Wajahat Masood - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
وجا ہت مسعود
تیشہ نظر
December 12, 2017
جمہوریت :ٹریک ٹو آپشن کی ضرورت

عزیزان من، 2017کا برس بھی کنارے آن لگا۔ یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزری ہے۔ جوں توں شام گزاری لیکن دن کو سوا بے حال ہوئے۔ ہمارے بعد آنے والے مڑ کر اس برس کی تقویم کھولیں گے تو کیا دیکھیں گے؟ اسلام آباد کا دھرنا ریاست کو بری طرح کھدیڑنے کے بعد اخبارات کے صفحہ اول سے غائب ہو گیا۔ لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب… سات لاشے اور واپسی...
December 09, 2017
بنارس خان موچی، درازندہ کا سعداللہ شاہ

ڈیرہ اسمعیل خان سے ژوب کی طرف جائیں تو درازندہ کا نیم قبائلی گاؤں آتا ہے۔ درازندہ میں لکڑیاں بیچنے والے سعداللہ شاہ کا بیٹا قاسم شاہ محکمہ زراعت کے تربیتی مرکز میں تعلیم پا رہا تھا۔ سعداللہ شاہ امید لگائے تھا کہ قاسم شاہ برسرروزگار ہو کر اس کا سہارا بنے گا۔ پانچ دسمبر کو قاسم شاہ کو آخری امتحان دینا تھا۔ یکم دسمبر کو پشاور میں...
December 05, 2017
انسانی حقوق کی ملکہ اور قومی خجالت کے نشان

اللہ تعالی کے احسانات ان گنت ہیں۔ ایک کے بعد ایک دانشور تیر کمان اٹھائے حملہ آور ہوتا ہے۔ ہمارے برادر بزرگ مشرق بعید کی شبینہ رصد گاہوں کے احوال سے جوانوں کا لہو گرمایا کرتے تھے۔ ایکا ایکی ایسی کایا کلپ ہوئی کہ ان کے قلم کی زد میں آیا کاغذ دل عشاق کی طرح سلگ اٹھتا ہے۔ 16 اگست 2014ء کو اسی روزنامہ جنگ میں ’مارچ کرنے والوں کا تعاقب‘ کے...
November 28, 2017
دھرنے کے بعد… صبح بخیر

اصحاب دھرنا سے معاہدہ طے پا گیا۔ تین ہفتے پہلے لگایا گیا تنبو قنات سمیٹا جا رہا ہے۔ فیض آباد چوک میں ٹریفک رواں ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ سات لاشے اسی چوک پر کہیں بے آواز اور بے نشان پرچھائیں کی طرح منڈلاتے رہیں گے۔ ان میں سے ایک کو پتھر مار کر ہلاک کیا گیا اور چھ کو نامعلوم گولیوں سے موت نصیب ہوئی۔ صدیوں سے یہی کھیل جاری ہے۔ فاتحین...
November 25, 2017
اقتدار اور جمہور میں مسنگ لنک کی سیاست

اٹھائیس جولائی سے اکیس نومبر تک کل تین مہینے بھی نہیں گزرے۔ جنہیں عدالت میں نااہل قرار دیا گیا، وہ سیاست میں اہل ہوگئے ہیں۔ ڈیڑھ سو برس سے ڈارون کی ایوولیوشن تھیوری میں ایک ’مسنگ لنک‘ نے سائنس کے بہترین دماغوں کو زچ کر رکھا ہے۔ بوزنہ اور انسان کے درمیان وہ حتمی کڑی نہیں ملتی کہ ارتقا کی زنجیر مکمل ہو جائے۔ 1988 میں ہالی وڈ میں ہدایت...
November 21, 2017
صدارتی نظام، قائد اعظم کی ڈائری اور پیارے ڈاکٹر صاحب

ڈاکٹر عطاءالرحمٰن جید سائنسدان ہیں، مستند کالم نگار ہیں، ان کی انتظامی اہلیت مسلمہ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے اختصاصی شعبوں میں جوہر دکھانے کی بجائے قوم کی سیاسی قیادت کا شوق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب چاہتے ہیں کہ کھیل کے قواعد بدل دئیے جائیں۔ جمہوری مکالمے کی بجائے تحکمانہ اقتدار کا جبر نافذ کیا جائے۔ پاکستان کے شہریوں سے...
November 18, 2017
سعد رفیق کی بابو ٹرین اور طلال چوہدری کا چک جھمرہ

گوجرانوالہ چھوٹا سا قصبہ تھا، کل آبادی بیس ہزار سے کچھ اوپر تھی۔ ریلوے اسٹیشن کے بورڈ پر ’گوجرانوالہ ٹاؤن‘لکھا تھا۔ کیا غضب ہے کہ قصبے دیکھتے ہی دیکھتے شہر بن جاتے ہیں۔ شہر میں کوئی تفریح گاہ نہیں تھی۔ بھائی سخاوت علی اور میں ٹہلتے ٹہلتے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچ جاتے تھے۔ مسافروں کی رونق، ملی جلی یونیفارم پہنے ہوئے...
November 14, 2017
انجینئرنگ اسکول میں جمع تفریق اور پراسرار سسکی

