امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے، امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو کے بعد اسرائیلی فوج ہائی الرٹ ہے، امریکا کے ساتھ ایران پر حملوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، ممکنہ جنگ کی صورت میں پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چُناؤ کرلیا۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے بھی مشاورت کریں گے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جرمنی میں امریکی اڈوں سے اسلحہ اور گولہ بارود لے کر درجنوں امریکی کارگو طیارے تل ابیب پہنچے ہیں۔
اسرائیل کے چینل 13 نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ترسیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق مشاورت تیز کردی، اتوار کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، ایک روز پہلے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے اہم ارکان سے تبادلہ خیال کیا۔
سی این این کے مطابق جنگ کے ممکنہ آغاز کی صورت میں پینٹاگون نے ایران میں توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