• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھ پر کئی تفتیشی افسران نے تشدد کیا، میرا 100 دن کا ریمانڈ لینا ہے تو لے لیں: انمول عرف پنکی

منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی نے کراچی کی مقامی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس تشدد کا الزام عائد کر دیا۔

بغدادی تھانے میں درج قتل کیس میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو کراچی جوڈیشل کمپلیکس میں قائم جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزمہ انمول عرف پنکی کی پولیس تشدد کی شکایت پر عدالت نے استفسار کیا کہ  آپ پر اگر تشدد ہوا ہے تو اس سے قبل عدالت میں شکایت کی؟ کیا وکیل نے ملزمہ کا میڈیکل کرانے کی درخواست کی ہے؟

انمول عرف پنکی نے کہا کہ مجھے مارا گیا ہے، مجھ پر ایک نہیں کئی تفتیشی افسران نے تشدد کیا ہے، میرا 100 دن کا ریمانڈ لینا ہے تو لے لیں۔

کراچی کی مقامی عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت سے قبل تفتیشی افسر نے کمرہ عدالت میں پنکی کو بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ملزمہ پولیس ریمانڈ میں ہے، باہر نکل کر جس سے بات کرنا ہے کرے، ابھی آپ اپنے وکیل سے بات کریں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صرف اس کیس سے منسلک وکلاء ہی کمرہ عدالت میں رکیں باقی سب باہر جائیں۔

سماعت شروع ہوتے ہی سادہ لباس اہلکاروں نے صحافیوں سے تلخ کلامی کی، ان کو دھکے دیے، کمرہ عدالت میں شور شرابا مچ گیا۔

قومی خبریں سے مزید