آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
آئندہ مالی سال کیلئے 43.95 کھرب روپے کا حکومت نے اپنا چوتھا وفاقی بجٹ پیش کیا۔ 1276 ارب روپے خسارے کے اس بجٹ میں تقریباً 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔بجٹ سے ایک دن پہلے وزیر خزانہ نے مالی سال 2015-16ء کا اقتصادی جائزہ پیش کیا جس کے مطابق بجٹ کا مالیاتی خسارہ 4.3% کی شرح پر آگیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال اس کا ہدف 3.8% رکھا گیا ہے لیکن اس سال زیادہ تر معاشی اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے ہیں۔ زرعی شعبے کی گروتھ اور ایکسپورٹس میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 4.71% رہی جبکہ اس کا ہدف 5.5% تھا جس کی اصل وجہ کپاس کی فصل کی پیداوار میں 28%کمی ہے جو 13 ملین بیلز سے کم ہوکر 9 ملین بیلز کی کم ترین سطح پر آگئی اور ملکی جی ڈی پی گروتھ میں 0.5% کمی واقع ہوئی۔خدمات کے شعبے نے اپنے ہدف کے مطابق 5.7% گروتھ حاصل کی ہے۔صنعتی ترقی 6.8% رہی جبکہ اس کا ہدف 6.41% تھا لیکن بڑے درجے کی صنعتوں (LSM) کی گروتھ اپنے ہدف 6.4% کے مقابلے میں صرف 4.6% رہی۔ پاکستان کے زراعت کے اہم شعبے کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی جس نے ہدف کے مقابلے میں 0.19% منفی گروتھ حاصل کی۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21.6 ارب ڈالر رہے۔ وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ وہ رواں مالی سال 3104 ارب روپوں کا ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرلیں گے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 10% زیادہ ہوگا۔گزشتہ 10 مہینوں

میں ملکی ایکسپورٹس 11% کمی کے ساتھ 18.2 ارب ڈالر اور امپورٹ 32.7 ارب ڈالر رہیں جس کی وجہ سے گزشتہ 10 مہینے میں تقریباً 20 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ گزشتہ 40 سالوں کی کم ترین سطح 5.75% پر آگیا ہے۔ 2015-16ء میں اوسط افراط زر (CPI) 2.82% رہا جو گزشتہ 10 سالوں میں سب سے کم ہے۔ ٹیکسوں کی جی ڈی پی میں شرح 10.5% اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے 37000 کی بلند ترین سطح عبور کرلی ہے۔ اس سال بیرون ممالک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر گزشتہ 10 مہینوں میں 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک 19 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سال ملک میں بیرونی سرمایہ کاری صرف ایک ارب ڈالر رہی۔ پاکستان کی فی کس آمدنی 1561 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ 1516 ڈالر تھی۔ ملکی قرضے 22 کھرب روپے کی اونچی سطح پر رہے۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی بہتر معاشی صورتحال کے پیش نظر ہمیں آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔
آیئے قومی بجٹ 2016-17ء کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ موجودہ بجٹ میں حکومت ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر بلاواسطہ ٹیکسز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کرنا چاہتی ہے جو ٹیکس وصولی کا ایک ناکام اور فرسودہ طریقہ کار ہے جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسز دنیا میں ٹیکس وصولی کا ایک موثر اور کامیاب نظام ہے جسے حکومت کو اپنانا چاہئے۔ بجٹ میں ٹیکسٹائل سمیت پانچ ایکسپورٹ سیکٹرز کو زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس نظام میں لانا ایکسپورٹرز کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور اس سے ایکسپورٹرز کے اربوں روپوں کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈ سالوں ایف بی آر میں نہیں پھنس سکیں گے جس سے ان کا کیش فلو بہتر ہوگا۔ بجٹ میں جون 2019ء تک لگنے والی صنعتوں کو آئندہ 5 سال کیلئے انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جو ملک میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ٹیکس ریٹ میں 1% کمی ان کے منافع کو بہتر کرے گی۔ ملک میں زراعت کی ناقص کارکردگی کے پیش نظر اور آنے والے سالوں میں کسانوں کے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت نے موجودہ بجٹ میں زرعی شعبے کو بے شمار مراعات دی ہیں جس میں یوریا کھاد اور ٹیوب ویل کے بجلی کے نرخوں میں کمی شامل ہیں۔ بجٹ میں معیشت کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے حکومت نے ٹیکس فائلرز کے مقابلے میں نان فائلرز کے ٹیکس کی شرح میں 50% اضافہ کیا ہے۔ اسکے علاوہ ٹیکس نادہندگان کو انکی پراپرٹی کے ٹرانسفر اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار دیدی گئی ہے۔ حکومت نے آف شور کمپنیوں، بیرون ملک اثاثوں اور اکائونٹس تک رسائی کے بل کیلئے بجٹ میں ٹیکس قوانین میں ترامیم کی تجویز پیش کردی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔
فیڈریشن کی بجٹ کمیٹی کا ممبر ہونے کے ناطے ہم نے فیڈریشن کی طرف سے تاجروں اور صنعتکاروں کے بجٹ پروپوزل اور اپنی سفارشات پر وزیر خزانہ اور ایف بی آر کی ٹیم سے کئی ملاقاتیں کیں۔ بجٹ کے اعلان کے بعد اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں FPCCIکا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ میں بے شمار بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ہم آئندہ ہفتے وزیر خزانہ سے ملاقات کرکے انہیں تاجروں اور صنعتکاروں کے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ ہم نے ملک میں سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے قیام کیلئے مشینوں کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی تھی لیکن اس بجٹ میں حکومت نے مشینوں کی امپورٹ پر 3% کسٹم ڈیوٹی برقرار رکھی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک کی صنعت نے فنش گڈز کے مقابلے میں خام مال پر زیادہ کسٹم ڈیوٹی لاگو ہے۔ رینٹل انکم پر حکومت نے 5% ٹیکس مزید بڑھاکر 20% کردیا ہے۔ اس کے علاوہ سندھ ریونیو اتھارٹی (SRA) بھی 6% صوبائی ٹیکس وصول کرتی ہے اور اس طرح رینٹل انکم پر گزارہ کرنیوالے سفید پوش لوگوں پر ان کے کرایوں کا 26% ٹیکس وصول کرنا ٹیکس چوری کی ترغیب دے گا۔ فیڈریشن نے وفاقی حکومت کو رینٹل انکم پر ٹیکس 15% سے 10% کرنے کی تجویز دی تھی لیکن اس بجٹ میں حکومت نے اسے 15% سے بڑھاکر 20% کردیا ہے۔ میری وزیر خزانہ سے درخواست ہے کہ اس کو پرانی 15% کی سطح پر رکھا جائے۔
وزیر خزانہ نے ایکسپورٹرز کے 230 ارب روپے کے انکم و سیلز ٹیکس ریفنڈ 31 اگست 2016ء تک کرنے کا وعدہ کیا لیکن تعجب ہے کہ اس بجٹ میں اس کی ادائیگی کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ یہ وزارت خزانہ کی حکمت عملی رہی ہے کہ آئی ایم ایف کو بجٹ کے مالی خسارے میں کمی دکھانے کیلئے 300 ارب روپے کی ایکسپورٹرز کے ریفنڈ ریونیو کی وصولی کی مد میں دکھائے جاتے ہیں لیکن ان اعداد و شمار کے گورکھ دھندے نے ایکسپورٹرز کی مالی استطاعت کو بری طرح متاثر کرکے ملکی ایکسپورٹس کو آج 25 ارب ڈالر سے کم کرکے 20 ارب ڈالر کردیا ہے جبکہ انہی عالمی چیلنجوں میں ہمارے حریفوں کی ایکسپورٹس میں کئی گنا اضافہ نظر آتا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بجٹ میں نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں اسٹیل ملز، پی آئی اے اور بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں جن کو چلانے کیلئے حکومت ہر سال غریب عوام کے ٹیکسوں سے 500 ارب روپے دیتی ہے، کی نجکاری کے بارے میں کوئی روڈ میپ نہیں دیا۔ وزیر خزانہ نے بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت پہلے 3 سال ساختی تبدیلیوں سے ملکی معیشت کو مستحکم کرے گی اور آخر کے دو سالوں میں گروتھ پر توجہ دے گی۔ وزیر خزانہ کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ملک میں بہتر امن و امان کی صورتحال اور انرجی کی بہتر سپلائی، چائنا پاکستان معاشی راہداری کے سرمایہ کاری کے منصوبوں کے مدنظر پاکستان میں ایکسپورٹ کے ذریعے گروتھ حاصل کریں جس سے ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت و بیروزگاری میں کمی آئے گی۔

.