تحقیق و تحریر: منور راجپوت
’’رند‘‘ بلوچوں کا ایک معروف قبیلہ ہے۔ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں اِن کی بڑی بڑی بستیاں ہیں اور ایسی ہی ایک بستی، مکران کے علاقے، خواش میں بھی تھی۔ ہاتھ تنگ ہوا، تو وہاں کے باسیوں نے معاشی بہتری کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کردیا۔ کچھ افراد نے کاٹھیا واڑ کا رُخ کیا کہ اُن دنوں جونا گڑھ کی ریاست معاشی طور پر خاصی مضبوط تھی۔
نقل مکانی کرنے والے اِن خاندانوں میں قادر بخش کے ماموں بھی شامل تھے۔ جب اُن کی معاشی حالت بہتر ہوئی، تو اُنہوں نے اپنے بھانجے، قادر بخش کو بھی وہیں بلوا لیا اور پھر یہی قادر بخش، بعدازاں،’’ قادو مکرانی‘‘ کے طور پر جرأت، مزاحمت اور حریّت کا ایک استعارہ بنا۔
معلومات کے ماخذات
قادو مکرانی کی ابتدائی زندگی سے متعلق معلومات دست یاب نہیں، یہاں تک کہ اُن کی تاریخِ پیدائش پر بھی اختلافات ہیں اور اِس ضمن میں 1811ء سے لے کر 1839ء تک کی تاریخیں بیان کی جاتی ہیں۔ اِسی طرح اُن کے آبائی علاقے سے متعلق بھی ایک رائے یہ ہے کہ وہ چابہار(ایران) سے تعلق رکھتے تھے۔یوں قادو مکرانی کی پیدائش سے لے کر پھانسی تک کے واقعات زیادہ تر لوک داستانوں ہی کی صُورت موجود ہیں، البتہ اُن سے متعلق بعض باتیں، بالواسطہ یا بلاواسطہ، ایک صدی قبل لکھی گئی بعض کتب میں بھی مل جاتی ہیں۔
نیز، پاکستان میں اُن پر سب سے زیادہ تحقیقی کام، گُل حسن کلمتی(مرحوم) نے کیا اور باقی افراد نے ایک لحاظ سے اُن ہی کا کام آگے بڑھایا۔ تاہم، قادو مکرانی سے متعلق معلومات کا اہم ترین ذریعہ بہرحال لوک داستانیں ہی ہیں، جو غلط یا درست ہوسکتی ہیں، جب کہ اُن میں مبالغہ بھی ممکن ہے۔ اِس لیے یہ تحریر پڑھتے ہوئے یہ نکتہ ضرور پیشِ نظر رہنا چاہیے۔
مکران سے کاٹھیاواڑ تک
گجرات، بھارت کی ایک وسیع ریاست ہے، جس کا ایک جزیرہ نما خطّہ، کاٹھیاواڑ (سوراشٹرا) کے نام سے معروف ہے اور اِسی خطّے میں جونا گڑھ کی تاریخی نواب ریاست تھی، جو برطانوی راج کی ماتحتی میں کام کرتی تھی۔وَدال، جونا گڑھ شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر دُور ایک گاؤں ہے، جہاں اِن دنوں بھی لگ بھگ آٹھ ہزار افراد رہتے ہیں۔ برطانوی دَور میں یہ ’’Eastern Kathiawar Egency‘‘ کے تحت ایک چھوٹی سی جاگیر داری ریاست تھی، جس کا سربراہ راجا یا ٹھاکر ہوتا تھا، جب کہ یہ بہت سے انتظامی، مالی اور فوجی معاملات میں جونا گڑھ کی نوابی ریاست کے بھی ماتحت سمجھی جاتی تھی۔
قادو مکرانی کے خاندان نے19 ویں صدی کے وسط میں اِسی وَدال کے علاقے میں سکونت اختیار کی تھی۔ بعض روایات کے مطابق اُن کی بستیاں، اناج(Inaj) یا انڑراج اور امرا پور میں تھیں۔ جونا گڑھ ایک ساحلی ریاست تھی اور اِس ضمن میں اس کا شہر، ویراول(پرانی کتب کے مطابق مویراول) ایک کاروباری مرکز اور قدیم بندرگاہ کے طور پر معروف تھا۔(اِسی علاقے میں سومنات کا مندر ہے)۔
یہاں بلوچوں کی خاصی تعداد ایک عرصے سے آباد چلی آ رہی تھی اور اب بھی بلوچ وہاں رہتے ہیں، جن کا ’’مکرانی محلّہ‘‘ اور’’ مکرانی بازار‘‘ مشہور ہے۔بحری قزّاقوں نے کاروباری سرگرمیوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِس علاقے میں لُوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا، جس کے سبب جہاں ایک طرف تاجر پریشان تھے، تو دوسری طرف، یہ مقامی اور غیر مقامی قزّاق حکومت کے لیے بھی دردِ سر بنے ہوئے تھے۔
بلوچوں نے اِن ڈاکوؤں کے خلاف بہت سی لڑائیاں لڑیں اور آخرکار پورا علاقہ اِن قزّاقوں سے پاک کردیا۔ اِن بلوچوں میں قادو مکرانی کے ماموں بھی شامل تھے، جنہیں نواب نے اپنے ذاتی محافظوں میں بھی شامل کرلیا تھا۔ گل حسن کلمتی کے مطابق،’’جونا گڑھ کے نواب نے قادر بخش کے ماموں، ولی محمّد اور علی محمّد (جو جمعدار کے عُہدے پر فائز تھا) کو انڑراج کی زمین بطور انعام دی تھی، جہاں اُنہوں نے اپنے گھر بنا لیے، جب کہ قادر بخش’’امراپور‘‘میں جابسے۔‘‘ امراپور کی جاگیر بھی نواب ہی نے اُنھیں عطا کی تھی۔ایک بھارتی مؤرخ نے لکھا ہے کہ’’قادر بخش اپنے والد، نور محمّد کے ساتھ رہتا تھا۔‘‘ اِس سے اُن کے والد کا نام بھی سامنے آتا ہے، گو کہ اِس کی تحقیق کی ضرورت ہے۔
ریاست سے ٹکراؤ
یہ وہ زمانہ تھا،جب انگریز راج گجرات سے ملحقہ، سندھ میں بھی پوری طرح قدم جما چُکا تھا اور اپنے اقتدار کی مزید مضبوطی کے لیے اقدامات کر رہا تھا۔ جب انگریزوں نے دیکھا کہ کاٹھیاواڑ میں آباد بلوچوں کا خطّے میں اثرو رسوخ بڑھتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ وہ محل کے اندر تک بھی پہنچ گئے ہیں، تو اُنھوں نے جونا گڑھ کے نواب اور وَدال کے راجا کو بلوچوں کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا۔ انگریزوں نے اُنہیں مجبور کیا کہ وہ بلوچوں سے اُن کے ہتھیار لے لیں۔
ایک روایت کے مطابق علی محمّد کے اپنے گاؤں کے کچھ لوگوں نے نواب جونا گڑھ سے اُن کے خلاف شکایات کی تھیں کہ اُنہوں نے مسلّح جتھّے بنا رکھے ہیں، جب کہ دوسری روایت کے مطابق، حکومت کے مردم شماری کے رضاکاروں کو’’اناج‘‘ گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا، اِس لیے جونا گڑھ کے نواب اور اطراف کے راجے علی محمّد بلوچ سے ناراض تھے۔ جونا گڑھ حکومت نے اُنھیں ہتھیار ڈالنے اور گاؤں خالی کرنے کا حکم دیا۔
اِس ضمن میں برطانوی خبر رساں ادارے کے ایک مضمون میں ایک محقّق کا کہنا ہے کہ’’نواب آف جونا گڑھ، رسول خانجی نے اپنے دیوان، ہری داس کو حکم دیا کہ وہ انڑاج(اناج) جا کر لوگوں کو غیر مسلّح کر کے ہتھیار لے آئیں اور اگر لوگ ہتھیار نہ دیں، تو گاؤں خالی کروا دیں۔ جب دیوان نے یہ شاہی حُکم سُنایا، تو لوگوں نے گاؤں خالی کرنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔‘‘یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، کیوں کہ رسول خانجی 1892ء میں تخت نشین ہوئے تھے اور یہ واقعہ اُس سے کافی پہلے کا ہے۔
غالباً یہ واقعہ نواب محمد بخش خانجی کے دَور کا ہے اور ہری داس اُن کے دربار سے بھی وابستہ تھے۔ بھارت سے گجراتی زبان میں شایع ہونے والے ایک مضمون میں کچھ اِس طرح تفصیل بیان کی گئی ہے کہ’’علی محمّد نے فیصلہ کیا کہ’’ مَیں رند بلوچ مکرانی ہوں، ہتھیار نہیں رکھوں گا۔ اب جو ربّ کو منظور ہو، وہی ہوگا۔‘‘ یہ سوچ کر علی محمّد نے اپنے گاؤں والوں سے علاقہ خالی کرنے کا کہا، جس پر کچھ لوگ وہاں سے چلے گئے، جب کہ باقی اُن کے ساتھ رہے۔
علی محمّد نے اپنے تمام رشتے داروں کو وہاں بُلالیا۔ امراپور گاؤں سے علی محمّد کے چچا، نور محمّد کے بیٹے قادر بخش کو بھی خصوصی طور پر بلایا گیا۔ یوں اُس کے تمام رشتے دار لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔صبح جونا گڑھ کی فوج نے، جسے انگریزوں کی حمایت حاصل تھی، بھاری توپ خانے کے ساتھ گاؤں کو گھیر لیا۔
گھمسان کی جنگ ہوئی، جس میں علی محمّد سمیت کافی لوگ مارے گئے، تاہم قادر بخش اور اُس کے چار، پانچ دوسرے کزنز محاصرہ توڑ کر وہاں سے نکلنے میں کام یاب رہے۔‘‘ہریش دیسائی مؤرخ، جونا گڑھ کے مطابق یہ واقعہ 1859ء کا ہے، جب کہ ایک رائے میں یہ جنگ 1844ء میں ہوئی تھی، لیکن اگر یہ واقعہ دیوان ہری داس کے دَور میں ہوا تھا، تب پھر یہ 1886ء کے آس پاس کی بات ہونی چاہیے۔
قادر بخش سے قادو مکرانی تک
اب نوجوان قادر بخش نے’’قادو مکرانی‘‘کا رُوپ دھار لیا۔ قادو مکرانی نے بچے کھچے ساتھیوں کو منظّم کیا اور گوریلا جنگ کا آغاز کردیا۔ اِس چھاپہ مار جنگ میں اُس کا اصل ہدف انگریز اقتدار ہی تھا۔قادو مکرانی نے اُس زمانے کے دستور کے مطابق حکومتی رِٹ چیلنج کرنے کی خاطر لُوٹ مار کی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا’’اگر ایک دن میں ایک گاؤں لُٹے، تو سمجھنا کسی سادھو(عام ڈاکو) نے گاؤں لُوٹا ہے اور اگر دن میں تین، تین گاؤں لُوٹے جائیں، تو سمجھ لینا یہ قادو کا کام ہے۔‘‘ اور اُس نے ایسا ہی کیا۔
اِن کارروائیوں نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا طاری کردی۔لوک داستانوں کے مطابق، قادو مکرانی صرف اُنہی تاجروں کو لُوٹتا یا سزا دیتا، جو ناجائز منافع خوری میں ملوّث ہوتے اور وہ اُن سے لُوٹا گیا مال غریبوں میں تقسیم کردیتا۔ وہ بیواؤں، یتیموں کے گھروں میں راشن پہنچاتا اور غریب بچیوں کی شادیاں کرواتا۔ اِس عمل نے اُسے غریبوں کے ہم درد کے طور پر نمایاں کیا۔ پھر یہ کہ اِس طرح اُسے عام افراد میں سے بھی بہت سے حامی مل گئے۔ یہ وہ لوگ تھے، جن کے دِلوں میں انگریز قبضے کے خلاف پہلے ہی لاوا پَک رہا تھا۔
