بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جے پور کے بزنس مین نے بیٹے کی نئی لگژری کار کے لیے31 لاکھ بھارتی روپے مالیت کی وی آئی پی رجسٹریشن نمبر پلیٹ خرید لی۔
بھارتی بزنس مین راہل تنیجا کبھی آٹو رکشہ چلا کر گزر بسر کرتے تھے، وہ منفرد نمبر پلیٹس کے شوقین کے طور پر مشہور ہیں۔
انہوں نے RJ 60 CM 0001 نمبر جے پور ریلوے ٹرانسپورٹ آفس سے اپنی او ڈی کے لیے حاصل کیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نمبر ایک سخت مسابقتی نیلامی کے ذریعے خریدا گیا اور یہ اب تک کا سب سے مہنگا نمبر ہے۔
راہل تنیجا کی کہانی ایک آٹو رکشہ چلانے سے شروع ہو کر لگژری کار میں گھومنے تک پہنچی ہے۔
مدھیہ پردیش کے ضلع منڈلا کے ایک چھوٹے گاؤں کاترا میں پیدا ہونے والے تنیجا کے والد سائیکل پنکچر بناتے تھے جبکہ والدہ کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔
11 سال کی عمر میں راہل نے جے پور کے آدرش نگر میں ایک ڈھابے پر ویٹر کے طور پر کام شروع کیا، انہوں نے دو سال تک چائے اور ناشتہ پیش کرنے کے بعد مختلف چھوٹے موٹے کام کیے، دیوالی پر پٹاخے، ہولی پر رنگ اور مکر سنکرانتی پر پتنگیں بیچیں۔
بعد ازاں انہوں نے کوریئر سروس، اخبار کی ترسیل اور اشتہارات کے کام سے بھی گزر بسر کی۔
16 سال کی عمر میں وہ جے پور کے درگاپورا ریلوے اسٹیشن پر رات 9 بجے سے آدھی رات تک آٹو رکشہ چلاتے تھے۔
3 سال بعد یعنی 19 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی کار ڈیلر شپ ’کار پیلس‘ کے نام سے شروع کی۔
اسی دوران وہ ماڈلنگ کے میدان میں بھی آئے اور مسٹر جے پور، مسٹر راجستھان اور میل آف دی ایئر 1999ء جیسے خطاب جیتے۔
2000ء میں انہوں نے ایونٹ مینجمنٹ کمپنی قائم کی، 2005ء میں indianartist.com شروع کی اور 2015 میں راہل تنیجا پریمیئم ویڈنگز کے نام سے لگژری ویڈنگ پلاننگ کا نیا کاروبار متعارف کروایا۔
تنیجا کو منفرد گاڑیوں کے نمبر خریدنے کا جنون عرصے سے ہے، 2011ء میں انہوں نے RJ 14 CP 0001 نمبر اپنی BMW 7 سیریز کے لیے 10 لاکھ روپے میں خریدا۔
2018ء میں انہوں نے RJ 45 CG 0001 نمبر اپنی Jaguar XJL کے لیے 16 لاکھ روپے میں حاصل کیا تھا۔
اس بار کا نمبر ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کے بیٹے ریحان کی 18 ویں سالگرہ 16 نومبر کو ہے، تنیجا نے وعدہ پورا کرتے ہوئے اسے اوڈی تحفے میں دینے کا فیصلہ کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 31 لاکھ روپے صرف ایک نمبر پر خرچ کرنا فضول خرچی نہیں، تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں حال میں جیتا ہوں، میری خوشی میرے بیٹے کی خوشی میں ہے اور اگر اس کی خوشی گاڑیوں اور ان کے نمبروں میں ہے تو مجھے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