مدّتوں سے بچھڑے افراد کے ملاپ کے مناظر عام طور پر فلموں، ڈراموں میں دیکھنے یا کتابوں میں پڑھنے کو ملتے ہیں اور پھر طویل جدائی کی یہ تشنگی محبّت کے حرارت آمیز لمس ہی سے دُور ہوتی نظر آتی ہے، لیکن31مئی2023ء کو کارسویل فورٹ ورتھ، ٹیکساس(امریکا) کی فیڈرل میڈیکل سینٹر جیل میں، جسے عرفِ عام میں ’’جہنّم کا گڑھا‘‘ کہا جاتا ہے، دو بہنوں کی 20سال بعد ہونے والی ملاقات اِس اعتبار سے مختلف، انوکھی اور انتہائی اَلم ناک تھی کہ اس ’’ملاقات‘‘ میں ایک دوسرے کو گلے لگانے کی اجازت تھی اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرسکتی تھیں۔ 86 برس قید کی سزا پانے والی پاکستان کی51سالہ ڈاکٹر عافیہ اور ان کی بہن، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی یہ ملاقات عالمی میڈیا کا بھی موضوع رہی، لیکن یہ چند ایک بریکنگ نیوز ان بہنوں کے دلی جذبات و احساسات کی ہرگز عکّاس نہیں کہ جن سے وہ پور پور بھیگی،لب ریز تھیں۔
اِس منظر کا صرف تصوّر ہی کیا جاسکتا ہے کہ جب ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والی بہنوں نے دو دہائیوں بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر آگے بڑھ کے گلے ملنے یا چُھونے کی کوشش کی ہوگی، تو کیسے اُن کے درمیان ایک دبیز شیشہ حائل ہوگیا ہوگا۔ وہ شیشہ جس کے ایک طرف ڈاکٹر فوزیہ اور دوسری طرف، کانوں میں ایئر فون لگائے ڈاکٹر عافیہ بیٹھی تھیں۔ دونوں کے کان ایک دوسرے کی آواز سُننے کو کیسے ترس رہے ہوں گے، یہ کچھ اُن کے دل ہی جانتے ہوں گے اور ان آوازوں کے درمیان بھی بار بار جیل کی بھاری کنجیوں اور محافظوں کے بُوٹوں کی دھمک خلل ڈال رہی تھی۔
ڈاکٹر فوزیہ کی بے تاب نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ اُن کی بہن کس قدر کم زور و نحیف ہوگئی ہیں، اُن کے اوپر کے چار دانت ٹوٹے ہوئے ہیں، جب کہ سَر پر تشدّد کی وجہ سے اُنہیں سُننے میں بھی دقّت پیش آرہی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ نے سفید اسکارف اوڑھ رکھا تھا اور وہ جیل کے خاکی رنگ یونی فارم میں ملبوس تھیں۔ اُنھیں اُن کے بیٹے اور بیٹی کی تصاویر دِکھانے پر پابندی عاید تھی۔ ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ وہ ہر وقت اپنی فیملی اور اپنے بچّوں کو یاد کرتی ہیں۔ پہلے روز ڈھائی، تین گھنٹے کی اس ملاقات میں اُنہوں نے پہلا گھنٹہ جیل میں ہونے والی بدسلوکیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے گزارا۔
ڈاکٹر فوزیہ نے اپنی بہن کی باتوں سے محسوس کیا کہ 2003ء میں بچّوں سمیت اغوا کے واقعات اُن کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ اس ملاقات کے حوالے سے میڈیا سے فوری طور پر کوئی گفتگو کرنے سے قاصر تھیں۔ وہ جیل سے باہر آنے کے بعد کافی دیر تک گاڑی میں بیٹھ کر روتی رہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ملاقات انتہائی افسردہ کردینے والی تھی۔ ڈاکٹر فوزیہ کے ساتھ جماعت اسلامی کے سینیٹر، مشتاق احمد خان اور اُن کے وکیل، کلائیو اسمتھ بھی تھے۔ اُن کی تین دنوں میں تین ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ڈاکٹر فوزیہ کے لیے اپنی بہن سے یہ ملاقات تشنگی کے لق دق صحرا میں ایک قطرے ہی کے مانند تھی۔
’’بریک تھرو‘‘
ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے درمیان20 سال میں پہلی مرتبہ ہونے والی یہ ملاقات اگرچہ مختصر تھی، لیکن بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا نے اسے’’عافیہ صدیقی رہائی موومنٹ‘‘ میں ایک بڑا ’’بریک تھرو‘‘ قرار دیا ہے۔ اِس سے قبل بھی کئی سال پہلے ایک پاکستانی وفد نے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی تھی، لیکن حالیہ ملاقات کو بعض حلقے عافیہ کی رہائی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، کیوں کہ اب افغانستان کی جنگ ختم ہو چُکی ہے اور گوانتاناموبے کے تقریباً80 فی صد قیدی رہائی پا چُکے ہیں۔نیز، امریکا بھی اب جمہوریت کے دامن پر لگا یہ داغ دھونا چاہتا ہے، اِس لیے توقّع کی جا رہی ہے کہ افغانستان کی جنگ سے جنم لینے والا’’عافیہ صدیقی المیہ‘‘ بھی اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔
یہ المیہ کیسے اور کب شروع ہوا؟ کس طرح ایک ہنستا بستا علمی و ادبی اور دینی گھرانہ اجڑ گیا اور کس طرح امریکا میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی نسبتاً ایک گُم نام ذہین لڑکی، جاسوسی ناولز کا سا ایک سنسنی خیز کردار بن کر بین الاقوامی خبروں کا ایسا عنوان بن گئی کہ جو آج بھی اَسرار و رموز کے پردوں میں لِپٹا ہوا ہے۔ اگر عافیہ صدیقی رہا ہو بھی جائیں، تب بھی شاید اصل حقائق کبھی منظرِ عام پر نہیں آسکیں گے کہ امریکا نے تو حقیقتِ حال سے کبھی پردہ نہیں اُٹھایا اور عافیہ صدیقی کی فیملی کے ذرایع بھی پورا سچ بتانے پر آمادہ نہیں۔ لیکن بہرحال، یہ ایک انسانی المیہ ہے، جس کا ہر صُورت مداوا ہونا چاہیے۔
دست یاب معلومات کے مطابق، ڈاکٹر عافیہ صدیقی 1972ء میں کراچی کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئیں، اُن کے والد، محمّد صالح صدیقی ایک تربیت یافتہ نیورو سرجن تھے اور یہ گھرانہ اپنے دینی تشخّص کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ اُنہوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کراچی کے ایک اسکول سے کیا۔ عافیہ شروع ہی سے ایک ذہین اور فعال طالبہ کے طور پر مشہور تھیں، جو مباحثوں کے مقابلوں میں اکثر پہلے نمبر پر رہتیں۔ امریکا میں آرکیٹکچر کی تعلیم حاصل کرنے والے اُن کے بھائی نے اُنہیں بھی مزید تعلیم کے لیے امریکا آنے کا مشورہ دیا۔ لہٰذا، وہ اسٹوڈنٹ ویزے پر 1990ء میں امریکا چلی گئیں، جہاں بہترین گریڈز کی بنا پر اُنہیں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں داخلہ ملا، جہاں سے اُنہوں نے حیاتیات (BIOLOGY)میں گریجویشن کی اور بعدازاں، برینڈیس یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اُن کے ڈاکٹریٹ کا مقالہ ’’تخیّل کے ذریعے سیکھنا‘‘کے موضوع پر تھا، جس میں اُنہوں نے بچّوں میں سیکھنے کی تیکنیک بہتر بنانے سے متعلق اپنی تحقیق پیش کی تھی۔ اُنہوں نے ایٹمی، کیمیاوی یا طب کے شعبوں میں کبھی کام نہیں کیا۔ ڈاکٹر عافیہ دورانِ تعلیم پاکستان آئیں اور مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعے پر اپنی ایک تحقیق کے سلسلے میں مختلف شخصیات سے رابطہ کیا۔ اُن کی تحقیق کا عنوان ’’پاکستان کی اسلامائزیشن اور عورتوں پر اُس کےاثرات‘‘ تھا۔ اِس ریسرچ پر اُنہیں کیرول ولسن ایوارڈ بھی دیا گیا۔ علمی و فکری حلقے اُن سے اِس قدر متاثر تھے کہ اُن کےاستاد، پروفیسر نوم چومسکی نے ایک بار کہا تھا کہ’’ عافیہ جس جگہ جائے گی، وہاں کا نظام تبدیل کردے گی۔‘‘
وہ اِتنی نرم دل تھیں کہ گھر کے پالتو جانور بھی اُن سے مانوس تھے۔ اولڈ ویمن ہوم میں اعزازی طور پر خدمات انجام دیتی تھیں۔ اُنہیں اپنے وطن سے محبّت تھی اور اِسی بنا پر بار بار کی پیش کش کے باوجود امریکا کی شہریت قبول نہیں کی۔بہرحال، زندگی اطمینان سے بسر ہو رہی تھی کہ 1995ء میں کراچی کے ایک نوجوان، ڈاکٹر امجد محمّد خان سے اُن کی شادی ہوگئی، جو اُس وقت امریکا کے ایک اسپتال میں اینتھیزیالوجسٹ کے طور پر کام کررہے تھے۔ ایک سال بعد اُن کے ہاں پہلا بیٹا، احمد اور 1998ء میں بیٹی مریم نے جنم لیا۔ 2002ء میں سلیمان پیدا ہوا۔( یاد رہے، احمد اور مریم کے پاس امریکی شہریت ہے اور سلیمان سے متعلق کسی کو علم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔
افراتفری اور پکڑ دھکڑ کے دَوران وہ کہاں غائب ہوا، آج تک پتا نہیں چل سکا۔) بہرکیف، کچھ عرصے بعد میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور ڈاکٹر امجد نے 2002ء میں اپنی فیملی پاکستان منتقل کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر عافیہ کو طلاق بھی دے دی، جب کہ اُس وقت وہ تیسرے بچّے کو جنم دینے والی تھیں۔ شوہر نے اُن پر القاعدہ سے تعلق کا بھی الزام عاید کیا، جب کہ عافیہ کے خاندان کے مطابق، اُن کے شوہر اُنہیں زدوکوب کیا کرتے ہیں۔ بہرحال، ڈاکٹر عافیہ کی ازدواجی زندگی کا یہ ایک الم ناک دَور تھا، لیکن اُنھیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے ایّام اُن کے لیے کس قدر خوف ناک اور ہول ناک آزمائش کے حامل ہوں گے۔
پاکستان سے اغوا
وہ مارچ 2003ء کی ایک شام کراچی سے اسلام آباد جانے کے لیے ٹیکسی میں سوار ہو کر ائیر پورٹ جا رہی تھیں کہ سفاری پارک کے نزدیک نامعلوم افراد نے اُنہیں روکا اور اغوا کر کے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ اور یہی وہ شام تھی، جب اس خاندان کے لیے آزمائشوں اور سختیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ڈاکٹر عافیہ کی گم شُدگی اور اغوا کی خبریں نہ صرف مُلکی، بلکہ غیر مُلکی میڈیا پر بھی نشر ہوئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پر احتجاج کیا۔ اُس وقت جنرل پرویز مشرّف کی حکومت تھی۔
ڈاکٹر عافیہ کی فیملی کو خاموش رہنے کا کہا گیا۔31 مارچ 2003ء کو پاکستان کے تمام قومی اخبارات میں یہ خبر شہ سُرخیوں میں شائع ہوئی کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی حکومت کے حوالے کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ کے اغوا پر تمام مکتبہ ہائے فکر نے احتجاج کیا، لیکن جماعتِ اسلامی نے اِس تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور یہ تحریک آج بھی نہ صرف جاری ہے، بلکہ زور پکڑ رہی ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے 20سال بعد حالیہ ملاقات بھی اِسی تحریک کا نتیجہ ہے، جس کے بعد امریکا میں مقیم مسلمان بھی اِس مہم میں شامل ہوگئے ہیں۔
قیدی نمبر 650
2003ء میں اغوا ہونے کے بعد 2008ء تک ڈاکٹر عافیہ مُلکی اور عالمی منظرنامے سے غائب رہیں۔ کسی کو علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہیں۔اور پھر، 2008ء میں یہ پُراسرار خاموشی اُس وقت ٹوٹی، جب اُن کے سب سے بڑے بیٹے، احمد کو اُن کی نانی کے سپرد کیا گیا۔ 5 سال بعد ڈاکٹر عافیہ کی موجودگی افغانستان کے شہر غزنی میں ظاہر ہوئی اور اُن پر لگا’’مِسنگ پرسنز‘‘ کا لیبل ہٹ گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بلگرام کے ہوائی اڈّے میں موجود ایک جیل میں قید ہیں۔ اس کا انکشاف ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری، معظّم بیگ نے اپنی کتاب میں کیا اور ڈاکٹر عافیہ کو’’گِرے لیڈی آف بلگرام‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔
اُنھوں نے لکھا کہ عافیہ جیل کی قیدی نمبر 650ہیں اور یہ کہ اُنہیں مسلسل تشدّد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بعدازاں، ایک برطانوی خاتون صحافی، ایوان ریڈلی نے بھی، جنہوں نے طالبان کی قید میں رہنے کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا، بلگرام جیل میں ڈاکٹر عافیہ کی موجودگی کی تصدیق کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر عافیہ تواتر سے مُلکی اور عالمی خبروں کا موضوع بننے لگیں۔ بلگرام جیل ہی میں اُن پر امریکیوں فوجیوں سے گن چھین کر اُن پر حملہ کرنے کا الزام عاید کیا گیا، جسے عقل و فہم قبول کرنے سے قاصر ہے کہ ایک بیمار اور نحیف خاتون اِتنا بڑا قدم کیسے اُٹھا سکتی ہے۔
اُن کا سب سے چھوٹا بیٹا، سلیمان (جو آج تک لاپتا ہے) اُن کے ساتھ تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ وہ خود بھی زخمی ہیں۔ اُنہیں خودکُش حملہ آور قرار دیا گیا، جب کہ ڈاکٹر عافیہ نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی۔بعدازاں، مقدمہ چلانے کے لیے اُنہیں امریکا منتقل کیا گیا۔ بلگرام جیل میں ڈاکٹر عافیہ سے جو بہیمانہ اور انسانیت سوز سلوک کیا گیا، اس کا ذکر اس جیل سے رہا ہونے والے ربّانی برادرز نے بھی ایک انٹرویو میں کیا۔
86 برس قید کی سزا
ڈاکٹر عافیہ کی امریکا منتقلی کے بعد گویا ظلم و ستم کا ایک نیا باب شروع ہوگیا۔ گرچہ پوری دنیا کی نظریں اس مقدمے پر تھیں، جس میں ایک خاتون پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے تھے، لیکن 5 جولائی 2009ء کو مین ہیٹن کی امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی اِس حالت میں پیش کی گئیں کہ اُن کے پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں،جب کہ اُن کا جسم اور چہرہ تشدّد سے لہولہان تھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے بَھری عدالت میں جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ’’مَیں پاگل نہیں ہوں۔ مَیں ایک مسلمان عورت ہوں، مجھے مرد فوجی زبردستی تشدّد کا نشانہ بناتے ہیں۔‘‘
اُنہوں نے بتایا کہ’’ مَیں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی عینی گواہ اور اس کی حقیقت سے واقف ہوں، کیوں کہ مَیں افغانستان ہی میں قید تھی۔‘‘ ایک پاکستانی ٹی وی چینل کے نمائندے نے پاکستانی وقت کے مطابق رات کے ایک بج کر پچاس منٹ پر یہ تمام کارروائی نیویارک سے براہِ راست رپورٹ کی۔ فروری 2010ء میں ڈاکٹر عافیہ پر ایک امریکی وفاقی عدالت میں غزنی (افغانستان) میں امریکی فوجیوں پر حملہ اور گن چھین کر اُنہیں قتل کرنے کے الزامات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں کسی امریکی اہل کار کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا، البتہ ڈاکٹر عافیہ شدید زخمی ہوئیں، لیکن تمام تر فرانزک ثبوتوں نے امریکی استغاثے کے الزامات جھوٹے ثابت کردئیے۔ قانونی مبصّرین کے مطابق اس مقدمے کی کارروائی میں بہت سے تضادات اور نقائص تھے۔
ان میں سے ایک جج نے کئی ایسے احکامات دیئے، جن میں استغاثے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور دفاع کے خلاف تعصّب اختیار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر عافیہ کو مقدمے میں اپنے دفاع کے لیے اپنی مرضی کا وکیل مقرّر کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ جج، رچرڈ برمن نے ڈاکٹر عافیہ کی جسمانی حالت اور فرانزک ثبوتوں کے باوجود اُنھیں مجرم قرار دے دیا اور 23ستمبر 2010ء کو 86برس قید کی سزا سُنا دی۔ ڈاکٹر عافیہ نے سزا سُنائے جانے کے بعد لوگوں سے کہا کہ ’’ کوئی بدلہ لینا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی تشدّد کرنا ہے۔ جنہوں نے ناانصافی کی، اُنہیں معاف کر دیا جائے۔
مَیں جج برمن کو بھی معاف کرتی ہوں۔‘‘اور وہ اُس وقت سے امریکا کی بدنامِ زمانہ جیل، فیڈرل میڈیکل سینٹر، کارسویل فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں قید ہیں، جہاں اُنھیں خصوصی رہائشی یونٹ میں رکھا گیا ہے۔ یہ جگہ قیدیوں سے بہیمانہ سلوک کے حوالے سے بدنام ہے۔ اُنہیں6x6 کے ایک ایسے سیل میں قید رکھا ہوا ہے، جس کے سامنے دو مَرد محافظ موجود رہتے ہیں اور جو ہر 20منٹ بعد سیل کا دروازہ کھول کر اندر آتے ہیں۔
امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر، حسین حقّانی سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ پر معافی نامے پہ دست خط کے لیے مسلسل دباؤ ڈالتے رہے، جب کہ ڈاکٹر عافیہ کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کسی فوجی پر حملہ نہیں کیا اور اُنہیں 2003ء میں کراچی سے بچّوں سمیت اغوا کیا گیا تھا۔ خود امریکی جج نے یہ تسلیم کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور اُنھیں صرف6 امریکی فوجیوں کے قتل کے ارادے اور اُن پر بندوق تاننے کے الزام میں سزا دی جا رہی ہے۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ’’ باوجود اس کے کہ عافیہ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں ہیں، لیکن پاکستانی وکلاء نے جو دلائل دیئے ہیں، اُن کی روشنی میں عافیہ کو86برس کی سزا دی جارہی ہے۔‘‘ سزا کے بعد ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ’’ مَیں اپنا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑتی ہوں۔‘‘جب کہ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف شیم، شیم کے نعرے بھی بلند ہوئے۔
’’انسانیت کی ماں‘‘
امریکی جج کے اس فیصلے کے خلاف پوری دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز بلند کی۔ مشہور امریکی ریسرچ اسکالر، اسٹیفن لینڈ مین نے کہا کہ’’ عافیہ کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے۔‘‘ سزا سُنائے جانے پر عدالت میں موجود عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں نے ڈاکٹر عافیہ سے یک جہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ’’ آج امریکی عدالت میں امریکی انصاف کا قتل ہوگیا۔‘‘ امریکی دانش وَروں کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک عدالت نے کوئی جرم ثابت ہوئے بغیر86برس قید کی سزا سنائی۔
متعصّب امریکی وکیل اور تجزیہ نگار، اسٹیون ڈائونز بھی، جو ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف لکھتا رہا، چیخ اُٹھا کہ’’مَیں ایک مُردہ قوم کی ایک بیٹی کی سزا کا مشاہدہ کرنے امریکی عدالت چلا گیا تھا، لیکن مَیں انسانیت کی ماں، ڈاکٹر عافیہ کو اپنا سب سے زیادہ خراجِ تحسین پیش کرکے باہر آیا ہوں۔‘‘ اِسی طرح امریکی عوام کی اکثریت نے ہم دَردی کا اظہار کیا، کیوں کہ ڈاکٹر عافیہ کئی بار یہ بیان دے چُکی تھیں کہ’’ مَیں دنیا میں امن و آشتی پھیلانا چاہتی ہوں اور یہ کہ مَیں امریکا سمیت کسی مُلک کے خلاف نہیں ہوں، مجھے ایک سازش کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘
رہائی کی کوششیں
دنیا کے دیگر مہذّب ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عوام نے اُن کے اغوا کی مذمّت کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ 2003ء میں اُن کے اغوا کے فوراً بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں پروانہ حاضریٔ ملزم کے لیے ایک پٹیشن دائر کی گئی، جس میں درخواست کی گئی کہ عدالت، پاکستانی حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا حکم دے یا اعتراف کرے کہ وہ اس کی تحویل میں ہے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایک بے گناہ خاتون تھیں(اور ہیں) جنھیں پیسوں کے لیے اغوا کیا گیا یا پھر غلط الزامات یا پھر انتہائی غلطی کے تحت حاصل کردہ ناقابلِ اعتبار انٹیلی جینس اور جھوٹی اطلاعات پر گرفتار کیا گیا۔
سندھ اور پنجاب کی ہائی کورٹس نے ڈاکٹر عافیہ کے حق میں فیصلہ دیا اور اغوا کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاق کو حکم دیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ یہ بات اہم ہے کہ عدالت نے صدر پرویز مشرف، پاکستانی حکومت اور پاکستان میں امریکی اور افغان سفراء کو حکم دیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کیا جائے یا یہ بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں، لیکن یہ تمام مطالبات اور فیصلے صدا بصحرا ثابت ہوئے۔پرویز مشرف کے بعد زرداری دورِ حکومت میں بھی اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔ 2013ء میں نواز شریف نے برسرِاقتدار آ کر ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی سے ملاقات کی اور 100دنوں میں ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کا وعدہ کیا، مگر پھر چار سال تک پوری قوم اِس وعدے کے ایفا کی منتظر رہی۔
عمران خان نے بھی وزیرِ اعظم بننے سے قبل اُن کی رہائی کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ بھی اقتدار میں آکر اُنھیں یک سر بھول گئے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگر عمران خان چاہتے، تو اپنے دورۂ امریکا اور ٹرمپ سے ملاقات میں یہ مسئلہ اُٹھا سکتے تھے کہ ٹرمپ اسی دوران ایک اسرائیلی جاسوس کو معاف کر چُکے تھے۔ اسی طرح 22کروڑ پاکستانیوں، عالمی برادری اور ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکلاء کی سخت جدوجہد کے بعد، سابق امریکی صدر بارک اوباما اپنی سبک دوشی سے قبل20 جنوری 2017ء تک پاکستانی حُکم رانوں کے ایک’’خط‘‘ کے منتظر رہے تاکہ صدارتی معافی دے کر ڈاکٹر عافیہ کو رہا کردیں، مگر میاں نواز شریف نے خط نہ لکھ کر وہ موقع بھی ضائع کر دیا۔
2008ء میں جب ڈاکٹر عافیہ کی بلگرام جیل میں موجودگی ظاہر ہوئی، تو وہ بھی اُنہیں وطن واپس لانے کا سنہری موقع تھا، جسے صدر زرداری نے ضائع کیا۔ اِسی طرح 2011ء میں امریکی جاسوس، ریمنڈ ڈیوس کے بدلے بھی ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی یقینی بنائی جاسکتی تھی، مگر زرداری حکومت نے ایسا نہ کیا۔ حقیقت یہی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہی۔ قانونی محاذ پر تازہ ترین پیش رفت 7جولائی 2023ء کو دیکھنے میں آئی، جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتِ خارجہ کو ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ ملاقاتوں کے نوٹس اُن کے و کلا کو فراہم کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ رہائی کے لیے قانونی آپشنز پر کام کر سکیں۔
رہائی کی چابی کس کے پاس…؟
اِس تمام عرصے میں پاکستانی حکومت کی سردمہری کے باوجود عوامی سطح پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی کوششیں جاری رہیں، جسے’’عافیہ رہائی موومنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اِس دَوران اُن کا بیٹا احمد اور بیٹی مریم کی عُمریں20 سال سے زائد ہوگئیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ، عصمت صدیقی اپنی بیٹی کی جُدائی کا دُکھ برداشت کرتے کرتے اور اُن کی راہ تکتے تکتے گزشتہ برس2 جولائی کو دنیا سے رخصت ہوگئیں، جب کہ والد صالح صدیقی پہلے ہی انتقال کر چُکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹی کی طلاق کا اُنہیں گہرا دُکھ تھا۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششوں کے ایک اہم کردار، جماعتِ اسلامی کے سینیٹر، مشتاق احمد خان، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور اُن کے وکیل کلائیو اسمتھ نے جیل میں ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی اور یوں 20سال پرانے کیس میں ایک بریک تھرو دیکھنے میں آیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے پشاور سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران اِس ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ’’ عافیہ کو دیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہوا۔ اُن کے اوپر کے چار دانت ٹوٹ چُکے ہیں۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہیں۔ اُنہیں انتہائی خطرناک قیدیوں کی جگہ پر رکھا گیا ہے اور زنجیروں میں لایا اور واپس لے جایا جاتا ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ کس طرح اُنہوں نے اتنا طویل عرصہ اس خوف و دہشت کی فضا میں گزارا ہوگا۔
ہم نے امریکی حکّام سے بھی ملاقات کی،جب کہ وہاں کی مسلم کمیونٹی سے بھی خاص طور پر ملے۔ ہم نے نمازِ جمعہ شیخ سلیمان کی مسجد میں ادا کی، جہاں مسلمانوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا اور امامِ مسجد نے خطبے میں اُن کا ذکر بھی کیا۔ امریکا میں ہزاروں مرد اور خواتین نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے قانونی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہماری واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے افسران کے علاوہ ترک سفارت کاروں سے بھی ملاقات ہوئی۔
ہماری کوشش ہے کہ ہم امریکی صدر اور نائب صدر کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے خطوط لکھیں۔ اِس سلسلے میں، مَیں نے چیئرمین سینیٹ سے بھی خصوصی درخواست کی ہے۔ مَیں خود بھی ایک سینیٹر کی حیثیت سے امریکی صدر کو خط لکھ رہا ہوں کہ انسانی ہم دردی کی بنیاد پر ڈاکٹر عافیہ کو رہا کیا جائے، کیوں کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ مَیں آپ کو بتائوں کہ اِس کیس کے اندر کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ’’مَیں نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے چار آپشنز پیش کیے ہیں (1)فیصلے پر نظرِثانی (2)انسانی ہم دردی کی بنیاد پر ریلیف اینڈ ریلیز (3)رحم کی پٹیشن اور (4) دو مُلکی معاہدہ، لیکن ان تمام کے لیے شرط یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مدعی اور وکیل بنے۔ اب امریکیوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ اُنہوں نے انسانی حقوق کا قتلِ عام کیا ہے، تو ہم امریکا کے محکمۂ انصاف سے انسانی ہم دردی کی بنیاد پر اپیل کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ نے جو سزا کاٹ لی، وہ کافی ہے۔ امریکی حکومت ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرسکتی ہے، لیکن اس کے لیے حکومتِ پاکستان کو مدعی بننا پڑے گا۔ امریکی صدر اِس وقت بھی اُن کی سزا معاف کرسکتا ہے، مگر مَیں پہلے بھی کئی بار کہہ چُکا ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن میں نہیں، اسلام آباد میں ہے، لیکن پاکستانی حکومت مدعی نہیں بن رہی۔ دوحا معاہدے اور افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد ہمارے پاس موقع تھا، جو ہم نے ضائع کردیا۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو بھی درست استعمال نہیں کیاگیا۔ مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ گزشتہ20 سال میں ایک مرتبہ بھی ریاست کی سطح پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مسئلہ نہیں اُٹھایا گیا۔‘‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ’’ ڈاکٹر عافیہ سے سینیٹر مشاہد حسین اور ایس ایم ظفر بھی کئی برس پہلے ملاقات کر چکے ہیں، لیکن اِس بار ہماری ملاقاتیں بہت اہم اور جذباتی تھیں۔ وہ اپنی والدہ کی خیریت پوچھتی رہیں اور اپنے سب سے چھوٹے بیٹے، سلیمان سے متعلق فکر مند تھیں، جن کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ جس وقت عافیہ کو اغوا کیا گیا، اُس وقت اُس کی عُمر 6ماہ تھی۔ عافیہ بدنامِ زمانہ جیل میں ہیں، جس میں ریپ کیسز کی انکوائریز چل رہی ہیں۔ اگر وہ وہاں اِس وقت تک زندہ ہے اور یہ صعوبتیں برداشت کررہی ہے، تو مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ قرآنِ حکیم کی حافظہ ہیں۔
وہ باقاعدگی سے قرآن پاک کی تلاوت اور مسنون دعائوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ اُنہوں نے مجھے سورۂ مریم سُنائی۔ عافیہ نے کہا کہ تلاوت سے اُسے دلی سکون ملتا ہے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن کا اعجاز اور اللہ سے اُن کا تعلق ہے کہ وہ ایک تشدّد زدہ ماحول میں زندہ ہیں۔ پوری قوم کو اپنی بیٹی سمجھ کر عافیہ کی رہائی کے لیے اٹھنا چاہیے‘‘۔عافیہ 5 سال افغانستان کی بلگرام جیل میں اور15سال امریکی جیل میں گزار چُکی ہیں۔ اس عرصے میں بین الاقوامی سیاست تبدیل ہو چکی ہے۔ افغان جنگ کا خاتمہ، گوانتاناموبے جیل سے اکثر قیدیوں کی رہائی، ربّانی برادران کی پاکستان واپسی اور امریکا میں کئی قیدیوں (بشمول جاسوس) کی معافی جیسے واقعات رُونما ہو چکے ہیں، لیکن افغانستان کی جنگ سے جنم لینے والا یہ انسانی المیہ آج بھی پاکستانی اور امریکی جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی پاس داری کے دامن پر ایک بدنما داغ ہے، جسے بہرحال اب دُھل جانا چاہیے۔
ڈاکٹر عافیہ کے لیے وقت ٹھہر گیا ہے
بدنامِ زمانہ امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ ایک تنگ سے سیل میں پابندِ سلاسل ہیں، جہاں اُن کے لیے مہ وسال کی گردش گویا رُک سی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2003ء کے رُوح فرسا لمحات اُن کے ذہن و دل میں نقش ہوکر رہ گئے ہیں۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اپنی بہن سے ملاقات کے بعد بتایا کہ’’ ڈاکٹر عافیہ20سال پہلے کے اُن لمحات کو بھول نہیں پائی، جب اُسے کم سن بچّوں سمیت اغوا کرکے افغانستان لے جایا گیا۔ملاقات کے وقت جب مَیں نے اُسے بتایا کہ اس کا بڑا بیٹا احمد ماشاء اللہ ڈاکٹر بن گیا ہے اور بیٹی مریم تھرڈ ایئر میں ہے، تو اُس نے کہا کہ’’ احمد کو ڈاکٹر بننے پر ایک نیلے رنگ کا ٹرک اور بلیو کلر کی ایک ٹرین تحفے میں لے کر دینا، کیوں کہ اُسے نیلا رنگ بہت پسند ہے۔‘‘
مَیں نے کہا’’مگر وہ تو اب بڑا ہوگیا ہے، اب تو اُسے اصلی گاڑی چاہیے۔‘‘ اُس نے کہا’’ ہاں، یہ تو ہے، لیکن ابھی تو وہ چھوٹا ہے۔ گاڑی خود چلائے گا، تو یہ خطرناک ہوگا‘‘۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ’’احمد اور مریم ہمارے پاس رہتے ہیں، مگر سلیمان کا اب تک کچھ پتا نہیں چل سکا کہ وہ کس حال میں ہے۔ مجھے سلیمان کے حوالے سے پتا چلا تھا کہ وہ ایدھی سینٹر میں تھا،جہاں سے کسی نے اُسے گود لے لیا ہے، تو مَیں نے وہاں کا تمام ریکارڈ چھان مارا، لیکن اُس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ ریکارڈ کا یہ نظام بھی اِتنا اچھا نہیں ہے۔پھر ہم نے اخبارات میں اشتہارات دیئے اور اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی، لیکن اس کا پتا نہیں چل سکا‘‘۔نیز، ڈاکٹر فوزیہ نے امریکا میں ایک مسجد میں جمعے کے اجتماع میں کہا کہ’’مَیں مستقبل میں بھی اپنی بہن سے ملنے کی کوشش کروں گی۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اگلی بار جب ہم ملیں گی، تو ہمارے درمیان شیشے کی دیوار حائل نہیں ہوگی۔‘‘