• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نئی حکومت بہتر پالیسیز اختیار کرتے ہوئے خطّے کی ترقّی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
نئی حکومت بہتر پالیسیز اختیار کرتے ہوئے خطّے کی ترقّی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

بنگلا نیشنل پارٹی نے طارق رحمان کی قیادت میں مُلک کے حالیہ انتخابات میں واضح برتری حاصل کی۔ بی این پی کی یہ کام یابی کوئی حیرت انگیز بات نہیں، کیوں کہ عوامی لیگ پر پابندی کے بعد وہی ایک بڑی سیاسی جماعت تھی، جو میدان میں موجود تھی۔ پھر ماضی میں بھی عوامی لیگ اور بی این پی ہی اقتدار سنبھالتی رہیں۔ گو، اِس مرتبہ تبدیلی نوجوانوں کی مہم کی بدولت آئی، جس کے ذریعے حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔ 

طارق رحمان، جو بی این پی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے صاحب زادے ہیں، دو ماہ قبل خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے پارٹی کی قیادت سنبھال چُکے تھے۔ اُن کا تعلق اُن طاقت وَر سیاسی خانوادوں سے ہے، جو بنگلا دیش پر حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ موروثی سیاست کا تسلسل ہے، حالاں کہ اِسی سوچ کے خلاف انقلاب آیا تھا۔

بی این پی نے 300 کے ایوان میں سے212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ اِس مرتبہ جماعتِ اسلامی، بنگلا دیش بہتر کارکردگی دِکھاتے ہوئے دوسرے نمبر پر رہی، جسے77نشستوں پر کام یابی ملی۔ نوجوانوں کی پارٹی کو، جو احتجاج کرنے والوں پر مشتمل ہے، چھے نشستیں مل پائیں۔ایوان کی باقی50نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، جو پارٹی تناسب کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔ طارق رحمان نے فتح کے بعد اپنی بنیادی پالیسی’’بنگلا دیش فرسٹ‘‘ قرار دی۔

اُنھوں نے اپنی وکٹری اسپیچ میں عوام سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’ہمارے راستے اور خیالات مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن قومی اتحاد مُلک کی ضرورت ہے۔‘‘ پاکستان کے وزیرِ اعظم، میاں شہباز شریف نے وزیرِ اعظم طارق رحمان کو مبارک باد دیتے ہوئے مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تاریخی، کثیر الجہتی اور برادارانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے اور ترقّی کے مشترکہ اہداف آگے بڑھانے کے لیے بنگلا دیش کی نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔ جنوبی ایشیا کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو بی این پی کے دَور میں ہمیشہ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات اچھے رہے ہیں، جب کہ بھارت کے ساتھ اس کی ورکنگ ریلیشنز کی نوعیت رہی ہے۔

اگست2024ء میں ایک خونی انقلاب کے بعد عوامی لیگ کی وزیرِ اعظم، شیخ حسینہ واجد کو مُلک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینی پڑی۔ عوامی لیگ کی حکومت ہمیشہ بھارت کے قریب اور پاکستان مخالف رہی ہے۔ ظاہر ہے، اب بی این پی کا اقتدار میں آنا پاک، بنگلا دیش تعلقات کے لیے اچھی خبر ہے۔

طارق رحمان نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان اور بھارت دونوں کے وزرائے اعظم کو شرکت کی دعوت دی، جس پر تقریب میں دونوں ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ بنگلا دیش کو2024 ء کے انقلاب کے بعد بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معیشت، اندرونی استحکام اور امن و امان وغیرہ شامل ہیں۔ طارق رحمان کو ان پر فوری توجّہ دینی پڑے گی اور اُنہیں طلبہ کو بھی مطمئن رکھنا ہوگا، جو اس انقلاب کا پیش خیمہ ہیں۔

بنگلا دیش، جنوبی ایشیا کا تیسرا بڑا مُلک ہے اور اس کی آبادی 16کروڑ سے زیادہ ہے۔ واضح رہے، پاکستان کی آبادی1971ء میں بنگلا دیش سے کم تھی، اِس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں آبادی بڑھنے کی رفتار بنگلا دیش سے دُگنی ہے۔ بنگلا دیش کی سرحدیں بھارت، چین اور میانمار سے ملتی ہیں، جب کہ خلیجِ بنگال اس کی آبی سرحد ہے، جو بھارت کے ساتھ مشترک ہے۔ بنگلا دیش1971ء میں وجود میں آیا، جب وہ شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں پاکستان سے الگ ہوا۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ ہے۔

