عمومی طور پر بال رنگنے کا عمل، کیمیکلز کی باہمی آمیزش سے تیار کردہ ہیئر کلر کے ذریعےانجام پاتا ہے،جو نہ صرف بالوں پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے ، بلکہ ان کی جڑیں تک کم زور کردیتا ہے۔ تاہم، اگر ہیئر ڈائی کے بعد مساوی مقدار میں عرقِ گلاب، شہد اور روغنِ زیتون سے تیارکردہ کنڈیشنراور فارمولیٹڈ شیمپو استعمال کیا جائے، تو بال چمک دار اور نرم ملائم رہتے ہیں۔دراصل، ان کیمیکلز میں مصنوعی طور پر لحمیات اور چربی (lipids)وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں، جو قدرتی طور پر بھی بالوں میں موجود ہوتے ہیں، تو ان کیمیکلز کے لگانے سے بالوں کی اندرونی اور بیرونی ہیئت تبدیل ہوجا تی ہے اوربال باریک ہوکر جلد ٹوٹنے لگتے ہیں۔
ان کی جڑیں کم زور ہوجاتی ہیں اور وہ جھڑنا بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ عموماً بال عارضی طور پر، مخصوص عرصے یا پھرمستقل بنیاد پرڈائی کروائے جاتے ہیں اور پھر اسی مناسبت سے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ مستقل طور پر بال رنگنے کے لیے جو رنگ کے مرکب استعمال کیے جاتے ہیں، ان میں امونیا ،ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور پی پی ڈی(p-Phenylenediamine)کی آمیزش ہوتی ہے۔
واضح رہے، امونیا پروٹین کی تہہ ختم کرتاہے، تاکہ رنگ بالوں کے اندرسرایت ہوکر اس کے تنےکو رنگ دار کرسکے، جب کہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ قدرتی رنگ کاٹ کرمصنوعی رنگ کو اس کا جزو بنانے کا عمل انجام دیتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ چاہے آپ بال عارضی طور پر ڈائی کریں، کچھ عرصے کے لیے یا مستقل بنیاد پر، ہیئر کلرز بالوں کی بیرونی تہہ کیوٹیکل کی پروٹین ختم اور بالوں کی چکنائی تلف کر دیتے ہیں۔
دواسازی کی ایک آرگنائزیشن، سی آر او(Contract Research Organization) کی تحقیق کے مطابق سُرخ رنگ الرجن(Allergen) سے ڈائی کیا گیا لباس، جِلد سے چُھو جانے کے نتیجے میں بعض افراد کو وَرم یا پھر Contact Dermatitis کی شکایت ہوسکتی ہے۔بعض کیسز میں اس کے مضر اثرات جِلد کے ذریعے خون، بالوں اور جگر پر اثر انداز ہو کر مختلف مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حاملہ کو تو یہ رنگ ہرگز استعمال نہیں کرناچاہیے، کیوں کہ اعضاء کی Congenital-Abnormalitiesکی وجہ سے بچّہ کسی پیدایشی نقص کے ساتھ پیدا ہوسکتا ہے۔مزید برآں، ہائیڈروجن پر آکسائیڈکی وجہ سے بال کی بیرونی اور اندرونی سطحیں خراب ہوجاتی ہیں۔
متعدّد ہیئر کلرز میں EndocrineاورDisrupting Aromatic Amines And Toluene Compoundsپائے جاتے ہیں، جو کہ ہارمونز پیدا کرنے والے غدود کے افعال میں شامل ہوکر بریسٹ اور دیگر اعضا ءکے کینسرز، پھیپھڑوں میں سوزش اور دَمے کا باعث بن جاتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ کپڑے ڈائی کرانے والی پراڈکٹ خریدنے سے قبل اس پر چسپاں لیبل پڑھ لیا جائے کہ کہیں اس میں متذکرہ کیمیکلز تو شامل نہیں۔
عارضی یا مختصر مدّت کے ہیئر کلرز سے بالوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچتا ، کیوں کہ چند بار شیمپو کرنے سے کیمیکلز دُھل جاتے ہیں، البتہ مستقل طور پر رنگت بدلنے والے ہیئر کلرز بالوں کی اندرونی اور بیرونی ساخت کی خرابی کا سبب بنتے ہیں،جب کہ منہدی کا استعمال نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا، بشرطیکہ اس میں کیمیکلز شامل نہ ہوں۔
اگر آپ ڈائی کے بعد اپنے بالوں کی اصل رنگت برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو فارمولیٹڈ شیمپو استعمال کریں، دھوپ میں نکلیں تو سَر دوپٹے، اسکارف، کیپ یا رومال سے ڈھانپ لیں، تاکہ بالوں کو شعاؤں کے مضر اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ اگر بالوں کا رنگ بدلنا بہت ہی ضروری ہو، تو ہیئر کلر لگانے میں وقفہ دیں۔مطلب یہ کہ ہر ہفتے نہیں، بلکہ کئی ہفتوں بعد استعمال کیا جائے، بال دھونے کے بعدکنڈیشنر کا استعمال لازم کرلیں۔
گھر سےباہر نکلنے کے علاوہ کارخانے، فیکٹریز اور باورچی خانے میں کام کے دوران بالوں کو گرمی سے بچانے کا اہتمام کریں۔ بالوں کو کلورین ملے پانی سے بچائیں، تیراکی کے دوران بال کیپ سے ڈھانپ لیں۔ ہیئر کلر استعمال کرنے سے قبل کان کے عقب یا کہنی کے بالوں پر (کم از کم ایک سینٹی میڑ تک) لگا کر دیکھ لیں، اگر جلن، سُوجن، خارش، دُکھن یا جِلد کی رنگت تبدیل ہونے جیسی علامات فوری طور پر یا کچھ دیر بعد ظاہر ہوں، تو اس کے استعمال سے گریز کریں۔