فاطمہ فرٹیلائزر نے محکمۂ زراعت پنجاب کے ساتھ مل کر ملتان میں سر سبز کسان کنونشن کا انعقاد کیا تاکہ کسانوں کو گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید علم اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
یہ کنونشن 1,300 سے زائد کسانوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا، جہاں گندم کی پیداوار بڑھانے اور زراعت کی پیداواری صلاحیت میں بہتری کے لیے جدید اور پائیدار طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیمینار کا مقصد ان کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جنہوں نے صوبائی اور ضلعی سطح پر پنجاب گورنمنٹ کے گندم پیداواری مقابلے میں سرسبز نائٹروفاس اور کین گوارا کھادوں کا استعمال کرتے ہوئے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اس ایونٹ کا مقصد دوسرے کسانوں کو بھی یہ سکھانا تھا کہ کس طرح سرسبز نائٹروفاس اور کین گوارا کھادوں کا استعمال کر کے وہ اپنی گندم کی پیداوار اور منافع میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
فاطمہ فرٹیلائزر کے ماہرین اور ٹیکنیکل نمائندوں نے کھادوں کے متوازن استعمال پر روشنی ڈالی، خاص طور پر سرسبز نائٹروفاس اور سرسبز کین جنہوں نے مٹی کی زرخیزی کو بہتر بنانے اور پیداوار میں 10 فیصد تک اضافے کے قابلِ ذکر نتائج فراہم کیے۔
اس موقع پر فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اور سیلز رابیل سدوزئی نے کہاکہ سر سبز کسان کنونشن کے ذریعے ہم پاکستان کے کسانوں کے لیے اپنے عزم کو تقویت دے رہے ہیں اور انہیں سر سبز نائٹرو فاس اور سر سبز کین جیسی اعلیٰ معیار کی مصنوعات تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشاورتی خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں، ہمارا مقصد کسانوں کو زیادہ پیداوار حاصل کرنے، مٹی کی صحت کو بہتر بنانے اور ایک پائیدار اور خود کفیل زرعی نظام بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔'
کنونشن میں پنجاب کے محکمۂ زراعت کے سینئر حکام افتخار علی سہو، سیکریٹری زراعت پنجاب سرفراز حسین مگسی، اسپیشل سیکریٹری زراعت جنوبی پنجاب پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، وائس چانسلر ایم این ایس یونیورسٹی خالد محمود کھوکھر، صدر پاکستان کسان اتحاد امیر کریم خان، کمشنر ملتان ڈویژن وسیم حامد سندھو، ڈپٹی کمشنر ملتان اور دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔
فاطمہ فرٹیلائزر نے کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات کا اعلان بھی کیا، جس کے تحت صوبہ پنجاب میں اول، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے کسانوں کو ٹریکٹرز دیے گئے، جبکہ ضلعی سطح پر اول آنے والے کسانوں کو موٹر سائیکل اور دوئم و سوئم آنے والوں کو ایل سی ڈیز دی گئیں، یہ انعامات رابیل سدوزئی اور سیکریٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی جانب سے کسانوں کو دیے گئے۔
اس موقع پر فاطمہ فرٹیلائزر نے اس بات پر زور دیا کہ سر سبز نائٹرو فاس اور کین کے استعمال سے ناصرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ممکن ہے بلکہ اس سے پاکستان کو درپیش غذائی قلت پر بھی قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سر سبز کسان کنونشن فاطمہ فرٹیلائزر کی جاری کوششوں کا حصہ ہے جو کسانوں کو جدید علم اور بہترین کارکردگی والی کھادوں کے ذریعے زراعت کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے، تاکہ پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے اور پاکستان کی قومی معیشت میں حصہ ڈالا جا سکے۔