اِن دونوں خطّوں کے عوام نے مشترکہ جدوجہد سے 1947ء میں پاکستان بنایا تھا۔ آج یہ دونوں مسلم دنیا کے اہم ممالک میں شامل ہیں، تاہم بنگلا دیش نے خارجہ امور میں ہمیشہ لوپروفائل ڈپلومیسی اپنائی۔ وہ مسلم بلاک میں کبھی زیادہ فعال نہیں رہا۔ جغرافیائی طور پر بنگلا دیش جنوب مشرقی ایشیا میں زیادہ فعال ہے، جب کہ پاکستان مغربی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔

عوامی لیگ کے خلاف2024 ء میں شدید مظاہرے ہوئے، جنہیں وزیرِ اعظم حسینہ واجد نے طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، جو ناکام رہی۔ اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں1400افراد ہلاک ہوئے۔ مظاہروں کی قیادت بنگلا دیشی نوجوان کر رہے تھے۔ حسینہ واجد، جو بنگلا دیش کے بانی، شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہیں، مُلک سے فرار ہوگئیں اور اُنھیں بھارت میں پناہ لینی پڑی۔ فوج نے نوجوانوں کی پُشت پناہی کی اور ایک عبوری حکومت قائم کی گئی، جس کے سربراہ نوبیل انعام یافتہ، محمّد یونس تھے۔

محمّد یونس بنگلا دیش گرامین بینک کے بانی ہیں۔ اُنھیں غریبوں کے لیے اہم ماڈل بنانے کی وجہ سے شہرت اور نوبیل انعام ملا۔ دو سالہ عبوری حکومت کو معیشت اور امن و امان کے مسائل کا سامنا رہا۔ اس حکومت کے دور میں پاک، بنگلا دیش تعلقات نے پلٹا کھایا اور محمّد یونس کی کئی بار شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔ دونوں ممالک میں 14 سال بعد فضائی رابطہ بحال ہوا۔ 

پاک،بنگلا دیش بڑھتے تعلقات جہاں مودی حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہیں، وہیں بنگلا دیش میں بھارت مخالف جذبات کے بڑھتے رجحان نے بھی تشویش پیدا کردی۔ اس طرح بھارت کو مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر تناؤ کا سامنا رہا۔ بنگلا دیش میں حسینہ واجد کو پھانسی کی سزا سُنائی گئی اور اُن کی واپسی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے، جو بھارت کے لیے نیا دردِ سر ہے۔

بنگلا دیش کے لیے انقلابات کوئی نئی چیز نہیں۔ اس کا وجود میں آنا ایک انقلاب ہی کی وجہ سے ممکن ہوا، جس میں بھارت نے پاکستان کو دو لخت کرنے کے لیے سیاسی اور فوجی مداخلت کی۔ شیخ مجیب مُلک کے بانی سربراہ ہوئے، لیکن1975 ء میں اُنھیں ایک فوجی انقلاب میں قتل کردیا گیا۔ اِس کے بعد بھی کئی فوجی بغاوتیں ہوئیں۔

پھر جنرل ضیا الرحمٰن نے اقتدار سنبھالا، مگر وہ بھی1981 ء میں فوجیوں کے ہاتھ قتل ہوئے۔ یہی ضیا الرحمٰن بی این پی کے بانی تھے۔ بعدازاں، جنرل حسین محمّد ارشاد نے مارشل لا لگا کر دس سال حکومت کی، لیکن اُنہیں1990ء میں ایک عوامی انقلاب نے اقتدار سے ہٹا دیا۔ پھر اگلے تیس سال وہ جمہوری دَور رہا، جسے’’بیگمات کی جنگ‘‘ کہا گیا، جس میں بی این پی اور عوامی لیگ کی سربراہان حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیا کے درمیان اقتدار کی باری باری تبدیلی دیکھی گئی اور حکومتوں کی اِسی تبدیلیوں نے بنگلا دیش کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیے رکھا۔

