• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران خلفشار ان دنوں بوجوہ خاصی بڑھ رہا ہے بالخصوص شام میں بشارالاسد کا تختہ پلٹے جانے،لبنان میں ایرانی پراکسی حزب اللہ کے چیف حسن نصراللہ کی شہادت اور اب ٹرمپ کے حکم پر یمن کے حوثیوں پر جو حملے کیے گئے ہیں انکے بعد یہ تناؤ مزید بڑھ گیا ہے ۔ دونوں ملک آنیوالے دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف اپنی اپنی سیاسی، معاشی اور عسکری سٹرٹیجی پر کام کر رہے ہیں اس تمامتر خلفشار کی جڑیں 1979ء کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں جو امریکا کے مضبوط ترین اتحادی شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا تخت الٹ کر برپا کیا گیا تھا۔تب سے لے کر آج تک ہر دو ممالک کی قیادتیں ایک دوسرے کو کبھی نرم کبھی گرم پھونکیں مارتی چلی آرہی ہیں۔

‎ اسلامی ایران کی مذہبی و انقلابی قیادت کو امریکا سے اصل شکایت، انقلاب کی جد و جہد کے دوران شاہِ ایران کیلئے امریکا کی بے پایاں حمایت تھی حالانکہ اُس دور کے تہران میں امریکی سفیر کی یاد داشتوں کا مطالعہ کیا جائے توعیاں ہوتا ہے کہ بظاہر شاہ ایران کی بھرپور حمایت کے باوجود پریذیڈنٹ جمی کارٹر کا شاہ پر شدید دباؤ رہا کہ وہ مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں۔

‎ چاہیے تو یہ تھا کہ شاہ کے خلاف انقلاب سے قبل جو ہوا سو ہوا کے تحت الجھاؤ ختم ہوتے ہی ایک نئے دور کا بہتر آغاز کرتے ہوئے ہر دو ممالک کی قیادتیں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتیں مگر یہاں ہوش پر جوش نے غلبہ پائے رکھا۔جو امریکی سفارت کاروں کو طویل عرصے تک یرغمال بنائے رکھنے سے شروع ہوا اور نت نئے بگاڑ کی طرف بڑھتا چلا گیا۔

‎حضرت آیت اللہ خمینی کے انقلاب کو محض امریکا دشمنی کا چیلنج ہی درپیش نہیں تھا شاہ ایران کے ہمدردوں یا باقیات کا خاتمہ بھی انکی ترجیحات میں شامل تھا اس کے ساتھ ہی اپنے قریب ترین ہمسایہ ملک عراق کے صدر صدام حسین کا چیلنج بھی کم اہم نہیں تھا جنکے ساتھ پوری دہائی پر محیط جنگ جاری رہی۔ مخاصمت یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ مڈل ایسٹ میں امریکی اتحادیوں تک پھیل گئی۔‎ بلاشبہ ہمارے انقلابی ایرانی بھائیوں کو امریکیوں سے شکایات چار دہائیوں سے بھی بڑھ کر ہیں وہ مڈل ایسٹ میں اسرائیل کے قیام کو ایک ناسور قرار دیتے ہیں ۔تاہم یہ تو ماننا پڑے گا کہ موجودہ دنیا کے نارمز ایسے رویوں کو پسند نہیں کیا جاتا۔ یو این ہیومن رائٹس چارٹر تو تمام ممالک کی آزادی،آئین،جمہوریت،انسانی حقوق کے تحفظ اور کمزور طبقات کا سہارا بننے کی بات کرتا ہے۔ایسے میں اگر ہم یو این کے کسی بھی ممبر کیخلاف سخت بات کریں گے تو عالمی طاقتوں میں اس کے خلاف فضا ضرور بنے گی۔ ایرانی انقلابی قیادت کو امریکا سے جتنی بھی شکایات ہیں ان سب کے علی الرغم اگر درویش خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں جائزہ لے تو بہت سے ایسے امریکی اقدامات سے انکار نہیں کیا جا سکتا جن سے براہ راست ایران اور ایران کی مذہبی قیادت کو فائدہ و استحکام ملا۔

‎ عراق میں شیعہ میجارٹی سے کسی کو انکار نہیں مگر برسوں سے وہاں جس شخص کا مستحکم ترین اقتدار قائم چلا آرہا تھا اُس کا نام صدام حسین تھا۔جس کے متعلق بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے شدید ترین خیالات سب پر واضح ہیں اتنی طویل اور تباہ کن جنگ لڑنے کے بعد جب صلح کی صورت اس کا اختتام کیا جا رہا تھا تب بھی امام خمینی نے اسے زہریلے گھونٹ پینے کے مترادف قرار دیا تھا۔آج اگر انقلابی قیادت سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کے اس بدترین دشمن سے آپ کو کس نے نجات دلائی؟ تو جواب آئے گا امریکا۔ پچھلی ٹرم میں بھی امریکی صدر ٹرمپ نے داعش کے حوالے سے کھل کر بات کی تھی اور ایرانی قیادت سے داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کی باقیات کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے کی اپیل کی تھی انہیں یہ بھی پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کی دشمن القاعدہ کا خاتمہ کس نے کیا ؟‎ افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک زمانے میں ہمارے ایرانی بھائیوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔صورتحال اس قدر بگڑ چکی تھی کہ ایران پر طالبان کا حملہ صبح ہوا کہ شام ہوا اور پھر نظریاتی نفرت و محاذ آرائی اس کے سوا تھی۔ وجوہ جو بھی تھیں ان کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں مگر یہ حقیقت پوری دنیا کے سامنے ہے کہ ایرانیوں کو ان کے بدترین مخالفین سے امریکیوں نے نجات دلائی اور آج افغانستان میں جو بھی طالبانی سیٹ اپ ہے وہ بہرحال ایران دشمن نہیں۔

باایں حالات ایرانی قیادت کو یہ ضرور غور فرمانا چاہیے کہ موجودہ دنیا میں آگے بڑھنے کیلئے شدت پسندی پر مبنی نعرے اور پالیسیاں کارگر نہیں ، آج کی دنیا میں داخلی و خارجی پالیسیاں صرف اور صرف اپنے عوام کے مفاد میں تشکیل دینا ہی عقلمندی ہے۔ عظیم ایرانی قوم پانچ ہزار سالہ تہذیبی تاریخ کی مالک ہے جو تیل کی دولت اور معدنیات سے مالا مال ہے قدرت کی ودیعت کردہ اتنی نعمتوں کے باوجود اگر معیشت مستحکم نہیں یا ایرانی کرنسی گراوٹ کا شکار ہے تو اس کی وجوہ پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور و فکر ضروری ہے۔روشن خیال ماڈریٹ ایرانی عوام یہ حق رکھتے ہیں کہ اُن کی قیادت جبرو استبداد کی بجائے عوامی جمہوریت اور جبر سے پاک آزادیوں کی فضا میں انہیں ترقی و استحکام کی طرف بڑھنے میں معاونت کرے۔دشمنی و منافرت کی جگہ عالمی امن، انسان دوستی رواداری و برداشت کو اپنی اندرونی و بیرونی پالیسی کا محور بنائے یورنیم افزودگی کی بجائے اپنے عوام کے دکھوں کا مداوا کرے ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔

تازہ ترین