آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایک طرف حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیمیں امن بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے ابتدائی تیاریاں مکمل کرچکی ہیں اور امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ مطلوب وضاحتوں پر تبادلہ خیال کے بعد فریقین میں جنگ بندی کا فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں دھماکوں اور تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بدھ کے روز بڈھ بیر میں امن لشکر کے سربراہ کے گھر پر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ اور بم دھماکے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 9افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ اس سے ایک روز قبل پشاور کے ایک سینما گھر میں دستی بموں کے یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے جن کے نتجے میں 13افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اسی روز ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کولاچی میں دہشت گردی کی ایک کوشش ناکام ہوگئی اور سڑک کے کنارے بم نصب کرنے والے تین افراد اچانک دھماکے سے خود ہی نشانہ بن گئے۔ صورت حال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لئے کمیٹی کے اعلان سے اب تک 15دہشت گرد حملے خیبرپختونخوا میں اور تین کراچی میں ہوچکے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان حالیہ حملوں کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ کچھ عناصر مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیرستان میں

سیکورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملوں کے واقعات کا ذکر بے محل نہیں ہوگا جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششوں کو پہلا موقع دینے کے حکومتی فیصلے کو تمام سیاسی حلقوں اور ریاستی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ مذاکرات کی کامیابی اور افہام و تفہیم کی کوششوں کو بارآور بنانے کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے انہیں سبوتاژ کرنے میں خواہ کوئی تیسری قوت ملوث ہو خواہ کچھ گروپ اس کے لئے کوشاں ہوں طالبان قیادت ان کو بے نقاب کرے اور ان کا ہاتھ روکنے میں مدد دے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے منگل کے روز طالبان کمیٹی کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے بعد رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایوان وزیراعظم آنے والی حکومتی ٹیم سے گفتگو کے دوران اس امر کی خاص طور پر نشاندہی کی کہ امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد دہشت گردی ختم ہونی چاہئے۔ مذکورہ کمیٹی نے وزیراعظم کو جو بریفنگ دی ہے اور طالبان شوریٰ سے ملاقات کے بعد واپس آنے والی طالبان کی کمیٹی نے جو اشارے دیئے ہیں ان سے مجموعی طور پر مثبت تاثر اجاگر ہوتا ہے۔اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان قیادت نے حکومتی ٹیم کو ملاقات کی دعوت دی ہے جس پر غور کیا جارہا ہے۔ دونوں کمیٹیوں کے مشاورتی اجلاس کے بعد جاری کئے گئے بیان سے بھی امن کی طرف بڑھنے کا تاثر نمایاں ہے۔ بیان کے مطابق طالبان کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور ان کی بھی خواہش ہے کہ قوم کو جلد خوشخبری سنائی جائے۔ بات چیت صلح جوئی کامؤثر ذریعہ ہے اور جنگ کی صورت میں بھی بعد ازاں فریقین کو مذاکرات ہی کی میز پر آنا پڑتا ہے۔ اب جبکہ دس سال سے جاری جنگ جیسی کیفیت سے باہر آنے اور اہم فیصلوں کی طرف بڑھنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے تو یہ احتیاط لازم ہے کہ فریقین اپنی زبان بند رکھیں، میڈیا کو اختلافی بیانات دینے سے گریز کریں اور اپنا اپنا موقف صرف مذاکرات کے دوران پیش کریں۔ خاص طور پر ایسی بعض باتوں سے اجتناب کیا جانا چاہئے جیسی ایک امریکی میگزین کی وساطت سے ایک فریق کے نقطہ نظر کے بارے میں سامنے آئی ہیں۔ کیونکہ ایسی باتوں پر بہت سے حلقوں کو حاشیہ آرائی کرنے اور بنتے ہوئے معاملات کو بگاڑنے کا موقع ملتا ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ فریقین جب تک کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ جائیں ، میڈیا پر بیان بازی سے گریز کریں گے اور تحمل ، بردباری اور اعلیٰ ظرفی کے ساتھ مکالمے کو آگے بڑھاتے ہوئے ان عناصر کی کوششیں ناکام بنادیں گے جو بدامنی کے ذریعے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مذاکرات اور دھماکے ساتھ ساتھ جاری رہے تو بات بگڑنے کے خدشات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

کراچی آپریشن: ازسرنوجائزہ لیں
پولیس اور رینجرز کے مشترکہ آپریشن کے پہلے دومرحلوں میں ایسا لگتا تھا کہ کراچی میں امن و امان بحال ہونے لگا ہے اور بھتہ مافیا ٹارگٹ کلرز اور دوسرے جرائم پیشہ گروہوں کا ایک ایک کرکے صفایا ہورہا ہے۔ مگر تیسرے مرحلے میں صورتحال مختلف نظر آرہی ہے۔ تقریباً ہرروز مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور لوٹ مار کی وارداتوں میں درجنوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور کونے کھدروں میں پناہ لینے والے وارگینگسٹرز ایک بار پھر متحرک ہوچکے ہیں۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ پولیس اور بعض صورتوں میں رینجرز اہلکاروں پر بھی ماورائے قانون کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کا ایک کا رکن رینجرز کے مبینہ تشدد سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ایک اور واقعے میں ایک نوجوان کو اس وقت گرفتار کرکے تشدد کیا گیا جب وہ دلہن بیاہ کر بارات کے ساتھ واپس گھرجارہا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ سنگین مقدمات میں مطلوب تھا جبکہ لواحقین کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ اس پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیاہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ جرائم کے خلاف آپریشن کی آڑمیں اس کے کارکنوں کی پکڑدھکڑ کی جا رہی ہے۔ گورنر سندھ نے منگل کو وزیراعظم نوازشریف کو ٹیلیفون کرکے ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں ، بے گناہ افراد کی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کے بعض واقعات کی طرف توجہ دلائی۔ وزیراعظم نے اس معاملے میں متحدہ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔کراچی کے امن پر پورے ملک کے امن کا انحصار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی آپریشن کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ سطح سے اسکی نگرانی کی جائے اور انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اگر کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں تو ان کا بھی جائزہ لیا جائے اور سیاسی جماعتوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے جو اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں ان کا ازالہ کیا جائے تاکہ آپریشن کے اصل مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔

پانی بھی کرپشن کی نذر!
پینے کا صاف پانی انسانی زندگی اور صحت کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہے۔جدید دور کے کسی مہذب ملک میں یہ تصور بھی ممکن نہیں کہ لوگوں کو پینے کے لئے صاف پانی مہیا نہ ہو۔ لیکن ہمارے ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں ہی میں نہیں بڑے شہروں تک میں پینے کا صاف پانی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ بددیانتی ، خیانت اور بدعنوانی ہے جس کی وجہ سے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود یہ ہدف اب تک حاصل نہیں کیا جاسکا ہے۔۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پچھلے چند برسوں میں ملک بھر میں حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے سینکڑوں فلٹر پلانٹس ناکارہ ہوجانے کے باعث بند ہوگئے ہیں جس سے ایک طرف عوام کو صاف پانی کی فراہمی بند ہوگئی ہے اور دوسری طرف ان پلانٹس پر خرچ ہونے والا اربوں روپے کا سرمایہ ڈوبنے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پلانٹس کی ناکامی کی اصل وجہ ان کے لئے مختص کیے جانے والی رقوم میں بڑے پیمانے پر کی گئی خورد برد ہے جس کی بناء پر اکثر پلانٹس کی تنصیب ہی مکمل نہیں ہوسکی جبکہ متعلقہ حکام نے اس پر کسی باز پرس کے بجائے چشم پوشی کی روش اختیار کی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جن کمپنیوں کو پلانٹس لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا، ان میں سے بیشتر پاکستان انجینئرنگ کونسل سے منظور شدہ بھی نہیں تھیں۔ان تفصیلات سے واضح ہے کہ یہ معاملہ پاکستانی شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترداف ہے۔متعلقہ حکام کی ملی بھگت کے بغیر یہ کھیل ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا اس ملک گیر اسکینڈل کے ذمے داروں کے خلاف تحقیقات اور قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کے علاوہ فلٹر پلانٹس کی تکمیل اور مرمت کے کام پر بھی فوری توجہ دی جانی چاہئے۔جن کمپنیوں نے کام ادھورا چھوڑا ہے ان کے خلاف ضوابط کے مطابق کارروائی کرکے ان سے کام مکمل کرایا جانا چاہئے تاکہ اس ملک گیر منصوبے پر خرچ ہونے والے وسائل کو مکمل طور پر ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں