السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
شُکریہ، شُکریہ کی صدائیں
پُرلطف ناشتے سے دو دو ہاتھ کرنے کے بعد سنڈے میگزین اُٹھایا۔ اِک اِک تحریر کا عرق ریزی سے مطالعہ کیا اور اب اپنے قلم کاری کے شوق کو جِلا بخشنے کےلیےجریدے کے مندرجات پر تبصرے کے ساتھ حاضر ہوں۔ محمّد احمد غزالی، منور مرزا، رائو محمّد شاہد اقبال کی تحریریں تو میگزین کو چار چاند لگاتی ہی ہیں،’’انٹرویو‘‘ میں ڈاکٹر محمّٓد طاہر مصطفیٰ کی گفتگو بھی دل میں اُتر گئی۔ سلمیٰ اعوان کے ساتھ ایک خُوب صُورت سفر جاری و ساری ہے۔ عرفان جاوید کے الفاظ سے بھی خُوب لُطف اندوز ہوا، اُن کی محنت واقعی قابلِ داد ہے۔ ’’پیارا گھر‘‘ اور ’’متفرق‘‘ نے بھی بور نہیں کیا، بلکہ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ’’دردِلادوا‘‘ ہماری دورنگی پر ایک زوردار طمانچہ تھا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ آنکھوں میں نمی بھر گیا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی تو کیا بات کی جائے، اپنا خط پڑھتے ہی دل ’’شکریہ، شکریہ‘‘ کی صدائیں بلند کرنے لگا۔ ویسے اس بار سارا میگزین ہی بہت خوشبودار تھا اور ہر پھول (ہر صفحہ) سونگھتے ایک الگ ہی احساس دل و دماغ کو معطّر کرتا رہا۔ اور ہاں، ایک بات اور، میرا نام ’’راجہ‘‘ افنان ہے،’’راجا‘‘ افنان نہیں۔ آپ نے ہمیں راجا لکھا، تو ہمیں اچھا نہیں لگا۔ (راجا افنان احمد، چکوال)
ج: درست لفظ ’’راجا‘‘ ہی ہے، راجہ نہیں۔ جس کے معنی فرماں رَوا، حُکم ران یا بادشاہ کے ہیں۔ اب راجہ کوئی لفظ ہی نہیں، تو ہم اُسے کسی کے نام کا حصّہ کیسا بنا رہنے دیں، بجائے اس کے کہ آپ اپنی اصلاح کریں، اُلٹا ہم سے شکوہ کر رہے ہیں۔ ویسے بندے کو اپنا نام تو درست لکھنا آنا ہی چاہیے۔
طویل ترین مضمون
مَیں نے لکھنے کی ابتدا آغا شورش کاشمیری مرحوم کے ہفت روزہ چٹان سے کی۔ اور عبدالقادر حسن مرحوم کے ہفت روزہ افریشیا میں طویل عرصے تک لکھا۔ بعدازاں مختلف اخبارات و جرائد میں بھی لکھتا رہا۔ اب یہ ایک طویل مضمون جنگ، سنڈے میگزین کے لیے حاضرِ خدمت ہے۔ حوالہ جات جمع کرنے کی غرض سے نوٹس لکھنے بیٹھا تو توقع کے برعکس مضمون کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ خواہش ہے کہ اسے سنڈے میگزین میں قسط وار شروع کر دیا جائے۔ (میاں عبدالشّکور صابر، محلّہ احمد آباد، نزد ریلوے پھاٹک، ممتاز آباد، ملتان)
ج: سوری ہم معذرت خواہ ہیں۔ آپ کی تحریر حد درجہ طوالت (ڈھائی سو سے زائد صفحات پر مشتمل) اور قدرے حسّاس موضوع کے باعث قابلِ اشاعت نہیں۔ آپ چاہیں تو بخوشی کسی اور جریدے کو ارسال کرسکتے ہیں۔
پکوڑے تلتا تھا
اُمید ہے، خیریت سے ہوں گی۔ آپ جس محنت اور جاں فشانی سے سنڈے میگزین ترتیب دیتی ہیں، یقیناً قابلِ صد ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے، آمین۔ جنگ، اخبارِ جہاں اور میگزین سے ہمارا ناتا برسوں پرانا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب مَیں گائوں کے پرائمری اسکول میں زیرِ تعلیم تھی، تب میرے اساتذئہ کرام ’’جنگ‘‘ اخبار منگوا کر پڑھا کرتے تھے۔ اسکول کے ساتھ ہی گلی میں ایک بہت پُرانی دکان تھی، جہاں ایک ہیرا نامی شخص پکوڑےتلتا تھا، وہاں سے ’’جنگ‘‘ اخبار لیاجاتا۔ صبح صبح استانی صاحبہ کسی ایک شاگرد کو حُکم صادر فرماتیں اور وہ جا کر اخبار خرید لاتا۔ اللہ تعالیٰ ہیرا انکل کو بھی غریقِ رحمت کرے، جو اساتذہ کے لیے اخبار منگوا کر دیتے تھے۔ اب ذرا سنڈے میگزین کی بات ہو جائے۔ شفق رفیع کی تو ہر تحریر ہی اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ منور مرزا، منور راجپوت اور رئوف ظفر کی تحریروں کی بھی بہت مدّاح ہوں۔ ڈائجسٹ، ناقابلِ فراموش، پیارا گھر، اِک رشتہ، اِک کہانی سبھی صفحات بہت ہی محنت سے مرتّب کیے جاتے ہیں۔ اور یہ آخری صفحہ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو گویا میگزین کے ماتھے کا جھومر ہے۔ (رضوانہ روبی، راول پنڈی)
ج:جریدے کی قصیدہ گوئی کرتے کرتے آپ اچانک ہی پکوڑوں کا ذکر لے آئیں۔ چند لمحوں کے لیے تو ہم ٹھٹھک ہی گئے کہ کہیں اُس اخبار کا ذکر تو نہیں فرما رہیں کہ جس میں ہیرا انکل پکوڑے لپیٹ کر بھیجتے ہوں گے۔ بقیہ تبصرہ بھی آپ نے کوئی سال بھر پرانی تحریروں ہی پرکیا، تو بات کچھ پلّے پڑی نہیں۔ بہرحال، 70 فی صد کاٹ چھانٹ کے بعد نامہ کسی حد تک لائقِ اشاعت بنا ہی دیا ہے۔
اشاعت کی سند
چوں کہ مَیں شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوں، تو میرے پاس لکھنے لکھانے کے لیے زیادہ تر تعلیمی موضوعات ہی ہوتے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں سے امتحانات میں نقل کا رجحان بہت بڑھتا جارہا ہے۔ اس قبیح فعل کے سدّباب کے لیے ایک مضمون تحریر کیا ہے۔ ڈائجسٹ کے لیے ایک افسانہ بھی لکھ بھیجا ہے۔ طلبہ کی درس گاہوں سے غیر حاضری بھی میرا ہی موضوع ہے۔ تو، اُمید ہے کہ ان تینوں مضامین کو اشاعت کی سند حاصل ہوگی۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ، سنڈے میگزین پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔ چوں کہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، تو نیٹ ایڈیشن دنیا کے کونے کونے تک جارہا ہے۔ اور بلاشبہ آپ کا جریدہ علم و ادب کے فروغ میں ایک بڑی خدمت انجام دے رہا ہے اور اس ضمن میں آپ کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے لائق ہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو کیا ہی لاجواب سلسلہ ہے۔ خاص طور پر آپ کی یہ دعوت کہ’’اس صفحے کو ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیں، جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجھک، لاگ لپیٹ کے بغیر ہمیں لکھ بھیجیں۔‘‘ ہر ایک کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے اور اسی سبب ہم بھی ہمّت کرکے کچھ نہ کچھ لکھ بھیجتے ہیں۔ ویسے آپ کی اس دعوت کو خطوط کی حد تک نہیں بلکہ پورے جریدے پر لاگو ہونا چاہیے تاکہ مضمون نگار کُھل کر مضامین تحریر کر سکیں۔ (پروفیسر ڈاکٹر ظفر فاروقی، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج، نشتر روڈ، کراچی)
ج:پروفیسر صاحب! ہم مَرتے دَم تک ایسی کسی حماقت کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اک ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہی کےلیےدعوتِ عام جی کا جنجال بن گئی ہے، کُجا کہ ہر صفحے کو خاص و عام کی دسترس میں دے دیا جائے۔
سلام تو لے.....
