• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشی مسائل میں گھرے ملک پاکستان کے لوگوں کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں نمایاں کمی ایک طمانیت بخش امر ہے اور عام آدمی حکومتی مشینری سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہے کہ وہ دیگر اشیا کے نرخوں پر بھی اس کمی کے اثرات لانے میں کامیاب رہے گی۔ خبر کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی گرتی قیمتوں کے اثرات عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے مئی کے دوسرے پندرھواڑے کیلئے نئی قیمتیں نافذ کی گئی ہیں۔ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے تعین کیلئے وزیراعظم کو سمری ار سال کی تھی جس کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرولیم کی قیمت میں15روپے 39پیسے فی لیٹر کمی کیساتھ فی لیٹر نئی قیمت 273روپے 10پیسے مقرر کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7روپے 88پیسے فی لیٹر کمی کرکے نئی قیمت 274روپے 8پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 7روپے 54پیسے فی لیٹرکم کرکے نئی قیمت 161روپے 17پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت 9روپے 86پیسے فی لیٹر کم کرکے نئی قیمت 173روپے 48پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں یہ کمی اس ماہ دوسری بار کی گئی ہے۔ پہلی کمی یکم مئی سے نافذ کی گئی تھی۔ صنعتی ذرائع کا خیال ہے کہ پیٹرولیم نرخوں میں کمی کے اس اعلان اور پچھلے دس دنوں کے دوران ایران سے تیل کی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات کے نتیجے میں 16مئی سے پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں اضافہ نظر آئے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کے اثرات ہر شعبے میں نمایاں ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیٹرولیم نرخوں کے اتار چڑھائو کے اثرات سفری سہولتوں کے علاوہ تمام اشیا کی نقل و حمل پر بھی پڑتے ہیں۔ تیل کے نرخ بڑھتے ہیں تو سبزی، گوشت، اجناس سمیت عام استعمال میں آنے والی ہر شے مہنگی ہوتی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں بھی اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔ اب پیٹرول، ڈیزل اور اس قبیل کی دیگر اشیا کے نرخوں میں کمی آئی ہے تو اصولاً ہر شعبے پر اس کے اثرات نظر آنے چاہئیں۔ مگر عرصہ دراز سے ہمارے قیمتوں کے کنٹرول کے شعبے کی گرفت پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کے بعد دیگر اشیا کے نرخوں پر نظر نہیں آتی جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے سستے ہونے کے اثرات عام استعمال کی تمام چیزوں اور خدمات میں مہنگائی کم ہونے کی صورت میں نظر آئیں۔ اس باب میں حکومتی مشینری کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور ایسا نظام نظر آنا چاہئے جس کے اثرات عام آدمی کو ملنے والی سہولتوں کی صورت میں نمایاں ہوں۔ جہاں تک حکومتی پالیسیوں کا تعلق ہے ان کے اثرات کئی صورتوں میں نظر آرہے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قوت مبادلہ برقرار رکھنے کی اسٹیٹ بینک کی کاوشیں رنگ لارہی ہیں۔ برآمدات میں اضافے کے حوالے سے کئی ملکوں کیساتھ کی گئی بات چیت اور عملی کوششیں بار آور محسوس ہورہی ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات کنٹرول کرنے کے طریقے بھی نتیجہ آور ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات سے 8ارب ڈالر مالیت کے قرض کی توقع کی جارہی ہے۔ افغانستان کے لئے ڈالر اسمگلنگ روکنے کے اقدامات کے بھی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں پاک سعودیہ اقتصادی وتزویراتی تعاون سمیت متعد دعوامل کی بنا پر توقع کی جارہی ہے کہ جلد ہی ڈالر 250روپے سے کم کی سطح پر آجائے گا۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں حکومت نے ایسے 25اداروں کی فہرست جمع کرائی ہے جن کی نجکاری کی جانی ہے۔ جبکہ تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان سمیت صحت، تعلیم ، معاشرتی شعبوں میں کئے جانے والے اقدامات اچھے وقت کی خبر دے رہے ہیں۔

تازہ ترین