا کہ مستحق خاندانوں کو کم قیمت پر آٹا،گھی اور دالیں فراہم کریں، غریب خاندان احساس راشن پروگرام میں خود کو رجسٹرڈ کریں۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ مستحق خاندانوں کی احساس راشن پروگرام میں رجسٹریشن کرائیں،بیس لاکھ خاندانوں کو سود کے بغیرکاروبار،گھرکیلئے قرض اور کسی ایک فرد کوٹیکنیکل ایجوکیشن دیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آدھے سے زیادہ پیسا جو ماضی کی حکومتوں نے قرض لیے تھے ان کے سود میں چلا جاتا ہے،ملک صحیح راستے پر چل پڑا ہے، ہماری ایکسپورٹ بڑھے گی ،پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ اسکالرشپس ہم دے رہے ہیں، ہم میرٹ کے تحت 63 لاکھ نوجوانوں کو اسکالرشپس دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے آمدنی بڑھتی جائے گی مزید پیسا بچوں کی تعلیم پر لگائیں گے، وزراء اپنے حلقوں میں جائیں اور مستحق خاندانوں کی رجسٹریشن کرائیں، اب تک پاکستان میں شارٹ ٹرم پلاننگ ہوئی اب ہم پہلی بار لانگ ٹرم پلاننگ کررہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ چین میں پانچ ہزار بڑے ڈیم ہیں، ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، پانی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے ڈیم بنارہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید