آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
راجہ الطاف حسین گوہر الرحمٰن جنجوعہ نام تھا، الطاف گوہر کے نام سے بگولہ بدوش رہے۔ شخصیت کے بنیادی حوالے تین تھے، ادب، سرکاری ملازمت اور صحافت۔ تصویر کے دو رخ بے حد روشن اور بیچ میں گویا فنی توازن کے لئے خال سیاہ سے کام لیا تھا۔ 40 ء کی دہائی میں اعجاز حسین بٹالوی اور سردار انور خان کے جلو میں حلقہ ارباب ذوق میں رونمائی ہوئی۔ میرا جی کی صحبت میں رچائو پایا۔ کار سرکار سے منسلک ہوئے تو کوئلے کی اس کان میں بری طرح کھدیڑے گئے۔ برسوں ایوب خاں کا نفس ناطقہ رہے۔ صحافت کے بال و پر کترنے میں ذہانت وہبی اور مقراض لسانی کو آلات کسب کا درجہ دیا۔ فیلڈ مارشل موضع ریحانہ سدھارے تو الطاف گوہر کی بھی کایا کلپ ہوئی۔ ایک انگریزی روزنامہ کی ادارت سنبھالی تو گویا اپنے ہی بچھائے ہوئے دام میں خود چل کر آئے۔ دولت دشنام کو مدت سے زوال نہیں تھا، اب جبروت سلطانی کا جلوہ بھی پایا۔ قید ہوئے۔ الزامات ایسے ہی پوچ جیسے حبیب جالب اور استاد دامن کے خلاف تراشے جاتے تھے۔ کار دنیا میں درک برقرار رہا مگر بانس بدھی میں شگاف آ گیا تھا۔ ذات کے ایک جزو نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اقتدا قبول کی، دوسرا حصہ آزادیٔ صحافت، قانون کی بالادستی ، جمہوریت کی سربلندی، انسانی حقوق ، دولت کی منصفانہ تقسیم اور عوام کے بہتر معیار زندگی کی جہد میں مصروف

ہوا۔ طبیعت دبنگ تھی، ذہانت بے پناہ اور مشاہدات متنوع ۔ الطاف گوہر کے علمی ورثے میں خاصے کی چیز وہ اخباری مضامین ہیں جو حیات مستعار کے آخری برسوں میں ہفتہ وار کالموں کی صورت میں لکھے گئے۔ دردمندی، حوصلہ اور بصیرت میں گندھے اسلوب کے کچھ اقتباسات ملاحظہ کریں۔
میں نے 1969ء میں ایک انگریزی روزنامے کی ادارت سنبھالی۔ ایک شخص جو پریس کا ’نگران‘ تھا، پریس کی آزادی کا شکار ہو گیا۔ اس دوران میں نے یہ سبق سیکھا کہ کسی بھی طرح کے حالات میں سرکاری پروپیگنڈے کا آلۂ کار پریس نہ تو عوام کا اعتمادحاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی رائے عامہ کو متاثر کر سکتا ہے۔ آپ ایسے پریس کے ذریعے حکومتی کارناموں کا ڈھنڈورا پیٹ سکتے ہیں۔ ہر قسم کی اختلافی رائے اور تنقید کا راستہ روک سکتے ہیں لیکن اگر آپ عوام کی رائے پر ذرہ برابر اثر انداز ہونے کی توقع کرتے ہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ صحافت کا ایک ہی مقصد ایک ہی فریضہ اور ایک ہی ذمہ داری ہے اور وہ ہے حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید اور اس کا مسلسل احتساب… ایک فوجی سربراہ مملکت خواہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو ملک کو سیاسی ترقی اور عوامی خوشحالی کی منازل کی طرف نہیں لے جا سکتا۔ کوئی فرد واحد عوام کی رائے کا بدل ثابت نہیں ہو سکتا۔ عوام ایک سیاسی حقیقت ہیں اور حکومت کو اس عظیم حقیقت کے سامنے ہمیشہ سرنگوں اور جوابدہ رہنا چاہئے۔
شخصی حکومت میں حاکم کے ساتھ وفاداری اعلی ترین قدر اور اہلیت کا آخری پیمانہ قرار پاتی ہے۔ وفاداری کی اس دوڑ میں کوئی شاہ کا مصاحب بن جاتا ہے اور کوئی محض درباری مسخرہ…ڈھاکہ سے واپس آنے والا ایک نوجوان افسر ایک محفل میں ڈھاکہ شہر کے مرکز میں شہریوں کے قتل عام کی داستان مزے لے کر سنا رہا تھا کہ کس طرح فرنٹیر اسکائوٹ کے ایک کرنل نے بیس بنگالیوں کو بھون کر رکھ دیا۔ جب میرا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تو میں نے کہا کہ ’’آج مجھے پاکستانی ہونے پر شرم آرہی ہے‘‘۔1980ء میں لندن کے ٹریفالگر اسکوائر میں چند لڑکے لڑکیوں کا ایک گروہ ’نیلسن منڈیلا کو رہا کرو‘ کے جھنڈے اٹھائے کھڑا تھا۔ میں نے ایک نوجوان سے پوچھا ’آپ لوگ یہاں کب سے کھڑے ہیں؟‘اس نے جواب دیا ’کوئی پانچ برس ہوگئے‘ ۔’اور کب تک کھڑے رہنے کا ارادہ ہے؟‘نوجوان نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ’جب تک نیلسن رہا نہیں ہو جاتا‘۔ ’آپ کو اس کی کوئی امیدہے؟‘ میں نے سوال کیا نوجوان نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھ کر کہا ’احتجاج حق کے لئے کیا جاتا ہے کامیابی کی ضمانت کی بنیاد پر نہیں‘۔آئین کے مطابق دفاعی افواج کے ہر ملازم کویہ حلف لینا پڑتا ہے کہ وہ ہرگز کسی سیاسی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا،اگر اس حلف کی کوئی حرمت ہے تو فوج کے خفیہ اداروں کو سیاسی معاملات میں دخل دینے سے کیوں نہیں روکا گیا ، یقین کیجئے کہ دشمن کے لئے ہمارا یہ جرم فراموشی انتہائی سود مند ہے، وہ تو مطمئن ہے کہ پاکستان کی فوج کے حساس خفیہ ادارے دن رات ملکی سیاست میں لگے ہوئے ہیں، وہ سیاستدانوں کی خبر گیری کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں، اخباروں،تعلیمی اداروں اور تجارتی حلقوں میں ان کے تنخواہ دار کارندے اس کام میں مصروف ہیں کہ فوج پر کسی قسم کی تنقید نہ ہونے دی جائے اور اگر کوئی شخص کسی کمزوری کی نشاندہی کرے تو اسے وطن دشمن قرار دیا جائے۔جبر کی حکومت کی اساس فوجی طاقت پر ہوتی ہے اور جابر حکمران سب سے پہلے عوام کو اس خوف میں مبتلا کرتا ہے کہ اگر فوجی طاقت میں ذرہ بھر کمی آئی تو وہ دشمنوں کے نرغے میں پھنس جائیں گے اور اپنی آزادی یا سلامتی سے محروم ہو جائیں گے۔ حکومت عثمانیہ،فوجی اخراجات کے بوجھ تلے دم توڑ گئی تھی اس پر دشمن اس لئے غالب آ گئے تھے کہ اس نے عوام کی بنیادی ضرورتوں پر توجہ دینا ختم کر دیا تھا۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ قوم کی سالانہ آمدن اور قرض سے حاصل کیا ہوا سرمایہ فوجی اخراجات،سود کی ادائیگی اور سرکاری اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ عوام کی تعلیم،صحت، رہائش اور روزگار جیسی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے اللہ سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ ہر قومی ادارے کا ایک مخصوص دائرہ کار اور اختیار ہے،اس دائرے کی حدود سے تجاوز کرنا نہ قوم کے لئے اچھا ہے نہ ادارے کیلئے۔ ہماری فوج اگر سیاسی ذمہ داریاں نہ سنبھالتی تو نہ مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوتا اور نہ ہی ہماری فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا،اگر ہماری نوکر شاہی اپنی منصبی حدود سے باہر نہ نکلتی تو آج انتظامیہ کا اثر و رسوخ بھی برقرار ہوتا ۔اخبارات حکومتوں کو بناتے اور بگاڑتے ہیں، یہ ان کا حق ہے اور یہی عوامی ترجمانی کا تقاضا ہے، صحافت جمہوری نظام کا ایک ستون ہے اور اس ستون کو یہ فرض سپرد کیا گیا ہے کہ وہ آزادی اظہار کی عمارت کو استوار کئے رکھے۔ جمہوری نمائندہ حکومت کے عیب چھپانا اور اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا اخبارات کا کام نہیں، عوام اخبارات سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلاخوف و ہراس حالات کو صحیح طور پرپیش کرتے چلے جائیں چاہے اس سے حکومت وقت کو فائدہ پہنچے یا نقصان۔