السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مَن موجی کی موجیں
منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ میں الجھے پوچھ رہے تھے۔ ’’آخر قرضوں پر کب تک گزارہ ہوگا؟‘‘ مگر اُن کے اِس اہم ترین سوال کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد غزالی نے حضرت بہاء الدین ذکریا ملتانیؒ کا ذکر کیا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں رائو محمّد شاہد اقبال نے مضمون کا آغاز کیا کہ ’’جولائی کی صبح دس بجے تیز تپتی دھوپ میں ارشد کو.....‘‘ مضمون 26 جون کو شایع ہو رہا ہے اور ارشد کو جولائی کی صبح دس بجے تیز تپتی دھوپ میں سوا نیزے کی گرمی محسوس ہو رہی ہے، حیرت ہے۔
’’انٹرویو‘‘ میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرّزاق سے بات چیت مفید رہی۔ ڈریس ڈیزائنر، فائزہ امجد نے بھی اچھی گفتگو کی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر فصیحہ سہیل کا ذیابطیس سے متعلق مضمون معلوماتی تھا، جب کہ ڈاکٹر سیّد امجد علی جعفری دائمی خارش سے متعلق معلومات فراہم کررہے تھے۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں سلمیٰ اعوان خُوب گھوم پھر رہی ہیں اور ’’آدمی‘‘ میں مَن موجی بھی خُوب موجیں اُڑا رہے ہیں۔
’’ڈائجسٹ‘‘ میں عالیہ زاہد بھٹّی نے ’’تربیت‘‘ کے عنوان سے اچھا افسانہ تحریر کیا۔ دونوں غزلیں بھی بہتر تھیں۔ ناقابلِ فراموش کے تینوں واقعات زبردست تھے۔ اور اب آیئے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی طرف کہ اس میں ہمارا خط بھی موجود تھا، جو دو، تین خطوط کے مکسچر کی صُورت شایع کیا گیا۔ بہرحال، آپ کا بہت شُکریہ۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج:جی بالکل، شایع ہونے والا عریضہ آپ کے تین خطوط کا مِکسچر ہی تھا کہ بارہا تنبیہ کے باوجود جو لوگ اوپر تلے خطوط بھیجنے سے باز نہیں آتے، اُن کے لیے اب ہم نے یہی مجرّب نسخہ آزمانا شروع کردیا ہے۔
ناول کا حقیقی نعم البدل
شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق پر ابر کا سایہ،دھوپ کی چادر تانے ماڈل کھڑی دکھائی دی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں ماہر تجزیہ نگار، منور مرزا پاکستان کی ایف اے ٹی ایف میں کسی حد تک کام یابی کی نوید سُنا رہے تھے، ساتھ ہی تلقین بھی کی کہ اب مُلک کے حالات سدھارنے کی طرف بھی کچھ توجّہ دی جائے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد غزالی چشتیہ سلسلے کے مشہور بزرگ مسعود فرید الدین گنج شکرؒ کے حالاتِ زندگی کا رُوح پرور تذکرہ لائے۔ ساتھ ہی اقصیٰ منور ملک ذی الحج کے پہلے عشرے کی فضیلت بیان کررہی تھیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں رئوف ظفر، ڈاکٹر محمّد ذکی کے توسّط سے سرجری کی دنیا میں روبوٹ کے تسلّط کی خبر دے رہے تھے۔ ’’آدمی‘‘ میں عرفان جاوید، مَن موجی اسحاق نُور کی دل چسپ سرگزشت بیان کرتے نظر آئے، واقعی یہ تحریر ناول کا حقیقی نعم البدل ہے۔
بیان کو فن کے کمال تک پہنچانا عرفان جاوید ہی کا خاصّہ ہے۔ آگے بڑھے تو سلمیٰ اعوان ہمیں چِین کے سفر پر لیےچلیں۔ سعدیہ اعظم والدین کی ناقدری جیسے اہم موضوع کا احاطہ کر رہی تھیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم غیروں کے طریقہ اختیار کر کے اولڈ ہومز بنا رہے ہیں۔ جن ہستیوں نے ہمیں خونِ جگر پلاکر پروان چڑھایا، کیا وہ اولڈ ہومز کی حق دار ہیں۔ ڈاکٹر شائستہ خانم بتا رہی تھیں کہ ڈائٹنگ کے بغیر بھی وزن میں کمی ممکن ہے۔ شانزے علی رائتوں کی نت نئی تراکیب کے ساتھ آئیں۔
