Raza Ali Abidi - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
رضا علی عابدی
دوسرا رخ
October 13, 2017
وہ ذرا سی مسکراہٹ

آج پھر مجھے سونے کا کھنکتا ہوا سکّہ ملا۔ آج پھر ایک بچّہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ وہ ایک ذرا سا تبسّم، وہ ہونٹوں پر دھنک جیسے دھیمے سے رنگ، وہ چہرے پر ابھی ابھی کھلا ہوا گلاب، وہ ذرا سی شبنم میں تر لب، وہ کہنے کو ہونٹوں سے لیکن سارے وجود سے چھلکتی شوخی، انسان اس پر قربان نہ جائے تو کیا کرے۔میں بالکل بھولا ہوا تھا کہ ہر سال اکتوبر کے...
October 06, 2017
کینیڈا میں شاہرائہ بہشت

آپ نے بہشتی دروازے کا ذکر سنا ہوگا۔ کسی بزرگ کی درگاہ میں قائم یہ دروازہ سال کے سال کھلتا ہے۔ ایک مجمع کوشش کرتا ہے کہ ایک بار اس دروازے سے گزر جائے۔ بس سمجھئے کہ جس نے یہ سعادت پالی، بہشت میں اس کا ٹھکانہ بن گیا۔ پچھلے دنوں اخبار پڑھتے پڑھتے میں نے ایک اور سعادت کا حال پڑھا۔ جی چاہا کہ دوسروں کو بھی اس کا حصہ دار بنایا جائے۔ یہ قصہ...
September 30, 2017
دیکھو میری تعلیم یافتہ بیٹی

ویسے تو میرے دوست کہا ں نہیں رہتے۔ لیکن آج جس دوست کا ذکرہے وہ پاکستان کے صحرائی علاقے تھرپارکر میں رہتا ہے۔ وہاں کوئی نوکوٹ ہے، نقشے پر دور دراز چھوٹا سا قصبہ۔ میرا دوست ارشاد علی وہیں رہتا ہے۔ اسکے ساتھ اس کی بیوی، بیٹا اسامہ اور کمسن بیٹی عریشہ رہتی ہے۔جب ہم تعارف کے مرحلے سے گزر رہے تھے تو میں نے ارشاد علی سے پوچھا کہ اس ذرا سی...
September 22, 2017
کیا ہمارے بزرگ تنہائی کا شکار ہیں

ایک چھوٹے سے منظر کی بات ہے۔ منظر جس نے ذہن میں چھوٹی سی شمع روشن نہیںکی، ایک بڑا سا الاؤ بھڑکا دیا۔ پہلے تویہ منظر نگاہوں کے سامنے سے یوں گزر ا جیسے چلتی ہوئی گاڑی کے اندر سے نظر آنے والا ہر منظر گزرا کرتا ہے۔ اس کے بعد وقت گزرتا گیا۔ وقت گزرتا ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مگراُس روز عجب واقعہ ہوا۔ وقت گزرا پر منظر نہ بدلا۔ جو ں کا توں...
September 15, 2017
علم کا ایک اور سفینہ غرقاب ہوا

علم کا ایک اور سفینہ ڈوب گیا۔ بھوپال کی تاریخی اقبال لائبریری کو پچھلے دنوں کی بارش نگل گئی۔ اگست کا آخری ہفتہ تھا۔ ایک روز بادل ٹوٹ کے برسا۔ کہتے ہیں صرف ڈیڑھ گھنٹے کی جھڑی لگی۔ جب بند ہوئی تومنظر یہ تھا کہ کمر کمر پانی میں ڈوبا اقبال لائبریری کا سراسیمہ عملہ کتابوں اور رسالوں کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ کتابوں سے بھری...
September 08, 2017
گوتم بدھ کی واپسی

یاد نہیں کس نے کہا تھا، شاید میں نے ہی کہا تھا کہ درندے سے انسان بننے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ آج کا انسان اندر سے ابھی تک درندہ ہے البتہ اس پر تہذیب کا ملمع چڑھا رکھا ہے۔ اس بات کی گواہی کے لئے اگر انسانی تاریخ کے ورق کھولے جائیں تو وحشیانہ جور اور بہیمانہ ستم کی داستانیں قطار باندھے کھڑی مل جائیں گی۔انسان نے انسان پر جتنے ظلم...
September 01, 2017
عدل کسے کہتے ہیں

بھارت کے بارے میں بڑے مخمصے کا شکار ہوں۔کبھی جی چاہتا ہے کہ منہ بھر کر بُرا کہوں، پھر جی یوں کہتا ہے کہ بھارت کو شوق سے برا کہولیکن اس کی عدلیہ کو کچھ نہ کہو۔کیسی توانا، کیسی مستحکم او رکیسی پر عزم عدالت ہے کہ جب باہر کھڑا ہوا لاکھوں کا مجمع گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہا تھا کہ اس کا گرو بے قصور ہے، عدالت کے اصول پرست منصف لاکھوں کے...
August 25, 2017
جب مرد کم او رعورتیں زیادہ ہوجائیں

