• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محترم عطاء الحق قاسمی اردو زبان و ادب کے صفِ اوّل کے ایک ایسے صاحبِ طرز کالم نگار، ڈرامہ نویس،شاعر اور مزاح نگار ہیں جن کی علمی، ادبی اورصحافتی خدمات کا عرصہ پچاس برس سے زائد پر محیط ہے جس پر بڑے بڑے مشاہیر انہیں شاندار لفظوں میں خراج تحسین پیش کرچکے ہیں۔لہٰذا جب کوئی بطور چیئرمین پی ٹی وی قاسمی صاحب کی تعیناتی کے تناظر میں اُن کی اہلیت پر سوال کرتا ہے توحیرت ہوتی ہے۔خاص طور پر اس لیے بھی کہ اس سے پیشتر قاسمی صاحب اپنی انتظامی صلاحیتوں سے نہ صرف بطور چیئرمین،لاہور آرٹس کونسل جیسے مردہ ادارے کو قابل فخر حد تک متحرک کرچکے ہیں بلکہ اس سے پہلے ناروے میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے بھی ملک کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ہمارا ملک یوں تو بڑے بڑے ”افلاطونوں“ سے بھرا ہوا ہے مگر اس وقت مجھے شدیدحیرت ہوتی ہے جب کوئی”مقامی انگریز”ہماری نظریاتی سرحدوں کے محافظ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی جیسے اہم قومی اداروں کو روپے پیسے کے لحاظ سے نفع نقصان کے ترازو میں تولتا ہے۔بڑی پرانی بات نہیں ہے جب بھارتی سیاسی لیڈر سونیا گاندھی نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی تھی کہ”اب ہمیں پاکستان سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ ہم نے پاکستان کو ثقافتی محاذ پر شکست دے دی ہے“۔یاد رہے کہ سونیا گاندھی کا یہ بیان اس وقت آیا تھا جب ہمارے ہاں گھر گھر میں کیبل پر انڈین چینل اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھے جارہے تھے اور پاکستان ٹیلی ویژن پر پرائیویٹ پروڈکشن کے تیسرے درجے کے انتہائی فضول ڈرامے اور شوز مہنگے داموں خرید کر چلائے جارہے تھے۔ میرے خیال میں یہ ایک عام فہم سی بات ہے کہ پاکستان کی بقا کے لیے جس قدر جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے اُس سے کہیں زیادہ اہمیت نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہے۔بصورت دیگر سرحدوں پر ہمارے جوان ملک اور قوم کی بقاکے لیے اپنی جانوں کے جو نذرانے پیش کرتے ہیں خدانخواستہ وہ قربانیاں رائیگاں جاسکتی ہیں۔آج دشمن غیر ملکی ثقافتی یلغار کے ذریعے ہم پر نئے انداز میں حملہ آور ہے۔یہ جو آج ہمارا ملک ایک افراتفری،ہیجان،انتہا پسندی،بے راہ روی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتاہے تو دراصل یہ اسی یلغار کا نتیجہ ہے۔آپ دیکھ لیجئے ہماری جس نسل کی تربیت میں ریڈیو پاکستان اورپی ٹی وی جیسے اداروں کا کردار ہے اس میں اور بعد کی نسل کی سوچ اور اہلیت میں زمین آسمان کافرق ہے۔بدقسمتی سے وقت کے ساتھ یہ دونوں اہم قومی ادارے کمزور پڑتے گئے جس کی وجہ وہ ناقص حکمت عملی تھی جس کے باعث زیڈ اے بخاری اور سلیم گیلانی جیسی اعلیٰ علمی ادبی شخصیات کی جگہ ان اداروں کی سرابراہی بیوروکریسی کو دے دی گئی جن کی واحد قابلیت انگریزی بول چال اور ادارے میں اپنی کرپشن کا کوئی ثبوت نہ چھوڑناتھی۔ممکن ہے اس دوران ان اداروں میں قوم کا درد رکھنے والے چند ایمان دار اور قابل بیوروکریٹ بھی آئے ہوں مگر ان اداروں کی لگاتار بربادی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب تک ان اداروں کی سربراہی کے لیے کسی دانشور اور ادیب سے بہتر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔اس حوالے سے یہ پی ٹی وی کی خوش قسمتی تھی کہ ایک طویل عرصے کے بعداس ادارے کو محترم عطاء الحق قاسمی جیسا دانشور چیئرمین میسر آیا۔قاسمی صاحب نے ادارے کی سربراہی سنبھالتے ہی یہ اعلان کیا کہ اُن کاون پوائنٹ ایجنڈا پرائیویٹ پروڈکشنز پر پابندی اور پی ٹی وی کےا سٹوڈیوز کی آباد کاری ہے۔ جس کے بعد قاسمی صاحب نے ذاتی دلچسپی سے قومی اہمیت کے اس تباہ حال ادارے کو پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے دن رات ایک کردیا۔ قاسمی صاحب اُن بڑے اداکاروں، لکھاریوں اور ہنر مندوں سے جو پی ٹی وی کے اعلیٰ حکام کی پالیسیوں سے ناراض ہوکر پی ٹی وی کو مستقل خیر باد کہہ چکے تھے ذاتی کاوشوں سے قومی فرض کا احساس دلا کر پرائیویٹ چینلز کے مقابلے میں انتہائی کم معاوضے پر واپس پی ٹی وی لے آئے۔اس کے ساتھ قاسمی صاحب نے نئی نسل کو اپنی روایات و اقدار سے روشناس کرانے کے لیے”کھوئے ہوئوں کی جستجو“جیسے شاندارپروگرام شروع کئے اورایک قومی فریضہ سمجھ کر کسی اضافی معاوضے کے بغیر ذاتی طور پر اس میں خود بھی شریک ہوتے رہے۔ جس کے بعدقومی اہمیت کا یہ ادارہ تیزی سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگا۔بس قاسمی صاحب کا یہی وہ“جرم“تھاجس کے نتیجے میں پی ٹی وی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے ان کے خلاف پوری شدت سے سرگرم ہوگئے۔

ظاہر ہے ان لٹیروں کے ساتھ اُن ملک دشمن قوتوں کو بھی یہ کیسے برداشت ہو سکتا تھا کہ وہ قومی ادارہ جسے انہوں نے بڑی مہارت سے برباد کیا تھا وہ پھر سے آباد ہوکر قومی تشخص کی حفاظت کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرئے۔نتیجتاً ان قوتوں نے آپس کے گٹھ جوڑ سے قاسمی صاحب کے ایجنڈے کی راہ میں حیلے بہانوں اور سازشوں سے روڑے اٹکانے شروع کردئیے۔قاسمی صاحب نے ادارے کی بقا کے لیے ایک عرصے تک توان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، قاسمی صاحب کو جب پوری طرح اندازہ ہوگیا کہ وہ ادارے کی بہتری کے لیے مزید کچھ نہیں کرسکتے تو اُنہوں نے محض تنخواہ اور مراعات کے لالچ میں اس عہدہ پر براجمان رہنا مناسب نہیں سمجھا اور خود کو درپیش مشکلات اور ان کے ذمہ داران کی نشاندہی کر کے فی الفور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔جس کے فوری بعد باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت قاسمی صاحب کے خلاف مذموم اور مکروہ پروپیگنڈے کا آغاز کردیا گیاجس میں غیروں کے ساتھ کچھ اپنوں کی”مہربانیاں“ بھی شامل تھیں۔ سب لوگ قاسمی صاحب کے خلاف پروپیگنڈے اور اُن کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر اس قوم کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی کے طلب گار بھی ہیں۔

تازہ ترین