وزیرِ اعظم، طارق رحمان سیاست میں نئے نہیں، کیوں کہ وہ اپنی والدہ کے دورِ اقتدار میں اپنی پارٹی کی پالیسی سازی اور سیاسی رابطوں میں حصّہ لیتے رہے۔نوجوان، جو انقلاب کی بنیاد تھے، چاہتے ہیں کہ مُلک میں نئی اور کرپشن سے پاک جمہوریت فروغ پائے۔ 

یاد رہے، حسینہ واجد اور اُن کی پارٹی پر کرپشن، اقربا پروری اور انتخابات میں دھاندلی کے بڑے پیمانے پر الزامات لگے۔ یہ ایک مثبت بات ہے کہ نوجوانوں کے خون ریز انقلاب کے بعد دو سال ہی میں انتخابات ہوگئے اور ایک ایسی سیاسی جماعت کو اقتدار ملا، جو حکومت چلانا جانتی ہے اور سیاست بھی اُس کے لیے نئی نہیں ہے۔

بیگم خالدہ ضیا کے ادوار میں پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں گرم جوشی رہی اور توقّع ہے کہ اب پھر اسی کا اعادہ ہوگا۔ دونوں ممالک میں سیاسی اور مذہبی ہم آہنگی مشکل نہ ہوگی، کیوں کہ دونوں مسلم اُمّہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اِس وقت وہاں جو حکومت بنی ہے، وہ اسلامی روایات کو اپنی بنیاد مانتی ہے۔ پھر دونوں جنوبی ایشیا میں بھارت کے بڑھتے کردار سے نالاں ہیں اور برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ 

نئی بنگلادیشی حکومت نے خطّے کے اہم فورم، سارک کو، جسے بھارتی ہٹ دھرمی نے غیر فعال کر رکھا ہے، متحرّک کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ’’سارک‘‘ پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ اور افغانستان پر مشتمل ہے۔ بھارت اپنی آبادی کی برتری اور اقتصادی قوّت کی وجہ سے اس فورم کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتا ہے۔ 

اگر بنگلا دیش اسے فعال کرنے میں کام یاب ہوتا ہے، تو اس میں پاکستان اور بنگلا دیش کا مشترکہ کردار اہم ہوجائے گا۔ معاشی تعاون میں ایسے علاقائی فورمز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین کا شنگھائی فورم اور برکس بینک آج عالمی اہمیت اختیار کرچُکے ہیں، جس کے تحت اب فوجی تعاون بھی فروغ پا رہا ہے۔ یورال کی پہاڑیوں میں دہشت گردی کے خلاف فوجی مشقوں سے تمام رُکن ممالک فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی بنگلا دیشی حکومت کا خیر مقدم کیا ہے، جب کہ طارق رحمان نے اُنہیں اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا۔ دراصل، جغرافیائی حقائق نظر انداز کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے، بالخصوص معاشی طور پر کم زور ممالک کے لیے۔ 

اِسی لیے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنے کے باوجود بنگلا دیش کی کوئی بھی حکومت بھارت کے ساتھ ورکنگ یا نارمل تعلقات رکھنا چاہتی ہے کہ اس کی بھارت کے ساتھ چار ہزار کلومیٹر طویل سرحد ہے، جب کہ خلیجِ بنگال میں آبی مفادات بھی ہیں، جن پر دونوں ممالک کی معاشی ترقّی کا انحصار ہے۔ محمّد یونس نے’’سیون سسٹرز‘‘ کا دو مرتبہ ذکر کیا۔ 

یہ بھارت کی ساتھ لینڈ لاکڈ صوبے ہیں، لیکن یہ کوئی آسان معاملہ نہیں کہ بنگلا دیش کا اپنا علاقہ بھی بھارت سے متصل ہے۔ لہٰذا، اِس معاملے کو فوری چھیڑنا نئی حکومت کے لیے مشکل ہوگا۔ بنگلا دیش میں گزشتہ سالوں میں بھارت مخالف جذبات نے شدّت اختیار کی ہے، خاص طور پر نوجوان بنگلا دیش میں مختلف نوعیت کی مداخلتوں کا ذمّے دار بھارت کو سمجھتے ہیں۔ 

اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں حسینہ واجد کی دھاندلیوں کے باوجود بھارت نے اُنہیں سپورٹ کیا، جس سے بنگلا دیش میں جمہوریت کم زور ہوئی اور اُن کے دور میں بھارت کا کنٹرول اِن کے مُلک پر مضبوط ہوا۔ نوجوان اس سے مکمل چھٹکارا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اکثر مواقع پر بھارت کا رویّہ ڈکٹیٹ کروانے والا رہا۔ وہ چاہتا ہے کہ ڈھاکا اُسی راہ پر چلے، جس پر دہلی حکم دے۔ نوجوان نسل میں بھارت کے خلاف بہت غصّہ پایا جاتا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان دراڑ پیدا کردی ہے۔

