مصنّف: محمد اقبال دیوان
صفحات: 271، قیمت: 700 روپے
ناشر: بُک کارنر، جہلم۔
اِس ناول کی کہانی نیلم اور ارسلان آغا کے گرد گھومتی ہے۔ نیلم عرف نیلماں کا تعلق کہروڑ پکّا( پنجاب) سے ہے اور وہ برطانیہ میں بیاہی گئی ہے، جب کہ اسلام آباد میں مقیم ارسلان اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز ہے۔ اِن دونوں کی پہلی ملاقات شیپل ائیرپورٹ، ایمسٹرڈیم میں ہوتی ہے، جہاں وہ پرواز مِس ہونے کے سبب ملتے ہیں۔ رات بھرکی گپ شپ نے تعارف سے بڑھ کر محبّت کی صُورت اختیار کرلی، جو بعدازاں، تُرکی کی سیّاحت کے دَوران مزید پروان چڑھی۔
نیلماں ایک شادی شدہ خاتون ہے، مگر اُس کی گھریلو زندگی مسائل سے دوچار ہے، جس کا ایک سبب تو شوہر کی بے التفاتی ہے، پھر سسرالیوں کے رویّوں نے بھی گھر برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نیلم یہی مسئلہ نمٹانے پاکستان جا رہی تھی، مگر ائیرپورٹ ہی پر اُسے موبائل فون پہ شوہر کی طرف سے طلاق کا میسیج مل جاتا ہے۔نیلم نے ارسلان آغا کے کردار کی جانچ پرکھ کے لیے اُسے کئی امتحانوں سے گزارا،جن میں وہ کام یاب بھی رہا۔ پھر دونوں کچھ وقت تُرکی میں گزار کر پاکستان پہنچ گئے۔ کتاب کے یہاں تک کے حصّے کی کہانی کسی حد تک متاثر کُن ہے۔
مصنّف نے جس مہارت سے انسانی جذبات کی عکّاسی کی، اُس سے اُن کے وسیع مطالعے، گہرے مشاہدے اور اظہار پر قدرت کا اندازہ ہوتا ہے، خاص طور پر نیلم کی سہیلی، گڈّی کی زبانی انسانی نفسیات کی جو باریکیاں بیان کی گئیں۔پاکستان آکر نیلم سیاست میں قدم رکھتی ہے۔ چوں کہ والد ریٹائرڈ فوجی افسر ہے، اِس لیے اُس دور کے فوجی حکم ران کی سرپرستی میں قائم حکومت میں نیلم کے لیے راہیں کُھلتی جاتی ہیں اور وہ قومی اسمبلی کی رُکنیت حاصل کرنے کے ساتھ وزارت پر بھی متمکن ہو جاتی ہے۔
بعدازاں،دولت اور حصولِ اختیار کے لیے وزراء کی ناجائز خواہشات کی تکمیل سمیت ہر طریقہ استعمال کرتی ہے۔ اِسی دوران اُس کی اپنے کزن سے شادی بھی ہوتی ہے، مگر اس عرصے میں ارسلان آغا سے بھی تعلقات قائم رہتے ہیں۔یہاں سے ناول، مصنّف کی گرفت سے بالکل نکل گیا ہے۔کہانی کسی کٹی پتنگ کی مانند اِدھر اُدھر بھٹکتی ملتی ہے اور ابتدا میں ناول کا جو تاثر قائم ہوا تھا، یک سر زائل ہوتا محسوس ہوتا ہے۔نیز، کہانی کے بعض مقامات پر جو جنس کو زبردستی ٹھونسا گیا ہے، اُس کے سبب بھی مطالعے میں اُلجھن ہوتی ہے۔بہرحال، وقت گزاری کے لیے اسے خریدا اور پڑھا جاسکتا ہے۔