جواب دے نہ دے، بے خبر سلام تو لے۔ آپ ہمیں جس بُری طرح نظر انداز کرتی، ہمارے خطوط کا تیا پانچا کرتی ہیں، سخت غصّہ آتا ہے۔ بہرحال، رواں ہفتے کا دل نشیں سنڈے میگزین پڑھنے کو ملا۔ نئی کتابوں پر تبصرے اور نت نئے لوگوں سے ملاقات۔ پاکستانی فلموں کی یادگار قوالیوں سے متعلق مضمون پڑھ کر دل کے تار جھنجھنا اُٹھے۔ ویسے تو ہر مضمون، ہر صفحہ ہی قابلِ داد ہے۔ (سیّد شاہ عالم زمرد اکبر آبادی، راول پنڈی)
ج: تحریر دیکھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شاید عُمر کے اُس حصّے میں ہیں کہ جب ہاتھوں پر بھی لرزہ طاری ہوجاتا ہے، مگر ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ آپ کے دل میں خوفِ خدا نام کی کوئی چیز نہیں، تبصرے کے نام پر پتا نہیں آپ کیا کیا اوٹ پٹانگ باتیں لکھ لکھ کر بھیجتے رہتے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے خط ہی پھاڑ کے پھینک دیں، پھر اٍس خیال سے شایع کیے دیتے ہیں کہ شاید تصحیح شدہ تحریر دیکھ کر ہی آپ کچھ سدھر جائیں۔
ناول سے کہیں دل چسپ سلسلہ
بلاشبہ آپ کا میگزین بہت ہی محنت، توجّہ سے مرتّب ہوتا ہے کہ ہر قاری کے ذوق کے مناسبت سے مختلف مضامین موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ اس مرتبہ میری پسند کے مضامین کی تعداد خاصی زیادہ تھی، تو تبصرے کے لیے کاغذ، قلم تھام لیا۔ خواجہ صاحب سے متعلق مضمون نے دل چُھو لیا، سبحان اللہ، انہوں نے خلقِ عامّہ کے لیے کیا کیا کام کیے۔ عبادات تو کیں ہی، مگر اللہ کو مخلوق کی دل جوئی زیادہ پسند ہے۔ خصوصاً ہر شب، کشائشِ رزق کے لے سورئہ جمعہ پڑھنا، پہلی مرتبہ میرے علم میں آیا۔ کارپُولنگ اور قرآنِ مجید کے غیر منقوط ترجمے سے متعلق پہلے بھی کہیں پڑھا تھا، مگر تفصیلاً پڑھنے کا موقع اب ہی ملا۔ سفرنامے کے تو کیا ہی کہنے۔ اور ’’آدمی‘‘ تو عرفان جاوید ہی کا طرئہ امتیاز ہے، ناول سے بھی کہیں زیادہ دل چسپ سلسلہ۔ غالباً تحریر کا امَر ہوجانا اِسے ہی کہتے ہیں۔ پیارا گھر، متفرق بھی دل کو بھائے۔ والدین کا المیہ ’’دردِلادوا‘‘ پڑھا۔ اے کاش! اولاد کو عقل آجائے۔ ہمایوں ظفر کےمرتّب کردہ ناقابلِ فراموش واقعات خُوب تھے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ میں بھی بھیج رہی ہوں۔ مناسب لگے تو شایع کردیں۔ (مصباح طیّب، سرگودھا)
ج:جی، بجا فرمایا آپ نے۔ جب سے ’’آدمی‘‘ اور ’’جہانِ دیگر‘‘ سلسلے وار شروع ہوئے ہیں، قارئین کی طرف سے نئے ناول کا تقاضا ہی ختم ہوگیا ہے۔
دل کی باتیں، خوش گوار موڈ
