آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
انگریزوں کی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔ ہر واقعے کے بعد ایک میٹنگ کرتے ہیں اور بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ اس سے ہم نے کیا سیکھا۔کون سی کمی رہ گئی۔ کیا نہ کرنا چاہئے تھا اور اگلی بار کیا ضرور کرناچاہئے۔اتوار کے روز بھارت کے خلاف کرکٹ میچ جیتنے کے بعد ہمیں ذرا دیر کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ اس فتح سے ہمیں کون کون سے سبق ملے ہیں۔میر پور کی اس کامیابی سے جو پہلی بات اجاگر ہوئی وہ دل کو بڑی خوشی دیتی ہے۔ وہ یہ کہ یہ قوم جو پاکستانی کہلاتی ہے، چاہے تو متحد ہوسکتی ہے۔ اس میں جراثیم بھی ہیں اور امکانات بھی۔ یہ بات معمولی نہیں کہ کسی معاملے پر اٹھارہ کروڑ افراد بیک وقت سرشار ہوگئے۔ لوگ، خاص طور پر نئی نسل سارے کام چھوڑ چھاڑ کر سڑکوں پر نکل آئی اور رقص کرنے لگی۔مٹھائی لُٹنے لگی اور آتش بازی چلنے لگی۔ کسی نے کہا کہ ابھی خوش نہ ہو، ابھی فائنل ہونا باقی ہے۔ جواب ملا کہ بھاڑ میں جائے فائنل، اپنی تو عید ہو گئی۔ وہ منظر آنکھوں سے محو نہیں ہوگا کہ کس دھوم سے ڈھول بجے اور بھنگڑے ڈالے گئے۔ کسی ایک معاملے پر پوری قوم ایک طرح سوچ رہی تھی، ایسا کم ہی ہوتا ہے۔جب ہوا تو دل شاد ہو گیا اور اسی دل سے دعائیں بھی نکلیں۔ یقین ہوا کہ ملک کے نام پر اور قوم کی حرمت کی خاطر وطن کی کُل آبادی نے ایک رویّہ اختیار کیا۔ اور

یہ کہ اگر چاہے تو یہ ملّت بند مٹُّھی کی طرح متحد ہو سکتی ہے ہر چند کے اس کے ساتھ بہت بڑا اگر لگا ہوا ہے۔
اب ہم آتے ہیں ایک اور دلچسپ سبق کی طرف جو بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے اس میچ سے ہم نے سیکھا ہے۔پورے کھیل کے دوران میدان جن لوگوں سے بھرا ہوا تھا ان میں تقریباً سارے ہی بنگلہ دیشی تھے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے، بڑامجمع پاکستان کی طرف تھا۔ پورے کھیل کے دوران وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھا رہا تھا۔ اور جب فتح سے ہمکنار کرنے والا آخری چھکّا کھیلا گیا تو مجمع نے دکھادیا کہ اس کا جھکاؤ کس طرف ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ خون کے دھبّے اس طرح کی دو ایک برساتوں کے بعد دھل جائیں گے لیکن یہ ضرور ہے کہ نئی نسل پرانی نفرتوں سے چمٹی نہیں رہے گی ۔ روئیے نرم پڑیں گے۔ کدورتیں دور ہوں گی۔ ہاتھ ایک دوسرے کی طرف بڑھیں گے اور دل قریب آئیں گے۔ اس سنسنی خیز مقابلے کے تیسرے دن بنگلہ دیش میدان میں اترا۔ تاریخی اسکور کیا لیکن آخر میں ہار گیا۔ مجھے اس وقت خوشی ہوئی جب میری بھتیجی عمرانہ نے کہا کہ کاش بنگلہ دیش جیت جاتا، انہوں نے بہت محنت کی تھی۔جی چاہتا ہے کہ میری اس تحریر کا بنگلہ میں ترجمہ ہوجائے جسے پورے بنگلہ دیش میں پڑھا جائے۔ اس طرح کا اندازِفکر اختیار کرناہی وقت کا تقاضا ہے اور یہ کام نئی اور تازہ نسل ہی انجام دے سکتی ہے جس کے پرانے گھاؤ بھرنا نسبتاً آسان ہے۔
اب آئیے بھارت کے خلاف فتح سے ملنے والے اگلے سبق کی طرف۔ ہوا یہ کہ کامیابی کا مژدہ سنانے والا آخری چھکّا لگتے ہی عوام تو سڑکوں پر نکلے ، اسلحہ بھی نکل آیا۔ ہر قسم کا گولہ بارود باہر آگیا اور کہیں کہیں تو اس غضب کی فائرنگ ہوئی کہ اس کی زد میں آکر بے گناہ بے قصور لوگ مارے گئے۔ کیسا منظر ہو گا کہ باہر لوگ ناچ رہے ہوں گے اور گھر میں خون میں لت پت لاشیں آرہی ہوں گی۔ کتنے کم لوگوں کو اس بات کا خیال آیا ہوگا۔ کتنے گنتی کے لوگوں نے ایک دوسرے کو سمجھایا ہوگا کہ یوں نہ کرو۔ خوش ہوکر پستول اور رائفل چلانا اور خودکار اسلحہ سے گولیاں برسانا کہیں قبائلی علاقوں میں تو سنا تھا لیکن بڑے شہروں کے فیشن ایبل علاقوں میں اس قسم کی دھماچوکڑی کب ہوتی تھی۔ اصل میں وہاں اسلحہ بھی کب ہوتا تھا۔ اب تو یہ حال ہے کہ خدا جانے کتنے وزرائے داخلہ نے ہتھیاروں کے کتنے اجازت نامے ریوڑیوں کی طرح بانٹے ہیں اور کتنا اسلحہ کیسے کیسے راستوں سے راتوں رات اِدھر سے اُدھر ہوتا رہا ہے۔
جو بات حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ اس طرح کی ہوائی فائرنگ سے جانیں جاتی ہیں۔ لوگ ہوا میں گولی چلا کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ گولی اوپر جا کر ہوا میں تحلیل ہوجائے گی۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ اوپر جانے والی ہر گولی نیچے بھی آتی ہے اور دوسری بات یہ کہ گولی جس رفتار سے اوپر جاتی ہے ، اسی رفتار سے نیچے آتی ہے۔ مجھے یاد ہے، اس قسم کے پہلے واقعے میں ایک کم عمر لڑکی ہلاک ہوئی تھی۔ لوگ ہوائی فائرنگ کررہے تھے اور معصوم سی لڑکی کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی کہ ایک گولی اونچائی تک جانے کے بعد سیدھی نیچے آئی اور لڑکی کے سر میں داخل ہونے کے بعد اس کے نچلے دھڑ سے نکل کر زمین میں پیوست ہوگئی۔ لڑکی جہاں کھڑی تھی وہیں گر کر اس نے جان دے دی۔ جشن منانے والے ’ اوہ، سوری‘ کہہ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ انسان کبھی کبھی کیسا شقی ہو جاتا ہے ، یقین نہیں آتا۔
ایسا ہی دلوں کو دہلادینے والا منظر پتنگ بازی کے دوران نظر آتا ہے۔ ہوا میں تیز چاقو جیسی ڈوریاں تیر رہی ہوتی ہیں۔ ان پر دھار بٹھائی جاتی ہے، ایسی کی مخالف پتنگ باز کی ڈور کو لمحہ بھر میں کاٹ ڈالے۔ مگر قیامت اس وقت ٹوٹتی ہے جب یہ ڈور کسی گلی میں کھیلنے والے بچّے کے گلے پر پھر جاتی ہے۔ ایک بار تو یہ ہوا کہ بچّہ گھر کے آنگن میں کھیل رہا تھا اور ماں اسے لاڈ سے دیکھ رہی تھی کہ اچانک کہیں سے پتنگ کی ڈور آئی اور اس کے گلے پر پھر گئی۔ اس کی حلق بریدہ لاش دیکھ کر ماں بھی صدمے سے مر گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ سارے علاقے کو خبر ہو گئی مگر پتنگیں ہوا میں لہراتی رہیں اور کسی نے مانجھے والی ایک ڈور بھی نیچے نہیں اتاری ۔ یہ بھی ہوا کہ موٹر سائیکل سوار کے گلے کو کاٹتی ہوئی ڈور ایک گھر اور ایک کنبے کو اجاڑ گئی مگر شہر میں پتنگ بازی جاری رہی۔ تعجب تو اس وقت ہوتا ہے جب پتنگ اڑانے اور پینچ لڑانے کے شغل کے حق میں بڑے بڑے دلائل دئیے جاتے ہیں ۔ جب کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری ثقافتی روایت ہے۔ یہ صدیوں پرانا شوق ہے، کیسے ختم ہو سکتا ہے۔یہ ہمارا تمدن ہے، یہ ہمار ی تہذیب ہے اور خدا جانے کیا کیا ہے۔
ابھی یہ سب ہو رہا تھا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں اسلام کے متوالوں نے ضلع کچہری میں گھس کر اندھا دھند گولیاں برسائیں ، دستی بم پھینکے اور دو حملہ آوروں نے خود کش دھماکہ کر کے اپنی جانیں اﷲ جانے کس چیز پر نچھاور کردیں۔ ایک بائیس تیئس برس کی نہایت ذہین بچّی جو انگلستان سے قانون کی تعلیم پوری کرکے وطن وطن کرتی ہوئی اپنے وطن واپس گئی تھی اور وہاں وکالت شروع ہی کی تھی کہ حملہ آوروں نے اس کے ساتھ جو کیا اس پر کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی جان وطن پر نچھاور کی۔ اس روز گیارہ گھر اجڑے، گیارہ کنبے تباہ ہوئے اور گیارہ گھرانے برباد ہو کر رہ گئے۔شرفاء ایسے موقعوں پر استعفے دے کر کہیں منہ چھپا لیا کرتے ہیں، مگر ہم لوگ؟ توبہ۔
انسانی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔کہنے کو یہ کتنی پرانی اور دقیانوسی بات ہے۔ کان تھک چکے ہیں اسے سن سن کر۔ بات پرانی ہوجائے تو اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب ہمارے تمدن، تہذیب اور معاشرے میں جو شے سب سے ارزاں ہے وہ یہ انسانی جان ہے۔لوگ ایک دوسرے کو کتنی آسانی سے مار دیتے ہیں اور خود انہیں کوئی احساسِ جرم بھی نہیں مارتا۔ کوئی مجھ سے یہ نہ پوچھے کہ اس کا علاج کیا ہے۔ پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ اس کا علاج سب جانتے ہیں۔ بس کوئی جرأ ت کرے، اٹھے اور علاج کر ڈالے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کون اٹھے؟