 گزشتہ ہفتے کراچی میں خاصہ ہنگامہ رہا۔ خیر گزری کہ لاشیں نہیں گریں۔ کراچی شہر نے تیس برس میں بہت لاشیں اٹھائی ہیں۔ سیاست زندہ لوگوں کے مکالمے کا نام ہے۔ موت مکالمہ نہیں کرتی۔ تابوت سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ہم نے وہ وقت بھی دیکھا کہ کراچی میں چالیس سے زیادہ لاشیں ایک روز میں گری تھیں۔ آدھے درجن وکیل اپنے دفتروں میں جلا دئیے گئے تھے۔...
November 11, 2017
لالٹین پکڑنے والے

اگلے روز برادر مکرم نے ترکی کے طیب اردوان اور پاکستان کے نواز شریف کا ایک موازنہ تحریر کیا۔ خلاصہ کلام یہ رہا کہ " پاکستان میں سختی اور چیرہ دستی نہیں چلتی یہاں امن، محبت، آزادی جمہوریت اور اخوت کامیاب ہے۔ مخالفوں کو دبانے سے وقتی ریلیف تو مل جاتا ہے مگر یہ مسئلوں کا دیرپا حل ہر گز نہیں۔" بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر… سچ تو یہ ہے کہ...
November 09, 2017
سیاسی چندہ اور مشتری خانم

ہمارا بہت سا وقت یہ جاننے میں صرف ہوتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؟ ہمیں فکر رہتی ہے کہ فلاں سیاسی رہنما کی نجی زندگی کی تفصیلات کیا ہیں؟ فلاں ریاستی منصب دار کے گھریلو حالات کیسے ہیں؟ کون کس کا رشتے دار ہے؟ کون زمانہ طالب علمی میں کس کے ساتھ کس ہوسٹل میں مقیم رہا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہمارے ملک میں جسے ترقی کے زینے پر قدم دھرنے کی دھن...
November 07, 2017
لنڈے کا لبرل دیس کے غریبوں کا دوست ہے

نکولائی گوگول نے ’’اوورکوٹ‘‘ کے عنوان سے ایک کہانی لکھی تھی۔ اس افسانے کے بارے میں دوستوئے فسکی نے کہا تھا، ’’ہم سب نکولائی گوگول کے اوورکوٹ سے نکلے ہیں۔‘‘ دوستوئے فسکی کا اشارہ اپنے علاوہ آئیوان ترگنیف اور لیو ٹالسٹائی کی طرف تھا۔ اردو لکھنے پڑھنے والوں کی عالمی ادب تک رسائی ہوئی تو گوگول کا ’’اوورکوٹ‘‘ ہمارے یہاں بھی...
November 04, 2017
آزادی کا نا مکمل ایجنڈا اور سیاست کا مارگلہ

عزیزان محترم، میری نسل کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ زیادہ گزر گیا، بہت کم باقی ہے۔ جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوق… استاد ابراہیم ذوق سے نصف صدی بعد ایک رنگلا، رمتا، بیراگی شاعر محمد داؤد خان ٹونک سے لاہور آیا تھا۔ اختر شیرانی کہلاتا تھا۔ ستمبر 1949 میں میو اسپتال کے بستر مرگ پر آخری غزل لکھی۔ دیر کیا ہے آنے والے موسمو، دن...
October 28, 2017
حکیم حاذق پرویز مشرف اور ٹیکنوکریٹ چرائتہ

سابق چیف ایگزیکٹو (مملکت پاکستان) اور حکیم حاذق پرویز مشرف (حال مقیم دبئی) نے جمعرات کے روز دبئی کے ایک ہوٹل میں آل پاکستان مسلم لیگ کے نومنتخب عہدیداران اور مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین سے خطاب فرمایا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے مفصل نسخہ تجویز فرمایا۔ اس میں مفرد اور مرکب ہر دو طرح کی ادویات شامل ہیں۔...
October 24, 2017
نواز شریف کو فائل پڑھنا نہیں آتی

 مجھے عزیز ہم وطنوں سے بلا امتیاز محبت ہے۔ وجہ سادہ ہے۔ ہم وطن، بھائی اور ہمسائے کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ ہم وطن، بھائی اور ہمسائے تبدیل بھی نہیں کئے جا سکتے۔ غالباً ایسے ہی تجربات کی روشنی میں انسان سوچ سمجھ کر دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تاہم یہ بتانے میں حرج نہیں کہ عزیز ہم وطنوں میں بھی دو قسم کے ابنائے وطن مجھے عزیز تر محسوس...