قانتہ رابعہ کی تحریر اَن مول تھی۔ مدثر اعجاز برصغیر کی کام یاب حُکم ران خواتین کا تذکرہ کر رہے تھے۔ یاد رہے، چاند بی بی بھی ایک کام یاب حُکم ران تھیں، اُن کا ذکر بھی ہونا چاہیے تھا۔ ’’کچھ توجّہ اِدھر بھی‘‘ میں رانا اعجاز حسین چوہان، ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی جیسے گھنائونے عمل کی نشان دہی کر رہے تھے۔ نئی کتابوں پر منور راجپوت نے بہترین تبصرہ کیا اور ہمارے باغ و بہار صفحے پر اس بار بھی سلیم راجہ کا راج تھا۔ راجہ جی! ہماری چِٹھی کو سراہنے کا شکریہ۔ (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپورخاص)
’’نیوٹرل‘‘ نہ بنیں
یہ کیا بات ہوئی، آپ نے سندھ میں تعلیمی زبوں حالی کا ذمّے دار پیپلز پارٹی کو نہیں قرار دیا۔ اگر یہ جماعت ذمّے دار نہیں، تو کون ذمّے دار ہے۔ عمران خان کو تو آپ اکثر تنقید کا نشانہ بناتی ہیں، اب پی پی کو بھی تو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ کیا آپ کے قلم کا نشتر صرف عمران خان کے لیے ہے۔ براہِ مہربانی سب کے ساتھ یک ساں سلوک کیا کریں۔ نیوٹرل نہ بنیں، کیا آپ جانتی ہیں کہ عمران خان نے نیوٹرلز کو کس سے تشبیہ دی تھی۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: سلیم صافی اور کچھ دیگر جیّد صحافی سو فی صد درست ہی کہتے ہیں۔ ’’قومِ یوتھ‘‘ (انصافیوں) کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ ہوا ہے کہ اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہوگئی ہیں۔ بس، ایک بھیڑچال ہے، سب آنکیں بند کیے ایک دوسرے کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ خان صاحب کو خود نہیں معلوم ہوتا کہ انہوں نے کل کیا کہا تھا اور آج کیا کہنا ہے۔ جو شخص ’’یوٹرن‘‘ کو خُوبی گردانتا ہو، اُس سے اور کیا بعید۔ ایک طرف آپ ہمیں سب کے ساتھ یک ساں سلوک کی تلقین کر رہے ہیں، دوسری طرف نیوٹرل ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ اوبھائی! ہم تو اوّل روز سے ’’عمرانیات‘‘ بلکہ ہر واہیات کے سخت خلاف ہیں، ہم کہاں سے نیوٹرل ہوگئے۔
کاغذ اور قلم سے رشتہ
اُمید کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کی ٹیم خیریت سے ہوگی۔ بارشوں کی وجہ سے پوسٹ آفس جانے میں تاخیر ہوگئی اور اگلا جریدہ بھی آن پہنچا، تو سوچا، چلو اس خُوب صُورت شمارے کو پڑھ کر اس پر بھی تبصرہ کر دیتے ہیں۔ مَیں ہمیشہ سب سے پہلے ’’آپ کا صفحہ‘‘ پڑھتی ہوں۔ ارے یہ کیا… سب سے پہلے نمبر پر ہمارا خط، واہ بھئی واہ، مزہ آگیا۔ دل سے ڈھیروں دُعائیں نکلیں۔ واقعی ’’جنگ اخبار‘‘ پورے پاکستان کا اخبار ہے، جس نے اس کمپیوٹرائزڈ دَور میں بھی ہمارا کاغذ اور قلم سے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد غزالی کا ’’تذکرہ اللہ والوں کا‘‘ میں ہماری ہدایت کے لیے اتنا خُوب صُورت مضمون لکھنے کا بےحد شکریہ۔ ’’انٹرویو‘‘ میں پیاری سی شفق رفیع، پاکستان کی پہلی بین الاقوامی مِکسڈ مارشل آرٹس فائٹر، انیتا کریم سے دل چسپ باتیں کرتی نظر آئیں۔ منور مرزا ’’حالات و واقعات میں‘‘ نیٹو کی اگلے دس برس کی حکمتِ عملی بیان کر رہے تھے۔
’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر آصف چنڑ نے بروکن ہارٹ سینڈروم سے متعلق معلوماتی مضمون پیش کیا۔ سلمیٰ اعوان ’’جہانِ دیگر‘‘ میں بہت ہی شان دار انداز سے چِین کی سیر کروا رہی ہیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر فریدہ انجم اور عشرت جہاں کے مضامین اپنی اپنی جگہ بےمثال تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر عالیہ کاشف کا رائٹ اَپ پسند آیا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کی دونوں کہانیاں محمّد ہمایوں ظفر نے عُمدگی سے مرتّب کیں۔ عرفان جاوید ’’مَن موجی‘‘ میں اسحاق نُور کا احوالِ زیست بہترین طور پر رقم کر رہے ہیں۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے بھی سب ہی پیغامات اچھے تھے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں عشرت زاہد کا افسانہ پسند آیا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کے تینوں واقعات واقعی بُھولنے والے نہیں تھے۔ اور اب آتی ہوں ’’آپ کا صفحہ‘‘ یعنی اپنے صفحے کی طرف۔ اپنا خط دیکھ کر تو بہت خوشی ہوئی ہی، باقی خطوط کا بھی جواب نہ تھا اور آپ کے جوابات کی تو بات ہی الگ ہے۔ (خالدہ سمیع، گلستانِ جوہر، کراچی)
ج:یہ صرف جنگ اخبار کا کمال نہیں، آپ لوگ بھی قابلِ صد ستائش ہیں، جو آج کے اس برق رفتار، ڈیجیٹل میڈیائی دَور میں بھی خط و کتابت جیسی قدیم، فرسودہ روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ شاباش!قارئین ِجنگ، سنڈے میگزین !!
دل اداس ہو تو…
یقینِ کامل ہے کہ آپ بہ عافیت ہوں گی، کیوں کہ ڈھیروں قارئین کی دلی دُعائیں جو آپ لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ منہگائی سے تو نبرد آزما تھے ہی، طوفانی برسات سے بھی مقابلہ کرنا پڑ گیا۔ حالاں کہ ہم تو برسات کی بوندوں کو ترستے ہی رہتے ہیں۔ میگزین کی بات کروں، تو ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سے سیراب و فیض یاب ہوتے آگے بڑھے، تو فون کالز پر لاکھوں کے نقصانات کی ہیڈنگ پر نظر پڑی، تو دل کانپ کے رہ گیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں مُلکی معیشت بچانے کی بات ہو رہی تھی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ پر وہی پرانا مشورہ کہ ’’ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں‘‘۔
’’جہانِ دیگر‘‘ دیکھا، مگر دل اداس ہو تو نظارے بھی کہاں لُطف دیتے ہیں۔ ’’متفرق‘‘ کی تحریریں معلومات بہم پہنچا رہی تھیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ بہت ہی پیارا گھر ہے۔ سب تحریریں بہت اچھی تھیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ بس ٹھیک ہی تھا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کے واقعات اچھے تھے۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ اس صفحے کا تو کوئی مول ہی نہیں۔ پلیز میری دو تحریریں ’’پیارا گھر‘‘ اور دو ناقابل فراموش کے لیے آپ کے پاس محفوظ ہیں۔ ذرا اُن پر بھی کچھ نظر کرم فرما دیں۔ (نرجس مختار، خیر پور میرس، سندھ)
ج:تحریریں قابلِ اشاعت ہوئیں، تو باری آنے پر شایع ہوجائیں گی اور دل اداس ہونے کی آپ نےجو بات کی، تو بلاشبہ سیلاب اور سیلاب کےبعد کی صورتِ حال پر ہر حسّاس دل دُکھی ہے۔
ہونہار دریافت ہو رہے ہیں
مرزا غالب خطوط کی اہمیت بابت لکھتے ہیں،’’مَیں اس تنہائی میں صرف خطوط کے بھروسے جیتا ہوں، یعنی جس کا خط آیا، مَیں نے جانا کہ وہ شخص تشریف لایا۔‘‘ آپ کے یہاں بھی پورے پاکستان کے چپّے چپّے سے خطوط کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی بدولت کئی ہونہار دریافت ہوئے اور ہو رہے ہیں، جس میں اڈیالہ جیل کے اسیران تک شامل ہیں۔ واقعی، سنڈے میگزین میں اگر یہ’’آپ کا صفحہ‘‘ نہ ہوتا تو جریدہ خاصا بے رونق رہتا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ایک کپ چائے عشرت جہاں کی بہت عُمدہ تحریر تھی، لگتا ہے، اُن کا معاشرتی حقیقتوں سے متعلق کافی گہرا مشاہدہ ہے۔ ’’اک رشتہ، اک کہانی‘‘ بھی خُوب صُورت سلسلہ ہے۔