انسان کیا ہے؟ نہیں آتا سمجھ میں۔ ایک جانب حکم ہوا کہ ہر گھر میں صرف ایک بچہ پیدا کیا جائے۔ لڑکی پیدا ہوئی تو اسے کپڑے میں لپیٹ کر کسی گلی میں ڈال آئے۔ نتیجہ وہی ہو ا جو ہونا تھا۔ چین میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ عورتیں کم ہوگئیں۔ اب بیاہنے کے لئے دلہنیں دستیاب نہیں۔ دوسری جانب یہ ہو ا کہ مرد کم اور عورتیں زیادہ ہو گئیں۔ نتیجہ...
August 18, 2017
کچھ علم کی اور کچھ کتاب کی بات

برطانیہ میں دو چیزیں دیکھنے کے قابل ہیں، اوّل ملکہ الزبتھ اور دوسرے پاکستانی آبادیاں۔ ملکہ تو آخر ملکہ ہیں، ملیں نہ ملیں لیکن تمام بڑے شہروں میں وہ علاقے میلے کا سماں پیش کرتے ہیں جن میں پاکستان، آزاد کشمیر، بھارت اور بنگلہ دیش کے باشندوں نے بسیرا کیا ہے۔ ایسے شہروں میں چند ایک تو اس دیسی آبادی کی وجہ سے مشہور ہیںمثلاً لندن کے...
August 11, 2017
مرد یا عورت، کون زیادہ سیانا ہے

مرد بالادست ہے اور عورت کمزور، اس بات کے حق میں اور خلاف بولنے والوں کی زبانیں کسی حال تھکنے کا نام نہیں لیتیں۔ یہ جھگڑا سدا سے جاری ہے اور کون جانے کب تک چلے گا۔دونوں طرف کے وکالت کرنے والے بڑے بڑے وزنی دلائل لے کر میدان میں اترتے ہیں اور ایسی ایسی تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ ایک بار تو ان کی بات پر یقین آنے لگتا ہے۔مرد زیادہ توانا ہے،...
August 04, 2017
پتلی گلی کا مشاعرہ

کوئی یقین کرے گا کہ لندن میں مشاعروں اور ادبی محفلوں کے لئے جلسہ گاہ یا ہال ملنا ناممکن ہوتا جاتا ہے؟شہر میں سماجی تقریبات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سارے ہال یا تو پہلے ہی سے محفوظ کرالئے گئے ہیں یا ان کے کرائے اتنے بڑھا دئیے گئے ہیں کہ منتظمین کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ایسا ہی ایک مشاعرہ پچھلے دنوں ہوا۔اس کا اہتمام انجمن ترقی اردو،...
July 28, 2017
نیّر بھائی کا آخری لفظ

فارسی کے استاد اور اردو کے سرکردہ عالم مسعود حسن رضوی مرحوم کہا کرتے تھے کہ رات کو خدا جانے کون لڑکا نیچے گلی میں غالب کا منسوخ کلام گایا کرتا ہے۔ معلوم کرایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ لڑکا ان ہی کا بیٹا نیّر تھا، نیّر مسعود رضوی۔ سوچئے کہ جس لڑکے کی نوعمری میں شوخی اس نوعیت کی رہی ہوگی وہ آگے چل کر کیسا خوش ذوق اور ادب فہم نکلا ہوگا۔یہی...
July 21, 2017
چیونٹیوں کو پر نکل آئے

برطانیہ میں ان دنوں گرمی ہےوہ تو ہر سال ہوتی ہے مگراپنے ساتھ ایک سوغات ضرور لاتی ہے، سو طرح کے کیڑے مکوڑے۔ہوا میں ہر طرف ان ذرا ذرا سے بھنگوں سے لے کر موٹے اور توانا بھنوروں تک سب ہی اڑان بھر رہے ہوتے ہیں۔ مکڑیاں خدا جانے کہاں سے نکل آتی ہیں اور کاروں کے شیشوں کے ارد گرد جالے تان لیتی ہیں۔ یہ بڑی بڑی مکھیاں اور بھنورے اڑتے اڑتے...
July 14, 2017
کھیل کو کھیل سمجھ، مشغلہ ٔدل نہ بنا

میں لندن کے علاقے ومبلڈن میں رہتا ہوں۔ وہی ومبلڈن جو ٹینس کے کھیل کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ میرے گھر کے پچھواڑے ایک پارک ہے اور اس سے آگے ٹینس کھیلنے کے میدان ہیں جنہیں کورٹ کہا جاتا ہے حالانکہ ان کا عدالت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ آس پاس سارا رہائشی علاقہ ہے جس کے بیچوں بیچ لاکھ ڈیڑھ لاکھ لوگ بیٹھ کر ٹینس کے مقابلے دیکھتے...