مدثر اعجاز، لاہور
دُنیا بَھر میں مختلف تنظیموں کے اشتراک سے19 نومبر کو ’’مَردوں کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا ایک مقصد معاشرے میں مَرد کا مثبت کردار اُجاگر کرنا ہے۔ ویسے تو یہ دِن منانے کا تصوّر 1991ء میں پیش کیا گیا، جسے 1992ء میں منظوری ملی ،مگر باقاعدہ طور پر’’ مَردوں کا عالمی یوم ‘‘ منانے کا آغاز 1999ء سے ہوا۔ ڈاکٹر جان گرے(John Gray) نے اپنی تحقیق میں’’عورت و مَرد کو اُن کی نفسیات اور عادات میں تضادات کی بنا پر دو مختلف ستاروں کا باسی قرار دیا ہے۔ اُن کے نزدیک‘‘ اِن دونوں کی سوچ اور نفسیات میں اُتنا ہی فرق ہے، جتنا مریخ اور زہرہ میں۔‘‘ باوجود اس کے کہ اس تحقیق کو پوری دُنیا میں غیر معمولی پزیرائی حاصل ہوئی، ہم اس حقیقت کوقطعاً نہیں جھٹلا سکتے کہ مَرد و عورت معاشرے کے دو اہم ستون اور فطرتاً ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
خالقِ کائنات نے مَردو زن کو الگ الگ جسمانی ساخت اور ظاہری خُوبیوں سے نواز کر کارِ جہاں میں ایک دوسرے کا دستِ راست بنادیا۔ جس طرح مَرد کے بغیر عورت اور عورت کے بغیر مَرد کی زندگی نامکمل، ادھوری تصوّر کی جاتی ہے، بالکل اسی طرح انسانی معاشرے کی تکمیل اور خوش حال خاندان کا تصوّر بھی ان دونوں ہی کے باہمی تعاون اور اشتراک سے مشروط ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ انسانی معاشرے میں خواتین کے کردار اور حقوق پر تو خاصی بحث کی جاتی ہے، لیکن مَرد کے کردار اور ذمّے داریوں کو ذرا کم ہی زیرِ بحث لایا جاتا ہے، جس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں، لیکن بنیادی وجہ معاشرے اور خاندان میں وہ مقام ہے، جو مَرد کو برسوں سے حاصل ہے، اور اس میں بحث کی زیادہ گنجایش بھی موجود نہیں۔
بہرکیف، مَرد و زن کا اپنا اپنا مقام اور حیثیت ہے، جسے تسلیم کرنا ہی ایک مہذّب معاشرے کی نشانی ہے۔ خاندانی نظام پر تحقیق کرنے والے اداروں نے معاشرے اور اس کی بنیادی اکائی، خاندان میں مَرد کے کردار کے تعیّن پر سیر حاصل تحقیق کی ہے، جس کا ایک مختصر جائزہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے، لیکن اس سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ دُنیا کے کسی بھی منظّم معاشرے میں فرائض کی صِنفی بنیادوں پر تقسیم کا کوئی ایک طریقہ موجود نہیں۔
مطلب یہ کہ گھر یا معاشرے کا کوئی کام کسی ایک صنف کے لیے مخصوص نہیں۔ مغربی معاشرے میں آج بھی کئی خواتین ملازمت کے بجائے گھروں میں رہ کر گھریلو امور انجام دیتی ہیں، تو مشرقی معاشرے میں کئی مَرد گھریلو امور کی انجام دہی اور خواتین معاشی میدان میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے ہیں۔
٭سرپرست ِاعلی: اسلامی معاشرے میں مَرد کو خاندان کا سرپرستِ اعلیٰ مقرر کیا گیا ،جسے گھر کے اہم امور میں فیصلوں کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمارے مُلک میں کئی اہم اور بڑے عُہدوں پر مَرد ہی فائز ہیں اور مُلکی اور بین الاقوامی سیاست میں بھی اُن ہی زیادہ تعداد نظر آتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ گھریلو مسائل کے حل سے سیاست کے محاذ تک ہر میدان میں اُنہیں عورت کی معاونت بھی حاصل ہے۔ خاندانی نظام پر تحقیق کرنے والے محقّقین کے نزدیک ایک سرپرستِ اعلیٰ کورحم دِلی ،شفت اور محبّت جیسی مثبت صفات کاحامل ہونا چاہیے۔
معاملہ فہم ہونے کے ساتھ واقعات اور معاملات کا تجزیہ کرکے فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ اچھی عادات کی بدولت خاندان بَھر کے لیے قابلِ تقلید اور خود سے وابستہ تمام افراد سے محبّت کرتا ہو۔ دراصل خاندان کے سرپرستِ اعلیٰ کو ایک لیڈر کی طرح کام کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود سے وابستہ ہر رشتے کو عزّت و تکریم دے اور گھر کے ہر فرد کو بَھرپور زندگی گزارنے کاموقع بھی فراہم کرے۔ اس دُنیا میں ہر فرد رشتوں کی ڈور سے بندھا ہے اور یہ ڈور تب ہی مضبوط و پائیدار ہو سکتی ہے کہ جب سربراہ ہر رشتے کو اہمیت وعزّت دے اور اُس کا خیال بھی رکھے۔