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد غزالی کی تحریر میں اکبر بادشاہ کے دَور کا حال پڑھ کر دل بہت دُکھی ہوا۔ ویسے پاکستان کے موجودہ حالات بھی اُس دَورسےکچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے برطانیہ کی مثال کے ساتھ مُلکی حالات کا بہترین تجزیہ کیا۔ ’’ماں کے دودھ‘‘ سےمتعلق مضمون نے معلومات میں خاصا اضافہ کیا۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں سلمیٰ اعوان چین کی سیر کےساتھ تہذیب و ثقافت سے بھی خُوب آگاہ کر رہی ہیں۔ عرفان جاوید کی کاوش ’’بَڈی ماموں‘‘ بھی لاجواب تحریر ہے۔ سچ کہوں تو عرفان جاوید کے اندازِ تحریر کا تو کوئی مول ہی نہیں۔ (محمّد ادریس سلیمان، سعدی ٹائون، کراچی)
ج:آپ کا غالباً یہ پہلا نامہ ہے۔ مطلب ہونہاروں کی آمد کا سلسلہ پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ آپ کو آئندہ بھی آتے رہنا چاہیے۔
فی امان اللہ
اس ہفتے کی چٹھی
’’آدمی‘‘ میں عرفان جاوید پورے سازوسامان کے ساتھ، اپنی تحریر کا جادو جگانے میں کام یاب نظر آتے ہیں۔ ماشاء اللہ اندازِ نگارش، گویا موتیوں کی بارش۔ وہ جیسے ایک سحر انگیز، اُچھوتے، منفرد کردار اسحاق نُور کو مَن موجی کے طور پر لے کر آئے ہیں، یہ اُن ہی کا کمالِ فن و عرفان ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنی تحریر کو ’’زندۂ جاوید‘‘ کردیا ہے۔ آپ کا سلسلہ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ بہت ہی مفید، صحت بخش اور معلوماتی سلسلہ ہے، ویسے تو تمام ہی معالج بہت معلوماتی مضامین تحریر کرتے ہیں، لیکن خاص طور پر پروفیسر ڈاکٹر غلام علی مندرہ والا اور ڈاکٹر سیّد امجد علی جعفری کے مضامین انتہائی متاثر کُن اور عوامی زبان میں ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ضیغم عباس کا بہت معلوماتی مضمون بھی نظر سے گزرا۔ باقی تمام ہی سلسلے ناقابلِ فراموش، اِک رشتہ، اِک کہانی، ڈائجسٹ، متفرق اور نئی کتابیں وغیرہ لاجواب ہیں۔ تبصرے کی بات آئی، تو مَیں تو یہی کہوں گا کہ اختر سعیدی کو تاحیات اِسی کام پر لگادیں، اُن سے بہتر کتابوں پر تبصرہ شاید ہی کوئی کرسکے۔ دوسرے نمبر پر منور راجپوت ہیں۔ وہ ہے ناں ؎ کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیان اور۔ اِسی طرح اختر سعیدی کا بھی اندازِ تبصرہ بہت منفرد اور جاذبیت لیے ہوتا ہے۔ سچ کہوں تو بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جنہیں محض30روپے میں دنیا بھر کی معلومات کے علاوہ بہت علمی و ادبی اور صحت بخش نگارشات پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ اس منہگائی کے دَور میں تو 30روپے میں بمشکل ایک سموسہ ہی آتا ہے، جس سے پیٹ بھی نہیں بَھر پاتا۔
جب کہ سنڈے میگزین (مع جنگ اخبار) اہلِ علم و ادب کا ایک ہفتے تک علمی و ادبی پیٹ بَھرے رکھتا ہے۔ اور ہم تو اتوار کی صُبح اِسی سے ناشتا کر کے اگلے اتوار تک کے لیےشکم سیر ہو جاتے ہیں۔ پچھلے کسی شمارے میں پروفیسر منصور علی خان کا مرحومین پروفیسر معراج اور پروفیسر مجیب ظفر انوار کو یاد کرنا اچھا لگا۔ مگر 31؍ جولائی کے شمارے میں پروفیسر صاحب نے محمود میاں کی غیر حاضری پر اپنے خدشات کو سازش کا رنگ دیتے ہوئے اسٹاف پر جو تشکیک کا اظہار کیا، وہ بہت معیوب لگا کہ اتنے سینئر اور بزرگ پروفیسر کو ایسی بات کسی طور زیب نہیں دیتی۔ خیر، آپ نے اپنے جواب سے خاصی حد تک تشفّی کردی تھی۔
