• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلزپارٹی عجب مخمصے میں پھنس چکی ہے اس مخمصے کا نام وفاقی حکومت ہے۔یہ وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کے ووٹوں پر کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بہت کوشش کی کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائے لیکن آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری وفاقی کابینہ کا حصہ بننے پر راضی نہ ہوئے۔ خدشہ یہ تھا کہ شہباز شریف کوئی نہ کوئی ایسا کام ضرور کریں گے جس کا صرف مسلم لیگ (ن) کو نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو بھی سیاسی نقصان ہوگا۔ پیپلزپارٹی 8 فروری 2024ء کے بعد سامنے آنے والے سیاسی بندوبست میں شامل تو ہوگئی لیکن شہباز حکومت کے کئی فیصلوں پر تنقید بھی کرتی رہی ۔صدر ، دو صوبوں کے گورنرز اور چیئرمین سینٹ کا عہدہ لے لیا لیکن یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی کہ حکومت کے کئی اہم سیاسی فیصلوں سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق نہیں۔ پیپلزپارٹی چاہتی تو پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء جیسا متنازعہ قانون کبھی پارلیمینٹ سے منظور نہ ہوتا لیکن پیپلزپارٹی نے اس قانون کے حق میں ووٹ بھی دیئے اور بعد میں اس قانون سے اعلان لاتعلقی بھی کردیا۔ یہی وہ سیاست ہے جس کے بارے میں ایک شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ ؎