٭محافظ: ہر معاشرے اور خاندان میں مَرد کا سب سے اہم کردار محافظ کا ہے۔ مَردوں کے آہنی اعصاب، مضبوط جسمانی ساخت کی بنیاد پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خواتین کی نسبت خطرات سے نمٹنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ زمانۂ قدیم میں بھی جنگ و جدل، شکار برائے خوراک اور مُہلک جنگلی جانوروں سے قبیلوں اور خاندانوں کو بچانے جیسے مشکل کام مَردوں ہی کے سپرد تھے۔
آج بھی باپ، بھائی یا شوہر کی موجودگی گھر کے اندر اور باہر خواتین کو تحفّظ کا احساس دلاتی ہے۔ مَرد صرف جان و مال ہی کے محافظ نہیں ہوتے، بلکہ خاندان کی عزّت و آبرو کی حفاظت بھی ان کی ذمّے داری ہے، لیکن یہ فریضہ نبھانے کے لیے ضروری ہے کہ سرپرستِ اعلیٰ کو رشتے نبھانے آتے ہوں۔ وہ ہر رشتے کا احترام کرنا جانتا ہو۔ ہمارے دین میں خاص طور پر بچّوں، خواتین اور ضعیفوں سے حُسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔
٭معاشی سرپرست: خاندان کی مالی کفالت کی بنیادی ذمّے داری بھی مَردوں ہی پر عائد ہوتی ہے اور ان کا فرض بنتا ہے کہ بحیثیت باپ یا شوہر خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی تمام تر محنت اور ذہانت بروئے کار لائیں۔
اسلامی معاشرے میں شوہر کو اپنے بیوی بچّوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ امریکا جیسے ترقّی یافتہ مُلک میں اکثر خواتین گھروں میں رہ کر امورِ خانہ داری نبھاتی ہیں اور جن خاندانوں میں خواتین ملازمت کرتی ہیں، وہاں بھی گھر کے خرچے کا بڑا حصّہ پورا کرنے کی ذمےّ داری مَرد ہی پرعائد ہوتی ہے۔ معاشرتی روایات میں اگر مَرد کو معاشی ضروریات پوری کرنے کی ذمّے داری سونپی گئی ہے، تو گھر کے دیگر افراد کو بھی اِسراف سے اجتناب اور میانہ روی کا حکم دیا گیا۔
٭مذہبی قیادت: ہمارے مذہب میں مَرد و عورت میں بحیثیت انسان کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا مقام اور مرتبہ ایک جیسا ہے۔ تاہم، جسمانی ساخت کی بنیاد پر دونوں کے فرائض الگ الگ ہیں۔ اسلام میں اذان ، امامت اور مساجد میں خطبات وغیرہ کی ذمّے داری مَردوں کو سونپی گئی ہے۔ مساجد ہماری اجتماعی عبادات کا ایک اہم مرکز ہیں۔ مساجد ہی وہ بہترین جگہیں ہیں، جہاں مسلمان ایک دوسرے سے میل ملاپ کے ذریعے نہ صرف دینی، بلکہ دُنیاوی مسائل کا بھی حل تلاش کرتے ہیں۔
اگرچہ خواتین بھی دینی مدارس اور محافل میں دین کی ترویج اور اصلاحِ معاشرہ کا کام بخُوبی انجام دے رہی ہیں، مگر قران و سنّت کی روشنی میں معاشرے کی اصلاح میں مَردوں کا کردار عملی طور پر زیادہ نمایاں ہے۔
٭ایثار اور قربانی: ہمارے یہاں معاشرتی اور خاندانی نظام میں عورت کے ایثار و قربانی کی روایات عام ہیں، مگر مَردوں کے ایثار کے جذبے کو شاید وہ اہمیت نہیں ملی، جو ملنی چاہیے۔ حالاں کہ خاندان کا ایک مثالی سربراہ خواہ باپ ہو یا بھائی یا پھر شوہر، خود سے وابستہ افراد کی معاشی ذمّے داریاں پوری کرنے کے لیےحالات کی چکّی میں پِس کر اپنی توانائیاں کھو بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ کئی مَرد اپنے فرصت کے اوقات بھی اہلِ خانہ کے لیے کمانے میں گزار دیتے ہیں۔
نیز، پردیس جاکر اپنوں سے دُوری کا کرب بھی سہتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ مَردوں کے مثبت رویّے نمایاں نہیں کیے جاتے، وگر نہ تو وجودِ مرد بھی اسی کائنات کا ایک اہم، اَن مول حصّہ ہے۔