موجودہ حالات میں جغرافیائی اور تاریخی قربتوں کے باوجود اسے جوڑنا کسی بھی پارٹی کے لیے فوری ممکن نہ ہوگا۔ اگر پہل ہونی ہے، تو وہ بھارت ہی کی طرف سے ہوگی۔ دو سال پہلے تک بنگلا دیش کی معیشت کا شمار تیز رفتار معیشتوں میں ہوتا تھا۔ اس کا’’ ٹکا‘‘بھی علاقے کی کرنسیوں میں مضبوط تھا اور پاکستان میں اس کی مثال دی جاتی رہی، لیکن آج اس کی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے۔

نوجوان، جو انقلاب لائے، اُن کے لیے روز گار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اوّلین ترجیح ہوگی، وگرنہ ایک اور بے چینی کوئی نیا بحران پیدا کرسکتی ہے۔ بھارت، بنگلا دیش کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے، تاہم جس قسم کے عوامی جذبات اِس وقت پائے جاتے ہیں، اس میں فوری طور پر تجارت کا فروغ آسان نہ ہوگا۔

بی این پی کی بھاری اکثریت سے فتح کو پاکستان میں بڑی خوش خبری کے طور پر لیا جارہا ہے۔ ایسا ہونا بھی تھا، کیوں کہ پاک، بنگلا دیش تعلقات میں اس جماعت کے بانی، ضیا الرحمٰن کے دَور سے خاصی گرم جوشی دیکھی گئی۔ پھر بیگم ضیا الرحمٰن نے بھی اپنے دونوں ادوار میں پاکستان سے نہ صرف حکومتی سطح، بلکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ 

سارک میں بھی بی این پی کے دور میں دونوں ممالک مثبت کردار ادا کرنے میں کام یاب رہے، اِسی لیے یہ فورم کم ازکم چلتا تو رہا۔ پھر حسینہ واجد کے بھارت کی جانب غیر معمولی جھکاؤ نے اسے مفلوج کردیا، کیوں کہ وہ بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتی رہیں۔ عبوری حکومت نے بڑی تیز رفتاری سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کیے اور اب وزیرِ اعظم طارق رحمان کے لیے انہیں مزید بڑھانا آسان ہوگا۔

لیکن ان تعلقات میں بھارت کے فیکٹر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ بنگلا دیش اور پاکستان کے درمیان بہت سے معاملات طے ہونا ابھی باقی ہیں اور اُن پر وہاں کی کسی بھی حکومت کا موقف نہیں بدلا۔ اب تعلقات میں بہتری کے بعد ضروری ہے کہ اُنہیں بھی نمٹا لیا جائے۔ لاکھوں پاکستانی وہاں رہ رہے ہیں، جنہیں ابھی تک شہریت نہیں ملی۔ دونوں ممالک کی حکومتیں اُنہیں نظر انداز کر تی رہی ہیں۔ 

ان لوگوں نے پاکستان کے لیے آزمائش کے وقت بڑی قربانیاں دیں۔ اگر خوش گوار ماحول میں یہ مسئلہ حل کرلیا جائے، تو دونوں ممالک مزید قریب آجائیں گے۔ اِس ضمن میں جماعتِ اسلامی بنگلا دیش اہم کردار ادا کرسکتی ہے، کیوں کہ ان میں زیادہ تر اسی کے سپورٹر تھے۔ پاکستان اور بنگلادیش، دونوں ہی معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہیں۔

ایسے میں جنوب ایشیائی ممالک کو جنوب مشرقی ایشیا کی مثال اپنے سامنے رکھنی چاہیے، جہاں کے ممالک نے تمام تر اختلافات کے باوجود، ترقّی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا اور دنیا کا سب سے پائے دار، تیز رفتار ترقّی کرنے والا خطّہ بن گیا۔ اگر پاکستان اور بنگلا دیش بھی ٹھوس تعاون اور ترقّی کی راہیں تلاش کریں، تو کوئی بھی اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

سنڈے میگزین سے مزید