مخبروں سے سلوک
قادو مکرانی سے متعلق مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کے لیے مخبری کرنے والوں کے ناک کاٹ دیتا تھا تاکہ سب کو پتا چل جائے کہ نَک کٹا شخص انگریز راج کے لیے کام کرتا ہے۔ اِس ضمن میں کئی مضمون نگار، جانسن نامی ایک انگریز افسر کا حوالہ دیتے ہیں، جس نے اپنی کتاب’’آؤٹ لاز آف کاٹھیاواڑ‘‘ میں ایسے89 افراد کی ناک کاٹے جانے کا ذکر کیا ہے، مگر ہمیں تلاش بسیار کے باوجود یہ کتاب دست یاب نہ ہوسکی اور نہ ہی جانسن نامی کسی ایسے شخص کا کہیں سراغ ملا، جو کبھی اُس علاقے میں تعیّنات رہا ہو، البتہ انٹرنیٹ پر’’The outlaws of Kathiawar, and other studies‘‘ نامی176 صفحات کی ایک کتاب ضرور موجود ہے، جس کے مصنّف’’ Charles Augustus Kincaid‘‘ ہیں اور یہ پہلی بار 1905ء میں ممبئی سے شائع ہوئی تھی، تاہم اِس کتاب میں قادو مکرانی کی جانب سے ناک کاٹنے سے متعلق ایک بھی جملہ موجود نہیں۔
مگر اِس طرح کے واقعات کی ایک اور ذریعے سے تصدیق ہوتی ہے۔ ڈاکٹر تریبھون داس موتی چند شاہ( Tribhovandas Motichand Shah) جونا گڑھ میں اسسٹنٹ سرجن اور چیف میڈیکل افسر رہے۔ اُن کی 1889ء میں ایک کتاب ’’Rhinoplasty: Being a short description of one hundred cases‘‘ کے نام سے شایع ہوئی۔ 183 صفحات پر مشتمل اِس کتاب میں، جیسا کہ عنوان ہی سے ظاہر ہے، اُنھوں نے ایک سو ایسے کیسز کا ذکر کیا ہے، جو ناک کی سرجری سے متعلق تھے۔
گو کہ اُنھوں نے قادو مکرانی کا نام تو نہیں لیا، مگر ڈاکوؤں کے حملوں میں ناک کاٹے جانے کا ضرور تذکرہ کیا ہے اور یہ وہ ہی زمانہ ہے، جب قادو مکرانی اِس علاقے میں سرگرم تھا۔ڈاکٹر تریبھون داس لوگوں کے علاج معالجے سے اِس قدر مقبول ہوئے کہ اُنہیں ریاست جونا گڑھ کی پہلی لاٹری کا کوآرڈی نیٹر مقرّر کیا گیا، جس سے ریاست جونا گڑھ نے بھی لاکھوں روپے کمائے۔
سر پر انعام کا اعلان
یہ بات بھی کسی تاریخی عجوبے سے کم نہیں کہ جن افراد نے ڈاکوؤں کے خاتمے سے شہرت پائی تھی، وہی ڈاکو قرار پائے۔ انگریزوں نے قادو مکرانی اور اُن کے ساتھیوں کو ڈاکو قرار دیتے ہوئے ممبئی کے اخبارات میں اُن کی زندہ یا مُردہ گرفتاری پر ایک ہزار روپے نقد اور20ایکڑ زمین کے انعام کا اعلان کیا۔
ہریش ڈیسائی کے مطابق، جونا گڑھ ریاستی حکومت نے قادو مکرانی کے علاوہ اُس کے ساتھیوں علاء الدین( یا اللہ داد)، باون اور دین محمّد کی گرفتاری پر بھی انعام مقرّر کیا تھا۔اِس ضمن میں وہ25 اکتوبر1886 ء کی تاریخ کا ذکر کرتے ہیں اور سر پر انعامات مقرّر کرنے کا یہ سلسلہ 6 اگست 1886ء کو اناج(انڑراج) گاؤں پر کارروائی کے بعد شروع ہوا۔یاد رہے، قادو مکرانی سے متعلق واقعات میں تاریخوں کے حوالے سے خاصا تضاد موجود ہے۔
خواتین سے سلوک
قادو مکرانی سے متعلق لوک داستانوں میں ایک نوبیاہتا دُلہن کا ذکر ملتا ہے، جو اپنی ساس کے منع کرنے کے باوجود سونے کے زیورات پہن کر گھر سے باہر چلی گئی تھی اور اُسی وقت وہاں قادو مکرانی پہنچ گیا تھا، مگر اُس نے خاتون سے زیورات نہیں چھینے۔ اِسی طرح ایک روایت کے مطابق، قادو مکرانی نے ایک بار ایک ایسے قافلے کو گھیر لیا تھا، جس میں اُن کے مخالف انگریز افسر کی اہلیہ بھی موجود تھیں، لیکن اُنھوں نے اُنھیں جانے دیا۔
ایک قصّہ یہ بھی مشہور ہے کہ ایک فاطمہ نامی لڑکی اُنہیں دل دے بیٹھی، جو اُن کے دوست کی بیٹی تھی۔ ایک بار اُس نے موقع ملنے پر قادو کو اپنے دل کی بات بتائی، تو اُس نے جواباً کہا’’مگر مَیں تو تمہیں اپنی بیٹی کی جگہ سمجھتا ہوں۔‘‘
گھیرا تنگ ہونے لگا
جُوں جُوں قادو مکرانی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا گیا، ویسے ویسے انگریزوں نے مقامی نوابوں اور راجاؤں کے ذریعے اُن کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔ جگہ جگہ چوکیاں قائم کردی گئیں اور ہر طرف مخبروں کا جال پھیلا دیا۔ اِسی دوران قادو نے16 جنوری1885 ء کو بیج گاؤں کے سرکاری ملازم’’ کبیرکھا‘‘ اور’’ بڑا میا‘‘ کو قتل کر دیا۔ سبوتاژ کی کارروائیوں کے سدّ ِباب کے لیے انگریز افسر، کرنل ہمفری کی قیادت میں ایک ٹیم مقرّر کی گئی تھی، جو مسلسل قادو مکرانی کا پیچھا کر رہی تھی۔
اِس موقعے پر کسی نے یہ تجویز بھی دی کہ قادو کو گرفتاری پیش کرنے پر اُسی وقت مجبور کیا جاسکتا ہے، جب اِن کی خواتین کو حراست میں لے لیا جائے۔جب یہ بات قادو تک پہنچی، تو اُنہوں نے ساتھیوں کے مشورے سے خواتین کو کراچی کے علاقے، لیاری بھجوا دیا تاکہ بعدازاں وہاں سے آبائی علاقے، مکران جاسکیں۔ پھر کچھ عرصے بعد چھاپہ مار کارروائی کرنے والے اِن افراد نے طے کیا کہ عارضی طور پر روپوشی اختیار کرلی جائے تاکہ انگریز اُن کی طاقت کم نہ کرسکیں۔
اِسی فیصلے کے تحت قادو مکرانی نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ کاٹھیاواڑ سے مکران منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔بھارت سے تعلق رکھنے والے بعض مضمون نگاروں نے لکھا ہے کہ’’ قادو کو اُن کی بہن، زلیخا نے مکران جانے کا مشورہ دیا تھا اور وہ خود ممبئی چلی گئیں، جہاں اُنھیں حراست میں لے لیا گیا‘‘ تاہم، زلیخا نامی کسی بہن کی موجودگی اور اُس کی گرفتاری کی کسی اور ذریعے سے تصدیق نہیں ہوتی۔
کراچی کا سفر اور گرفتاری
قادو مکرانی اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ احمد آباد(گجرات) سے ریل گاڑی کے ذریعے کراچی کے علاقے ملیر پہنچے۔ ایک روایت کے مطابق وہ کراچی سے ہنگلاج کی طرف جا رہے تھے کہ انگریز فوج سے ٹکراؤ ہوگیا اور گرفتار کر لیے گئے، مگر مؤرخ، گل حسن کلمتی نے اِس پورے واقعے کو اپنی کتاب’’کراچی جا لافانی کردار‘‘ میں بہت تفصیل سے تحریر کیا ہے۔
اُن کے مطابق،’’قادو مکرانی اپنے ساتھیوں اللہ داد، دین محمّد اور گل محمّد کے ہم راہ کاٹھیاواڑ سے احمد آباد کے راستے سندھ پہنچے۔ پھر اولڈ تھانہ ملیر سے کرائے پر اونٹ حاصل کرکے کراچی کے علاقے بغدادی پہنچے تاکہ وہاں سے اونٹ حاصل کرکے مکران جایا جائے۔ اونٹ والے نے اُن کے ساتھ اسلحہ دیکھ لیا تھا، اِس لیے اُنہیں بغدادی(لیاری) پہنچا کر اُس نے کہا ’’آپ یہاں ٹھہریں، مَیں مکران کے لیے اونٹوں کا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘
اُس اونٹ والے سے متعلق کہتے ہیں کہ اُس کا نام’’جمعہ اشتری‘‘ تھا اور وہ آسو گوٹھ، ملیر کا رہائشی تھا۔انگریز نے اِس کام کے لیے اُسے اِتنے پیسے دیے کہ وہ کہتا پِھرتا تھا’’گور کٹی من نہ کٹاں‘‘ یعنی بنیا تو کنگال ہو سکتا ہے، مگر مَیں نہیں۔تاہم، یہ شخص نہایت مفلسی کی حالت میں مرا۔ بہرحال، وہ سیدھا تھانے پہنچا، جو قریب ہی تھا، کراچی پولیس کو پہلے ہی اطلاع مل چُکی تھی کہ قادو مکرانی کراچی کی طرف آئے گا، سپاہیوں کو آتا دیکھ کر قادو نے خطرہ بھانپ لیا، مقابلہ ہوا،جس میں دو سپاہی مارے گئے۔
قادو نے اونٹ پر سوار ہوکر نکلنے کی کوشش کی، مگر گل محمّد لین کے قریب ایک مزدور دیوار بنا رہا تھا، جس نے قادو مکرانی اور اس کے پیچھے پولیس کو آتا دیکھ کر قادو کے سر پر اینٹ دے ماری، جس پر وہ زخمی ہوکر گر گئے۔ اِس طرح قادو ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے۔ کراچی سینٹرل جیل میں مقدمہ چلا۔ یہ جیل موجودہ سٹی کورٹ کے مقام پر تھی۔
یہیں موجودہ سیشن کورٹ، ویسٹ بلاک ای، سٹی کورٹ بلڈنگ کے پھانسی گھاٹ میں1887ء کو’’مشرق کے رابن ہُڈ‘‘، قادو مکرانی کو پھانسی دی گئی،جب کہ اُن کے دو ساتھیوں اللہ داد اور دین محمّد پر جونا گڑھ میں مقدمہ چلا اور اُنھیں وہاں پھانسی دی گئی(ایک روایت کے مطابق اللہ داد کو کراچی میں پھانسی دی گئی تھی) تیسرے ساتھی، گل محمّد کی عُمر کم ہونے کی وجہ سے اُسے14سال کی سزا دی گئی۔ قادو مکرانی کی لاش لیاری کے ایک معزّز شخص، واجا فقیر محمّد درّا خان نے وصول کی، نمازِ جنازہ چاکیواڑہ، درّا لین میں واقع’’مسجد درّا خان‘‘ کے پیش امام، ملّا غلام محمّد نے پڑھائی۔
بعدازاں، اُنھیں میوہ شاہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، واجا مستی خان کے بھانجے، ابو بکر نے میّت قبر میں اُتاری۔ لوگوں کی آمد بڑھنے پر انگریز حکومت نے عوام کے قبر پر آنے پر پابندی لگا کر وہاں گارڈز تعیّنات کر دیے۔‘‘ ایک روایت کے مطابق، شتربان نے غدّاری نہیں کی تھی، کیوں کہ اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ اُس کے ساتھ قادو مکرانی ہے، بلکہ اُس نے جب اِن کے پاس ہتھیار دیکھے، تو وہ سمجھا یہ کوئی جرائم پیشہ گروہ ہے، اِس لیے اُس نے پولیس کو اطلاع دی۔
اختر بلوچ(مرحوم) کے ایک مضمون کے مطابق،’’ قادو مکرانی کی شناخت کے لیے کاٹھیاواڑ سے باقاعدہ دو افراد بلوائے گئے، جنہوں نے اُسے شناخت کیا۔‘‘ اگر بکرا پیڑی کے راستے میوہ شاہ قبرستان جائیں، تو دائیں طرف جانے والے پہلے راستے میں کافی چلنے کے بعد، اندر کی طرف انگریز اقتدار کو للکارنے والے ہیرو کی قبر موجود ہے، مگر وہ حکومت اور اداروں کی عدم توجّہی کا شکار ہے۔
قبر کے گرد تعمیر کی گئی چار دیواری ٹوٹ پُھوٹ کا شکار ہے، تو وہاں ایسا کوئی بورڈ وغیرہ بھی موجود نہیں، جس پر قادو مکرانی سے متعلق معلومات درج ہوں۔قادو مکرانی کا خاندان کچھ عرصے بعد دوبارہ کاٹھیاواڑ چلا گیا اور شاید اب بھی اِس خاندان کے افراد وہیں رہتے ہیں۔
لوک گیت، فلمیں
قادو مکرانی نے اپنی زندگی ہی میں عوامی مقبولیت حاصل کرلی تھی۔عوام اُنھیں ایک مزاحمت کار اور غریبوں کا ہم درد سمجھتے تھے۔ آج بھی بھارتی گجرات میں اور وہاں سے مختلف اوقات میں پاکستان منتقل ہونے والی کئی اقوام کی لوک داستانوں میں، قادو مکرانی کی بہادری اور غریب پروری کے قصّے موجود ہیں۔ اِس طرح کے لوک گیت، شادی بیاہ سمیت مختلف مواقع پر گائے جاتے ہیں، جب کہ یوٹیوب پر بھی ایسے بہت سے گیت موجود ہیں۔ 1960ء میں بھارت کی سادھنا چترا فلم کمپنی نے’’ قادو مکرانی‘‘کے نام سے ایک گجراتی فلم بنائی، جس کے ہدایت کار، منوہر رنگیل داس رسکاپور تھے، جب کہ مرکزی کردار اروند پانڈیا نے ادا کیا۔
یہ فلم، گونوانت رائے آچاریہ نے لکھی تھی۔ پھر 1973ء میں منوبھائی دیشائی نے اس فلم کا ری میک کیا۔20مئی1966ء میں ایک پاکستانی پروڈیوسر، حبیب الرحمان نے بھی قادو مکرانی کی زندگی پر اُردو فلم’’جاگ اُٹھا انسان‘‘ بنائی، جو مخدوم حسن نے لکھی تھی، جب کہ ہدایت کار شیخ حسن تھے، جب کہ کاسٹ میں شیخ حسن، اداکار محمّد علی، زیبا، وحید مُراد، ابرہیم نفیس، کمال ایرانی، فردوس بیگم اور سیما شامل تھے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ اِس فلم کا قادو مکرانی سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔
قوم پر قرض
بلاشبہ، قادو مکرانی، انگریزوں سے آزادی کی تحریک کا ایک ہیرو ہے، جس نے اپنے طور پر انگریز قبضے کے خلاف مزاحمت کی اور اِس راہ میں اپنی جان تک قربان کردی، مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اِس سرفروش کا ذکر کم ہی ہوتا ہے، تو دوسری طرف، قادر بخش عرف قادو مکرانی کے مستند حالاتِ زندگی سامنے لانے کے لیے بھی حکومتی سطح پر کوئی کوشش نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے اُن کی زندگی کی بہت سی خالی جگہیں پُر نہیں ہو پا رہیں۔
سندھ حکومت کو جہاں اُن کی قبر کو قومی وَرثہ قرار دینا چاہیے، وہیں قدیم ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقی عمل بھی آگے بڑھانا چاہیے کہ حکومتی اداروں کے لیے ڈیڑھ صدی پرانے عدالتی اور پولیس ریکارڈ تک رسائی قطعاً مشکل نہیں۔