اس بار بھی ہمیشہ کی طرح دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ شُکر ہے، دونوں میں متبّرک صفحاتِ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ شامل تھے۔ پہلا شمارہ تو مکمل طور پر عیدِ قربان نمبر تھا۔ ہوش رُبا منہگائی میں عیدِ قرباں، جی ہاں! اس بار منہگائی کی وجہ سے بہت کم لوگ فریضۂ قربانی ادا کر پائے۔ ’’بڑی عید، بڑے اقتصادی ثمرات‘‘ بےحد معلوماتی فیچر تھا۔ ’’بلوچستان میں عید کے روایتی رنگ‘‘ لائقِ مطالعہ تحریر تھی۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں خُوب رو، خُوش گُفتار، صاف گو اسامہ خان نے اپنے دل کی باتیں بڑے خُوش گوار مُوڈ میں کیں۔ ’’دل کو چِین کا سفر ہے درپیش‘‘ بہترین جا رہا ہے۔ ’’آدمی‘‘ سلسلے کی دونوں اقساط لاجواب تھیں۔ دیکھتے ہیں، اسحاق نور کےبعد کون ’’آدمی‘‘ سامنے آتاہے۔ پاکستان کی پہلی بین الاقوامی مِکسڈ مارشل آرٹس فائٹر، انیتا کریم کی دل چسپ باتیں اچھی لگیں۔ میرا خط اور پیغام شایع فرمانے کا بےحد شکریہ۔ اور شکریہ تو مَیں اس ہفتے کی چٹھی ہولڈر، ڈاکٹر تبسّم سلیم کا بھی ادا کروں گا کہ جنہوں نے اپنے خط میں ناچیز کا بہت اچھے انداز میں ذکر کیا۔ (پرنس افصل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)
ہاکر کا شکریہ
’’حالات و واقعات‘‘ میں منورمرزا موجود تھے اور بہت عُمدہ انداز میں تیل کی سیاست پر بات چیت کر رہے تھے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں رائو محمّد شاہد اقبال نے کارپُولنگ پر مضمون لکھ کر معلومات میں بےحد اضافہ کیا۔ عرفان جاوید کا شُکریہ کہ انہوں نے جلد ہی نیا آدمی تلاش کرلیا۔ اس مرتبہ سرِورق کی فوٹو گرافی کا جواب نہ تھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں بھی نئے انداز کے مضامین پڑھنے کو ملے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں مدثر اعجاز کی ’’دردِ لادوا‘‘ بہت شان دار تحریر تھی۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کے دونوں واقعات کمال تھے۔ اور میگزین کے توسّط سے ہاکر کا بھی بہت شُکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ موسلا دھار بارشوں میں بھی بروقت اخبار ہمارے گھر پہنچاتے رہے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج:اور ہم جو موسلادھار بارشوں میں آپ کے لیے بلاتوقف جرائد تیار کرکر کے بھیجتے رہے، تو کچھ شُکریہ تو ہمارا بھی بنتا ہے کہ نہیں۔
اس ہفتے کی چٹھی