ایک بات اور 31؍ جولائی ہی کے شمارے میں ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں پروفیسر ثاقب ریاض، اسلام آباد کے اپنے والدِ مرحوم سے متعلق مضمون کونچلے حصّے میں شایع کیا گیا، جب کہ دوسری تحریر، جو کسی مرحومہ خاتون سے متعلق تھی، اُسے نمایاں جگہ دی گئی، تو یوں محسوس ہوا کہ ایک انتہائی فرض شناس، وطن پرست اور مُلکی و غیرمُلکی اعزازات کے حامل شخص پر ایک گھریلو خاتون کو فوقیت دے دی گئی، تو تھوڑا عجیب معلوم ہوا۔ کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے، لیکن وہی بات کہ میگزین میں جگہ کی کم یابی کے باعث طوالت سے اجتناب ہی برتنا چاہیے۔ آپ چاہیں تو خط کو ایڈٹ کرکے (لیکن مجیب ظفر انوار والی ایڈیٹنگ نہیں) مختصر بھی کرسکتی ہیں۔ (ہیومیو ڈاکٹر، محمّد شمیم نوید، گلشن اقبال، کراچی)
ج: صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ سے متعلق آپ نے بالکل صحیح نشان دہی کی۔ اور صفحہ انچارج کی اس غلطی کا اندازہ ہمیں آپ کی نشان دہی سے قبل ہی ہوگیا تھا۔ بہرحال، آئندہ مزید احتیاط برتنے کی کوشش کریں گے۔
گوشہ برقی خطوط
* منور مرزا صاحب کا آرٹیکل ’’جنرل قمر جاوید باجوہ ڈاکٹرائن ‘‘پڑھا اور پڑھ کے شدید دُکھ ہوا کہ انہوں نے لکھا ’’اور ہمارے اوور سیز بھائی حبّ الوطنی کا عَلم اُٹھائے اس عمل میں شامل ہو گئے۔ جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ان کا مُلکی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘ منور مرزا کون ہوتے ہیں، ہماری حبّ الوطنی پر شک کرنے والے اور ہمارا مُلکی سیاست سے کیوں کچھ لینا دینا نہیں، کیا آپ اس کی وضاحت فرمائیں گی۔ ( ضیاء الدین مصلح، اوورسیز پاکستانی)
ج: جی بالکل۔ ہم اس کی وضاحت ضرور کرنا چاہیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ منور مرزا صاحب نے آپ لوگوں کی حبّ الوطنی پر قطعاً کوئی شک نہیں کیا تھا، آپ بات کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ کیا یہ سچ نہیں کہ بیرونِ مُلک مقیم پاکستانیوں یا دیگر ممالک کی شہریت کے حامل پاکستانیوں کا مُلکی حالات و واقعات اور مُلکی سیاست سے صرف فیس بُک پوسٹس ڈالنے، ٹوئٹر، واٹس ایپ کے اسٹیٹس اَپ ڈیٹ کرنے یا کچھ وی لاگز بنانے تک کا ہی تعلق ہے۔ آپ لوگ خود تو ترقّی یافتہ ممالک کی فراہم کردہ تمام تر سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور ہمیں وہاں بیٹھ کر ’’ہم کوئی غلام نہیں‘‘ ’’امریکا کا جو یار ہے، غدّار ہے‘‘ جیسے پاٹ پڑھاتے رہتے ہیں۔ اس مُلک میں رہتے بستے ہوئے ہم جو کچھ جھیل رہے ہیں، تو مُلکی حالات اور سیاست پر بے لاگ تبصروں کا پہلا حق بھی ہمارا ہی ہے۔
* واقعی آپ لوگوں کا معیار بڑا سخت ہے۔ میری انتہائی محنت اور عرق ریزی سے لکھی گئی تمام ہی تحریریں ری جیکٹ ہوتی چلی آرہی ہیں۔ مگر مجھے گلہ نہیں بلکہ خوشی ہے کہ آپ لوگ معیار پر سمجھوتا ہرگز نہیں کرتے۔ بہرحال، اُمید پہ دنیا قائم ہے۔ مَیں اپنی سی کوشش تو ضرور کرتی رہوں گی۔ (فوزیہ ناہید سیال، لاہور)
ج: یہ بات… ہمیں اپنے قارئین اور لکھاریوں کی طرف سے یہی اسپرٹ چاہیے۔ اور اس بات کا یقین بھی رکھیں کہ جستجو اور کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
قارئینِ کرام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk