• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ (حصّہ اوّل)

محمّد احمد غزالی

مولانا جلال الدّین رومی ؒ 6 ربیع الاوّل 604 ہجری، 30 ستمبر 1207ء کو قدیم اور تاریخی شہر، بلخ ( افغانستان)میں پیدا ہوئے۔اُن دنوں اِس علاقے کو خراسان کہا جاتا تھا، جب کہ یہاں تاجک نسل کی اکثریت تھی، اِس لیے بعض سوانح نگاروں نے اُنھیں تاجک قرار دیتے ہوئے علاقے کو تاجکستان بھی تحریر کیا ہے۔ تاہم، مؤرخین متفّق ہیں کہ آپؒ کا والد کی جانب سے سلسلۂ نسب، حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ 

آپؒ کا خاندان اِس خطّے میں خراسان کی فتح کے موقعے پر آباد ہوا تھا۔ آپؒ کی دادی خوارزم شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، البتہ اِس پر اختلاف ہے کہ وہ کس کی صاحب زادی تھیں؟ نانی کے متعلق روایت ہے کہ وہ شمس الائمہ، سرخسیؒ کی بیٹی تھیں۔ آپؒ کا نام، محمّد تھا، جب کہ جلال الدّین، خداوندگار، مولانا رومی اور مولانائے روم کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپؒ اپنے والدین کی تیسری اولاد تھے۔ سب سے بڑی بہن، فاطمہ اور پھر بھائی، علاء الدّین تھے۔ والد، شیخ بہاء الدّین ولدؒ اپنے زمانے کے ایک بلند پایہ عالم اور صوفی بزرگ تھے۔

عظیم باپ کا عظیم بیٹا

مولانا جلال الدّین کے والد، شیخ بہاء الدّین ولدؒ بہت بڑے عالمِ دین اور صاحبِ روحانیت تھے۔ علمی بلندی کے سبب اُنھیں’’ سلطان العلماء‘‘ کہا جاتا تھا۔ روایت ہے کہ ایک رات تین سو علماء خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرّف ہوئے، جس میں شیخ بہاء الدّین ؒکو’’ سلطان العلماء‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ صبح ہوئی ،تو ہر عالم یہ خواب بتانے کے لیے بہاء الدّینؒ کی جانب چل پڑا، یوں وہاں تین سو علماء جمع ہوگئے، جب کہ اُسی رات خود شیخ بہاء الدّینؒ نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا، تو اُنھوں نے علماء کے کچھ کہنے سے قبل ہی خواب بیان کردیا۔ 

اس کے بعد سے’’ سلطان العلماء‘‘ کا لقب اُن کے نام کا حصّہ بن گیا۔ آپؒ اپنے علاقے میں مرجّعِ خلائق تھے کہ لوگ علمی و روحانی رہنمائی کے لیے اُن کی طرف رجوع کرتے، جس کے سبب سلطان خوارزم شاہ اُنھیں اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگا، حالاں کہ وہ آپؒ کا معتقد بھی تھا۔ بعض افراد نے بھی اُسے بھڑکانے میں پورا پورا کردار ادا کیا۔ اِس پر شیخ بہاء الدّین ؒنے بلخ چھوڑنے کا فیصلہ کیا،تو مُلک میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔

اِن حالات میں آپؒ بادشاہ کی درخواست پر خاموشی سے وہاں سے نئی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔ پانچ سالہ جلال الدّین بھی اس قافلے کا حصّہ تھا۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ اُنھوں نے تاتاریوں کی یلغار کے سبب بلخ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے پانچ، چھے سال بعد، یعنی 617 ہجری میں چنگیز خان نے تباہ وبرباد کردیا تھا۔ بہرحال، جب وہ نیشا پور( ایران) پہنچے، تو معروف صوفی بزرگ، حضرت فرید الدّین عطّارؒ سے ملاقات ہوئی، جس کے دَوران اُنھوں نے جلال الدّین کے اعلیٰ مقام کی پیش گوئی کرتے ہوئے شیخ بہاء الدین ؒکو اُن کا خاص خیال رکھنے کو کہا اور اپنی کتاب ’’اسرار نامہ‘‘ جلال الدّین کو بطور تحفہ دی، جسے وہ آخری عُمر تک بہت عقیدت سے ساتھ رکھا کرتے تھے۔ 

وہاں سے قافلہ بغداد پہنچا، تو حضرت شیخ شہاب الدّین سہروردیؒ نے استقبال کیا، جب کہ خلیفہ نے 3ہزار دینار ہدیہ کیے، مگر شیخ بہاء الدّینؒ نے قبول نہیں کیے، البتہ، حضرت سہروردیؒ کی خواہش پر جمعے کا خطبہ دیا، جس میں تاتاریوں کے حملے میں بغداد کے غارت ہونے اور ایک خلیفہ( مستعصم) کے قتل کی پیش گوئی کی۔(جو درست ثابت ہوئی)۔بعدازاں، کوفہ سے ہوتے ہوئے مکّہ معظّمہ گئے اور فریضۂ حج ادا کیا۔

یوں جلال الدّین کے حصّے میں بھی یہ سعادت آ گئی۔پھر قافلہ دمشق اور وہاں سے آقشہر( آذربائیجان) پہنچا، جہاں شیخ بہاء الدّین کے لیے بادشاہ کی بہن نے ایک مدرسہ تعمیر کروایا اور وہ چار برس تک وہاں درس و تدریس میں مشغول رہے۔اس کے بعد قونیہ کے قریب، لارندہ آگئے اور سات برس وہیں رہے، اِسی دوران 18 سالہ مولانا جلال الدّین کی سمرقند کے ایک معزّز اور صاحبِ حیثیت شخص، خواجہ شرف الدّین سمرقندی کی بیٹی، گوہر خاتون سے شادی ہوئی۔

جب سلطان علاء الدّین کیقباد کو شیخ بہاء الدّین ؒکے لارندہ میں قیام کی اطلاع ملی، تو اُنھوں نے وہاں کے گورنر کو ایک خط لکھا، جس میں نہ بتانے پر اُن کی سخت سرزنش کی اور حکم دیا کہ حضرت شیخؒ کے قونیہ آنے کے انتظامات کیے جائیں، جب کہ شیخ بہاء الدّینؒ سے بھی قونیہ منتقل ہونے کی درخواست کی، جس پر وہ اہلِ خانہ اور دیگر ہم راہیوں کے ساتھ قونیہ پہنچے، تو بادشاہ استقبال کے لیے محل سے باہر آیا۔ یہاں آپ ؒکے لیے ایک بڑا مدرسہ بنایا گیا اور اخراجات کے لیے جائداد بھی وقف کی گئی۔تاہم، شیخ بہاء الدّین دو سال بعد ہی80 برس کی عُمر میں انتقال کرگئے۔

تعلیم و تربیت

مولانا جلال الدّین رومیؒ ایک عظیم المرتبت والد کے زیرِ سایہ جوان ہوئے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ’’ اگر میرے والد چند برس اور زندہ رہتے، تو مَیں شمس تبریز کا محتاج نہ ہوتا۔‘‘مولانا رومیؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد، شیخ بہاء الدّینؒ سے حاصل کی، پھر سیّد برہان الدّین ترمذیؒ کے سامنے زانوئے تلمّذ طے کیے، جو اُن کے والد کے خلیفہ اور ممتاز عالمِ دین تھے۔ والد کا انتقال ہوا تو 24 برس کے تھے، مگر حصولِ علم کا شوق ابھی باقی تھا، لہٰذا اُس دور کے ایک بڑے علمی مرکز، دمشق چلے گئے۔ 

وہاں محی الدّین ابنِ عربیؒ، شیخ سعدالدّین حمویؒ اور شیخ صدر الدّین قونویؒ وغیرہ سے بھی صحبتیں رہیں۔ حلب اور دمشق کے علماء سے تفسیر، حدیث اور فقہ کا درس لیا اور اُس علمی کمال کو پہنچے کہ مشکل مسائل کے حل کے لیے آپؒ ہی کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ ابھی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا کہ اُن کے استاد اور والد کے خلیفہ، سیّد برہان الدّینؒ نے اُنھیں قونیہ بلوا لیا تاکہ وہ والد کی مسند پر جلوہ افروز ہوں اور مدرسے کا نظم و نسق سنبھالیں۔اُنھوں نے9 برس تک مولانا رومی ؒکی روحانی تربیت بھی کی۔

علمی مقام و مرتبہ

مولانا جلال الدّین رومیؒ بہت بڑے عالم دین، بے مثال فقیہ، مدرّس اور اعلیٰ پائے کے خطیب تھے۔اُن کے مدرسے میں چار سو سے زاید طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جب کہ وہ دیگر مدارس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب تاتاریوں کے حملوں کے سبب علماء اور صوفیا کی ایک بڑی تعداد قونیہ کا رُخ کر رہی تھی اور یہ شہر ایک علمی مرکز کا روپ دھار چُکا تھا، مگر ان علماء میں مولانا جلال الدّین کی ایک الگ ہی شان تھی، وہ بڑے ٹھاٹ باٹ سے رہا کرتے ، جب مدرسے سے نکلتے، تو طلبہ اور امراء اُنھیں گھیرے ہوتے۔ لوگ فتویٰ کے لیے اُن کی طرف رجوع کرتے۔بادشاہ اور امراء تک رسائی تھی اور وہ اُن کے پاس حاضری کو اپنے لیے سعادت سمجھتے۔مناظروں میں کوئی اُن کے سامنے ٹھہر نہ پاتا۔نیز، عوامی اجتماعات سے بھی خطاب کیا کرتے، جس کی بہت شہرت تھی۔

روحانی انقلاب

تقریباً 12، 15 سال تک درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہا، مگر پھر ایک روز زندگی نے ایسا پلٹا کھایا کہ مولانا جلال الدّین، مولائے رومؒ بن گئے۔ خود فرماتے ہیں،’’ مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم …تا غلام شمس تبریز نہ شُد‘‘ یعنی مَیں کبھی مولائے روم نہ بن سکتا، جب تک شمس تبریز کا غلام نہ ہوا۔ہوا یوں کہ ایک روز ایک مجذوب صفت شخص سے اُن کی ملاقات ہوئی، جس نے اُنھیں اپنا اسیر بنالیا اور پھر مولانا کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا اور یہی وہ باب ہے، جس نے اُنھیں دائمی شہرت بخشی۔یہ اُس وقت کی بات ہے، جب وہ40 برس کے تھے۔اِس سلسلے میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایک روز مدرسے میں تالاب کے کنارے طلبہ کو درس دے رہے تھے کہ ایک مردِ قلندر وہاں آیا اور پوچھا’’ این چیست؟‘‘(یہ کیا ہے؟)مولانا نے جواب دیا،’’ ایں آں علم است کہ تو نمی دانی‘‘ یعنی یہ وہ علم ہے، جو تم نہیں جانتے۔یہ سُنتے ہی اُس مجذوب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، کتابیں اُٹھائیں اور پانی سے بَھرے تالاب میں پھینک دیں۔ اُس زمانے میں ہاتھ سے کتابیں لکھی جاتی تھیں اور نسخے بہت مشکل سے ملتے تھے، لہٰذا کتابیں پانی میں گُھلتے دیکھ کر غم و غصّے سے سب کا بُرا حال ہوگیا ۔

سب اُس شخص پر چڑھ دوڑے۔اس پر اُس نے تالاب میں ہاتھ ڈالا اور کتابیں نکال کر سامنے رکھ دیں۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ وہ پہلے کی طرح خشک اور درست حالت میں تھیں۔مولانا نے حیرت سے پوچھا،’’ این چیست؟ جواباً مجذوب نے کہا،’’ ایں آں علم است کہ تو نمی دانی‘‘ یہ وہ علم ہے، جو تم نہیں جانتے۔اس کے بعد مولانا اُن کے ساتھ ہوگئے۔تاہم، ایک دوسری روایت کے مطابق، جو زیادہ درست ہے، ایک بار شمس تبریزؒ نے دُعا مانگی کہ’’ الہٰی! کوئی ایسا بندہ ملتا، جو میری صحبت کا متحمّل ہوسکتا۔‘‘ اس پر اُنھیں غیب سے روم( اُس زمانے میں قونیہ وغیرہ کو روم کہا جاتا تھا) جانے کا اشارہ ہوا۔وہاں پہنچ کر ایک سرائے میں ٹھہرے۔

جب مولانا جلال الدّین رومیؒ حسبِ معمول طلبہ اور امراء کے جَلو میں وہاں سے گزرے، تو شمس تبریزؒ ایک دَم اُن کے سامنے آگئے اور اُن سے کچھ ایسے سوالات کیے، جو روحانی اسرار و رموز سے بھرپور تھے۔ مولانا رومیؒ نے اپنی دانست میں اُن کے جواب دیے، لیکن جب شمس تبریزؒ نے اُن کے اسرار بیان کیے، تو وہ ہکّا بکا رہ گئے۔نیز، شمس تبریزؒ کی روحانی توجّہ نے اُنھیں کچھ ایسا گھائل کیا کہ پھر اُنہی کے ہوکے رہ گئے اور اُنھیں اپنے ساتھ مدرسے لے آئے۔ مختلف روایات کے مطابق وہاں40 روز، تین ماہ یا چھے ماہ تک دونوں بزرگ صلاح الدّین نامی شخص کے حُجرے میں چلّہ کش رہے، جس کے دَوران صاحبِ حُجرہ کے علاوہ کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔ 

اب مولانا تھے اور شمسؒ ، باقی تمام مشاغل چُھوٹ گئے۔ درس و تدریس کا سلسلہ منقطع ہوا، تو وعظ کہنا بھی چھوڑ دیا۔یہ صُورتِ حال طلبہ کے ساتھ اُن کے معتقدین اور عام شہریوں کے لیے بھی حیران کُن تھی، اِس لیے وہ شمس تبریزؒ کے خلاف ہوگئے کہ اس دیوانے نے جانے مولانا پر کیا سحر کردیا ہے۔ جب بات بڑھی، تو ایک روز شمس تبریزؒ چُپکے سے دمشق چلے گئے۔ جب صبح مولانا رومیؒ کو اُن کے یوں غائب ہونے کا علم ہوا، تو جُدائی کے صدمے سے بے حال ہوگئے۔ دیوانہ وار اُنھیں اِدھر اُدھر ڈھونڈتے پِھرتے۔ سب سے لاتعلق ہوکر خود کو گھر تک محدود کرلیا۔

اِس پر لوگ مزید پریشان ہوگئے کہ اُن کے خیال کے برعکس، شمس تبریزؒ کے جانے کے بعد مولانا کی حالت بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئی اور وہ اُن سے ملاقات تک نہیں کر رہے تھے۔ اِس پر اُنھوں نے مولانا سے معافی مانگی، جب کہ اِسی دَوران یہ معلوم ہوگیا کہ شمس تبریزؒ دمشق میں ہیں، لہٰذا، مولانا رومیؒ نے اپنے بیٹے، سلطان ولد کو وہاں بھیجا اور وہ اُنھیں اپنے ساتھ قونیہ لے آئے۔ اب بھی مولانا جلال الدینؒ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر اُن ہی کے آگے پیچھے رہتے۔ہر وقت اُن ہی کا دَم بَھرتے۔ کچھ دنوں بعد شمس تبریرؒ کی شادی ہوگئی اور مولانا نے اپنے گھر کے قریب ہی اُن کی رہائش کا انتظام کردیا۔ 

معاملات ٹھیک چل رہے تھے، مگر پھر مولانا کے چھوٹے بیٹے، علاء الدّین اور شمس تبریزؒ کے درمیان گھر کے قریب سے گزرنے کے معاملے پر تنازع شروع ہوگیا، جو لوگ شمس تبریزؒ کو ناپسند کرتے تھے، اُنھوں نے بھی موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے علاء الدّین کو خُوب بھڑکایا۔ تنازعے نے شدّت اختیار کی، تو شمس تبریزؒ ایک روز اچانک غائب ہوگئے اور پھر کبھی اُن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کئی سوانح نگاروں کا خیال ہے کہ اُنھیں علاء الدّین نے شہید کردیا تھا۔تاہم، اِس ضمن میں یہ روایت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ شمس تبریزؒ کی اہلیہ چند روز بیمار رہ کر انتقال کرگئی تھیں اور اُنھیں اُن سے بے حد محبّت بھی تھی، اِسی سبب وہ شکستہ دل لیے کہیں چلے گئے۔جب کہ روحانی حلقوں میں یہ بھی رائے ہے کہ اُنھیں جو کام تفویض ہوا تھا، چوں کہ وہ مکمل ہوگیا تھا، یعنی مولانا کی روحانی تربیت، اِس لیے وہ وہاں سے چلے گئے۔ واللہ اعلم باالصواب۔ 

بہرکیف، شمس تبریزؒ کے یوں غائب ہونے پر مولانا رومیؒ کی حالت ایک بار پھر غیر ہوگئی۔ اُنھوں نے مرشد کی تلاش شروع کردی۔ اِس مقصد کے لیے اپنے بیٹے، سلطان ولد کو دمشق بھیجا اور خود بھی دو مرتبہ وہاں گئے۔لوگ حیران تھے کہ ایک عالم فاضل شخص ایک دیوانے کو یوں کیوں ڈھونڈتا پِھرتا ہے؟ تلاش کا یہ سلسلہ ناکام رہا اور پھر مولانا کی طبیعت میں بھی کسی حد تک ٹھہراؤ آگیا۔ تاہم، اُن میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ وہ مولانا جلال الدّین، جو کبھی سماع کے خلاف تھے،پھر سماع ہی اُن کی زندگی بن گیا۔

خود اشعار کہتے اور دوسروں سے بھی سُنتے۔ جوشِ جذبات میں اُٹھ کھڑے ہوتے اور جھومنے لگتے۔ آج کل اُن کے معتقدین جو مخصوص رقص کرتے ہیں، وہ اُن ہی کی پیروی ہے۔ تاہم، یہاں یہ بات واضح رہے کہ مولانا رومیؒ اِس حالت میں بھی باقاعدگی سے نماز ادا کرتے اور خادمین کو یہ ہدایت تھی کہ خواہ وہ کسی بھی حال میں ہوں، جب کوئی فتویٰ لینے آئے، تو اُنھیں فوراً متوجّہ کیا جائے۔ 

خادمین قلم، دوات ساتھ رکھتے اور جوں ہی کوئی فتویٰ لینے آتا، مولانا اُس کا جواب لکھوا دیتے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ حکومت کی جانب سے فتویٰ نویسی پر ماہانہ 15 دینار وظیفہ مقرّر تھا اور مولانا رومیؒ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی روزی حرام نہیں کرنا چاہتے۔ لہٰذا، اس رقص یا سماع کو شرعی پابندیوں سے فرار کی بنیاد بنانا، مولانا رومیؒ کی تعلیمات اور شخصیت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ (باقی آئندہ)

سنڈے میگزین سے مزید