الف سے اچھی، گاف سے گڑیا، جیم سے جاپانی .....لُوٹ لیا ہے تونے ایک مسافر پاکستانی۔ ماضی کے معروف کامیڈین ہیرو، منور ظریف نے اس مزاحیہ گانے میں حروفِ تہجّی سے تمہید باندھتے ہوئے اپنی ’’اچھی گڑیا جاپانی‘‘ سے اظہارِ محبّت کیا تھا۔ سو، آج ہم نے بھی ایک شین، شرارت کی کوشش کی ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ لہٰذا حروف کے دوش پر مدیرہ صاحبہ سے آغازِ نصف ملاقات آ سے آداب عرض کہتے ہوئے کرتے ہیں۔ الف اللہ کا نام لے کر زیرِ نظر شمارے کے سرِورق پر نظرِ مشاہدہ ڈالی، تو ب سے بسم اللہ کراں۔ پ پتلی اور ت تتلی سی بھولی ماڈل کو دھوپ کی چادر میں سایۂ ابر، قارئین کے نام کرتے پایا۔ بمصداق ’’نیکی کا بدلہ نیکی‘‘ تو ہم نے بھی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات سُروں کا بہتا دریا مدیرہ صاحبہ کے نام کیا۔ ٹ ٹائٹل کے سحر سے نکل کر میگزینِ تازہ کے سلسلہ اوّل ’’سنڈے اسپیشل‘‘ پر سجی مویشی منڈی کے ایک بھیڈو سے جپھی ڈال کر بِن قربانی کیے آدھا ث ثواب کمالیا اور ج جلدی سے سرچشمہ ہدایت پہنچ کر چ چنیدہ سلسلے کا مطالعہ کر کے ح حالتِ دل سنبھالی۔ اور خ خالی ذہن کو ماہِ ذوالحجہ کی فضیلت سے لب ریز کرتے ہوئے صاحبۂ تحریر، اقصیٰ منور ملک کو د دُعا دی کہ ’’دل بدست آور کہ حج اکبراست‘‘ ڈ ڈپلومیٹک، منور مرزا کے ذ ذکی قلم سے فیٹف کی رودادِ روح افزا و راحتِ جاں سے ر راجا پاکستانی کا دل کچھ ٹھہر گیا۔ بائی دی وے مدیرہ صاحبہ ایہہ امریکی محبوبہ سانوں ایس واری کوئی بوہتا ہی ٹف ٹائم دے رہی اے، یعنی نیمے دروں، نیمے بروں۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں ڑ پہاڑ سی روبوٹک سرجری کو ز زور شور سے رواج دینے والے معروف یورولوجسٹ کی بات چیت بدرجہ غایت پڑھی۔ ژ ژرف نگاہ لکھاری، عرفان جاوید کے ژولیدہ حال ’’مَن موجی‘‘ کی لش پش ایپی سوڈ فائیو دیکھ کر تو ہماری اپنی طبیعت ہَمِیں سے غیر ہوگئی۔ پھر ایک لمبی س سُکھ کی سانس لی کہ کوئی گل نئیں، ش شرارت ہی سے زندگانی میں حرارت ہے۔ ص صوفی شاعر ساغر صدیقی کی آمر ایوب خان سے نہ ملنےکی ض ضد کا جان کر قلبِ سلیم میں مقامِ ساغر ہِمالہ کو چُھوگیا۔ جہانِ دیگر میں ط طرب سنج رائٹر، سلمیٰ اعوان کے ظ ظرافت آمیز سفرنامۂ چِین کی چھےاقساط پڑھ چُکنےکے باوجود ع عاجز دل حال و بےحال ہے۔ ڈائجسٹ کی ڈال پر صنف ِ نازک کا غ غلبہ تھا۔ سو، قانتہ، شمائلہ و حریم کی ف فالودہ سی زود ہضم تحاریر ہی پرہم قانع و شاکر ہوگئے اور اگلا سلسلہ متفرق بھی ق قرطاسِ نسواں ثابت ہوا۔ جہاں ک کاخ نشیں مگر جنگ جُو نام وَر خواتین کی داستانِ محاذ آرائی تھی۔ گ گھی، ل لون اور م مسالا جات میں تھرڈ کلاس ملاوٹ کرنے والوں کا رانا اعجاز حسین چوہان نے خُوب پول کھولا۔ جب کہ ن نرجس ہائوس (پیارا گھر) سے عقلِ سلیم نے یہ سخنِ مسیحائی کشید کیا کہ ’’ و وزن ہولے لئی ہ ہتھ ہولا رکھو‘‘۔ منور راجپوت کی بُک ٹیبل کی ایک کتاب ’’پاکستان کا آئین‘‘ کے ٹائٹل سے موسٹ وانٹڈ ء (ہمزہ) کو چُن کر الفابیٹ چَین میں تھرڈ لاسٹ پر جَڑ دیا۔ اور اب آخر الّذکر صفحہ ی (ے) یاراں کہ جہاں نامۂ بندہ سات خطوط کے جلوس میں بطور اعزازی چٹھی جلوہ گر تھا۔ آخر وچ صرف ایہہ کیہناں اے ’’یہ ہمارا تار (برقیہ) ہے، اور یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پاوری پاوری پاوری ہورہی ہے…‘‘ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