کہنے کو پرسکون مگر مخمصے میں ہوں

برسوں سے میں خدایا عجب مرحلے میں ہوں

اب آپ اسے مخمصہ کہیں، جھنجٹ کہیں، جھمیلا کہیں، بکھیڑا کہیں یا گھڑ مس کہیں لیکن پیپلز پارٹی اس میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔ایک طرف یہ پارٹی ریاست کے اہم آئینی عہدوں پر براجمان ہے اور دوسری طرف وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کرتی پھرتی ہے ۔چند ہفتے قبل پیپلز پارٹی نے نئی نہروں کے خلاف سندھ اسمبلی سے قرار داد منظور کرائی ۔پھر 25مارچ کو نئی نہروں کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ۔2اپریل کو عیدالفطر کے تیسرے دن پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر نئی نہروں کے خلاف احتجاج کرتی نظر آئی ۔پانی کا مسئلہ پیپلز پارٹی کیلئے وبال جان بن گیا ہے ۔پیپلز پارٹی کو طویل عرصے کے بعد سندھ میں اپنی سیاسی بقاء خطرے میں نظر آرہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1979ء میں پھانسی دی گئی جس کے بعد زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے نعرے پر محترمہ بے نظیر بھٹو 1988ء اور 1993ء میں وزیر اعظم بنیں۔ 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008ء میں پیپلز پارٹی کو ایک دفعہ پھر وفاق اور سندھ میں حکومت ملی ۔2008ء کے بعد سے پیپلز پارٹی مسلسل سندھ میں برسراقتدار ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے 46سال بعد پیپلز پارٹی نے ان کیلئے نشان ِپاکستان کا ا علان کرکے ا ہل سندھ کو یاد دلایا کہ آج آپ جس پارٹی کے خلاف جگہ جگہ ریلیاں نکال رہے ہیں اس پارٹی کے بانی چیئرمین نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا تھا ۔1981ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے خان عبدالولی خان، مولانا فضل الرحمان، رسول بخش پلیجو، جام ساقی، فاضل راہو، نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت شروع کی جو ایم آر ڈی کے نام سے مشہور ہوئی۔اس تحریک نے 1983ء میں سندھ میں زور پکڑا تو جنرل ضیاء الحق مدد کیلئے جی ایم سید کے پاس جا پہنچے۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں سینکڑوں نہیں ہزاروں سیاسی کارکن گرفتار ہوئے اور دراصل اسی تحریک نے بھٹو کو بھی زندہ رکھا کیونکہ اس تحریک کی اصل روح بھٹو کی پھانسی پرسندھ کا غصہ تھا۔تقریباً بیالیس برس بعدسندھ میں دوبارہ ایک تحریک جنم لے رہی ہے۔ یہ تحریک دریائے سندھ کے پانی کو بچانے کی تحریک ہے اور پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس پارٹی نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے سندھ کے پانی کا سودا کیا۔پیپلز پارٹی پر دبائو اس وقت بڑھا جب ایک طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے الزام لگایا کہ آصف زرداری اور بلاول نے سندھ کا پانی پنجاب کو بیچ دیا۔دوسری طرف سندھی قوم پرست رہنمائوں ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو اور زین شاہ کے ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر بھی میدان میں آ گئے اور چھ نئی نہروں کے منصوبے کو 1991ء میں پانی کی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔جب پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ وہ چھ نئی نہروں کے منصوبے کے مخالف ہے تو وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ چھ نئی نہروں کا منصوبہ صدر آصف علی زرداری کی منظوری سے شروع کیاگیا۔جب صدر مملکت نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے پر تنقید کی تو پھر وہ ہوا جس کا زرداری صاحب کو اندازہ ہی نہیں تھا ۔حکومتی ذرائع نے میڈیا کو ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کی ایک میٹنگ کے منٹس لیک کر دیئے۔ کہا گیا کہ اس میٹنگ کی صدارت آصف علی زرداری نے کی تھی اور اسی میٹنگ میں چولستان کینال سمیت دیگر نہروں کے منصوبے کو منظور کیا گیا۔ جولائی 2024ء میں ایکنک کی اس میٹنگ کے منٹس پیپلز پارٹی کیلئے کسی بم شیل سے کم نہ تھے ۔وفاقی حکومت کی اس واردات کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں ایکنک کی میٹنگ کے منٹس کو جھوٹ قرار دے دیا اور دعویٰ کیا کہ صدر آصف علی زرداری کو آبپاشی کے منصوبوں پر بریفنگ کیلئے ایکنک میں بلایاگیا صدر کا ایکنک سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی صدر ایکنک کے اجلاسوں میں کسی منصوبے کی منظوری دے سکتا ہے نہ صدر نے کہیں کوئی دستخط کئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے 8 جولائی 2024ء کو ایکنک کی میٹنگ کے منٹس کو مسترد کر دیا اور یہ بھی کہا کہ ہم چاہیں تو وفاقی حکومت کو گرا بھی سکتے ہیں۔ یہ دھمکی مسلم لیگ (ن) کیلئے غیر متوقع تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 15 فروری 2025ء کو چولستان کینال پراجیکٹ کا افتتاح کیا تو وہاں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھی مدعو کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرئیگی ۔جب پیپلز پارٹی نے مخالفت شروع کی تو وفاقی حکومت نے چپکے سے ایکنک کی میٹنگ کے منٹس میں غلطی کو تسلیم کر لیا اور کہا کہ ایکنک کے اجلاس میں گریٹر تھل پر بات ہوئی تھی چولستان کینال پربات نہیں ہوئی تھی ۔چھ نئی نہروں کا منصوبہ دراصل گرین پاکستان انیشی ایٹو (سرسبز پاکستان) کا حصہ ہے جس کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے 10جولائی 2023ء کو کیا تھا۔ ارسا نے 17 جنوری 2024ء کو چھ نئی نہروں کے منصوبے کی منظوری دی تو سندھ کے نگران وزیراعلیٰ مقبول باقر نے نگران وزیر اعظم کے نام خط میں اس منصوبے کی مخالفت کی تھی۔ سندھ کا موقف ہے کہ دریائوں میں پانی پہلے ہی کم ہے غیرآباد بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے دریائے سندھ سے نئی نہر نکالی گئی تو سندھ کی آباد زمینیں غیرآباد ہو جائیں گی۔ پنجاب کا موقف ہے کہ چولستان کینال کیلئے دریائے سندھ سے پانی نہیں لیا جائے گا بلکہ دریائے ستلج سے وہ پانی دیا جائے گا جو سیلاب میں آتا ہے۔ ارسا کا کہنا ہے کہ چولستان کینال کو دریائے چناب یا دریائے جہلم سے پانی دیا جائے گا ۔ارسا اور پنجاب حکومت کے موقف میں تضاد سے مزید سازشی مفروضوں نے جنم لیا ہے اور اب وزیراعظم شہباز شریف خود بھی ایک مخمصے میں پھنس چکے ہیں اور ان کے مخمصے کا نام پیپلزپارٹی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی تو ان کو چھوڑ سکتی ہے لیکن وہ پیپلزپارٹی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ بہتر ہوگا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر اس معاملے کو طے کیا جائے۔ معاملہ طے نہ ہوا تو پیپلزپارٹی کے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ تمام آئینی عہدے چھوڑ کر شہباز شریف کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔ ایسا نہ ہوا تو پیپلز پارٹی کے خلاف ایک نئی ایم آر ڈی کی تحریک تیار کھڑی ہے۔

تازہ ترین