ج: بہت خُوب.....نامہ نگاری میں جس قدر ورائٹی (اور صرف ورائٹی ہی نہیں کوالٹی بھی) آپ متعارف کروا چُکے ہیں۔ غالب زندہ ہوتے تو شاید ’’خطوطِ غالب‘‘ ہی سے دست بردار ہوجاتے۔
گوشہ برقی خطوط
* نرجس ملک صاحبہ کو نہ جانے کتنے خطوط لکھ چُکا ہوں۔ منور مرزا کے نام بھی خط لکھا۔ منور راجپوت سے بھی رابطے کی کوشش کی، مگر سب بے سود۔ ہر ایک نے میرا دل توڑ دیا۔ (وارث علی بٹ، صدر پس ماندہ طبقات)
ج:آپ جیسے لوگ، جو ہتھیلیوں میں اپنا دل لیے پِھرتے ہیں، پھر اُنہیں ایسے سانحات کے لیے تیار بھی رہنا چاہیے۔ آپ کے خطوط، ای میلز میں ایسی ایسی شاہ کار بونگیاں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جواباً یا تو بےنقط سنائی جا سکتی ہیں یا پھر صبر کے گھونٹ پی کر خاموش رہا جا سکتا ہے اور اِن دونوں ہی صُورتوں میں آپ کا دل دُکھ جاتا ہے، تو اب کم از کم ہمارے پاس تو اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔
* وکی پیڈیا آپ لوگوں کا تو ماما، چاچا ہو سکتا ہے، میرا قطعاً نہیں کہ مَیں سِرے سے انٹرنیٹ استعمال ہی نہیں کرتا۔ اور نہ ہی میرے پاس اتنی فرصت ہے۔ میرے پاس بس ایک سادہ سا فون ہے، جو صرف کال کرنے، سُننے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ ای میل بھی بیٹے کے موبائل سے کرواتا ہوں۔ آپ چاہیں تو ایف آئی اے کے سائبر کرائم وِنگ سے تصدیق کروا لیں۔ ہاں، تحقیق و جستجو، اصلاح و رہنمائی میری عادت ضرور ہے۔ (محمّد اشفاق بیگ، ننکا نہ صاحب)
ج: آپ کے پاس فرصت نہیں اور ہم تو بس اِسی انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے تھے کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے اور ہم سائبر کرائم وِنگ کی طرف دوڑیں کہ وہ جلد از جلد اس بریکنگ نیوز کی تصدیق یا تردید کرے۔
* کیا مَیں جنگ ’’سنڈے میگزین‘‘ کے لیے کوئی آرٹیکل اس آئی ڈی پر بھیج سکتا ہوں اور اگر بھیجوں تو کس فارمیٹ پر۔ (غلام قادر، سیال کوٹ)
ج: جی بالکل، یہ آئی ڈی بنائی ہی اسی مقصد کے لیے گئی ہے اور دن میں متعدّد بار چیک بھی اسی مقصد کے لیے کی جاتی ہے، وگرنہ کھیل تماشوں کے لیے تو اور بھی کئی ذرایع موجود ہیں۔ اور جس فارمیٹ پر یہ ای میل بھیجی ہے، تحریر بھی اُسی فارمیٹ پر بھیج دیں۔
قارئینِ کرام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk