24۔ 2023ء میں دُنیا کی کُل آبادی کا تخمینہ 8.1ارب نفوس لگایا گیا، جس میں خواتین کی تعداد چار ارب سے زائد ہے۔ یعنی دُنیا کی آبادی میں خواتین کا حصّہ 49.7 فی صد ہے۔ ’’انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، دُنیا کی 47فی صد خواتین فعال طور پر ملازمت کررہی ہیں، جب کہ پاکستان میں یہ شرح صرف 25.1 فی صد ہے، جو خاصی مایوس کُن ہے۔
تاہم، خوشی کی بات یہ ہے کہ اَن گنت مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود خواتین نے 2025ء میں بھی زندگی کے ہر شُعبے میں آگے بڑھنے کا سفر قابلِ ذکر انداز میں جاری رکھا اور ساتھ ہی وہ دُنیا کی، نئے ڈھنگ سے صُورت گری میں بھی مصروف ہیں۔
خواتین کی حاصل کردہ کام یابیوں کو درست طور پر جانچنے کے لیے اُن کے ماضی پر غور کرنے کے بعد ہی ایک جامع تصویر اُبھر کر سامنے آسکتی ہے، جب کہ اِس کے ساتھ ہی آج کی جدید دُنیا میں خواتین کی بنیادی انسانی حقوق تک رسائی اور حاصل خُود مختاری کے دعووں کی حقیقی صُورتِ حال کو مدِ نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔
اِس ضمن میں تاریخ کا جائزہ لیں، تو خواتین کے پیچھے رہنے کی کئی پیچیدہ اور کثیر الجہتی وجوہ سامنے آتی ہیں۔ ماضی کے بیش تر حصّے میں خواتین کا کردار گھر اور خاندان تک محدود تھا۔ اُنہیں زچگی اور بچّوں کی پرورش کی ذمّےداری کے سبب بیرونِ خانہ کام اور سماجی زندگی میں شرکت کے مواقع دست یاب نہ تھے۔ دوسرا سبب، پدرسری نظام کارائج ہونا تھا۔ مَرد سیاست، جنگ، سماجی سرگرمیوں میں شرکت اور روزی کمانے کے ذمّےدار تھے۔
اس لیے وہ طاقت، قیادت اور استحقاق پر غالب رہے اور خواتین صدیوں پر محیط اس سفر میں مغلوب و مطیع ہوتی چلی گئیں۔ مَردوں کے مقابلے میں خواتین کے پس ماندہ رہنے کی ایک اور اہم وجہ اُن کا مختلف علوم سے نابلد ہونا بھی تھی۔ ایک طویل عرصے تک علم و ہُنر صرف مَردوں ہی کے لیے مخصوص اور ضروری خیال کیے جاتے تھے، جب کہ خواتین کی واجبی سی تعلیم و تربیت صرف گھریلو امور کی انجام دہی تک ہی محدود تھی اور اس سبب بھی خواتین کی فکری آب یاری اور پیشہ وارانہ ترقّی کے راستے مسدود رہے۔
علاوہ ازیں، گزشتہ ادوار میں خواتین کو ہمیشہ اُن کے سیاسی حق سے بھی محروم رکھا گیا، جس کے سبب رائے کا اظہار اور سیاسی عُہدوں پر فائز ہونے کا استحقاق بھی خواتین کی دسترس سےدُور رہا۔ سیاسی حقوق سے محرومی نے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں ان کی آواز کو شامل نہ ہونے دیا۔
بہت سے معاشروں میں خواتین کو اپنی ملکیت رکھنے، وراثت میں حصّہ لینے یا مالی معاہدے کرنے کا قانونی حق بھی حاصل نہیں تھا، جب کہ مَردوں پر مالی انحصار نے اُن کی حیثیت مجروح کردی۔ گھر اور بچّوں کی ذمّےداری نبھاتے ہوئے خواتین کے لیے اوّل توملازمت کےمواقع ہی بہت محدود تھے اور پھر مَردوں اور عورتوں کے درمیان یک ساں کام پر اُجرت کا فرق بھی نمایاں تھا، جو اقتصادی عدم مساوات کو بڑھاتا تھا۔
اِسی طرح مختلف مذاہب میں مذہبی تعلیمات کی غلط یا اپنی مرضی کی تشریح کر کے خواتین کےآگے بڑھنے کی راہ میں دیواریں کھڑی کر دی جاتیں۔ خواتین کو ہزاروں سال تک سماجی دھارے سے الگ رکھنے کی وجہ یہ خیال بھی تھا کہ خواتین حیاتیاتی طور پر کم زور ہونے کے ساتھ جذباتی و فکری طور پر مردوں سے کم ترہوتی ہیں۔
یہی سب وجوہ ماضی میں خواتین کے پیچھے رہنے کا سبب بنی ہیں۔ گرچہ آج دُنیا کے بیش ترحصّوں میں حالات بدل رہے ہیں لیکن ان تاریخی عوامل کےاثرات مختلف شکلوں میں اب بھی موجود ہیں۔ البتہ باہمّت خواتین ہر دَور میں جبر سے نبردآزما رہی ہیں اور ہر گزری پیڑھی نے اگلی نسل کے لیے زیادہ کُھلا میدان مہیا کرنے کی کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج خواتین دیدہ ونادیدہ مسائل پر قابو پاتے ہوئے خودمختاری اور اس کے نتیجے میں دُنیا کی اجتماعی ترقی کی جانب گام زن ہیں۔
معاشروں کے مہذّب اورارتقاء یافتہ ہونے کے سفر میں خواتین کوعلم و ہُنر سے فیض اٹھانے کے مواقع پہلے کی نسبت اب زیادہ میسّر ہیں ۔ معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی طور پر مضبوط ہونے کے لیے بنیادی شرط تعلیم وتربیت کا حصول ہی ہے اور اس وقت دُنیا بَھر میں خواتین شعور و آگہی کی بدولت ہی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔
ورک فورس میں شمولیت نے اُن کی معاشی خود مختاری میں اضافہ کیا ہے اور اب خواتین روایتی شعبوں تدریس اور نرسنگ وغیرہ کے علاوہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میڈیسن، بزنس، صحافت، سول سِروس، قانون، تحقیق، فوج، پولیس، اسٹارٹ اَپس، اسپیس، ادب، فنونِ لطیفہ اور کھیلوں میں فعال کردار ادا کرکے دُنیا بَھر میں اپنا اور اپنے مُلک و قوم کا نام روشن کر رہی ہیں۔
اِس ضمن میں عالمی اُفق پر نظر دوڑائیں، تو پتا چلتا ہے کہ ’’فوربس‘‘ کی منتخب کردہ طاقت وَر ترین خواتین میں سرِفہرست یورپی کمیشن کی صدر، ارزولا ون ڈیرلاین، بِیس سے زائد یورپی ممالک کی کرنسی، یورو اور مالیاتی پالیسی کو کنٹرول کرتی یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ، شوبِز سے تعلق رکھنے والی ٹیلرسوئفٹ اور اوپرا ونفری ہیں۔
دوسری جانب سماجی و سیاسی میدان میں خواتین کی شرکت سے، ایوانِ اقتدار میں بھی، اُن کی نمائندگی میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت دُنیا کے 200سے زائد ممالک میں32خواتین ریاستی یا حکومتی سربراہ (صدر یا وزیرِاعظم) ہیں، جب کہ پارلیمنٹس میں خواتین کا حصّہ 27.2فی صد ہے۔ اس وقت امریکا کی نائب صدر کمالا ہیرس، اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی اور ڈنمارک کی میٹے فریڈرکس ہیں، جب کہ میکسیکو کا عہدۂ صدارت کلاڈیا شینبم اور بھارت کا ڈروپدی مرمو کے پاس ہے۔
علاوہ ازیں سونیا گاندھی (بھارت)، آن سان سوچی (میانمار)اور سویٹلانا تیغانو سکایا (بیلاروس) میں سرگرمِ عمل ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حال پر نظر ڈالیں، تو پتا چلتا ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ اُن کی ہم شیرہ، محترمہ فاطمہ جناح آگے بڑھیں۔ ذوالفقارعلی بُھٹّو کی سیاسی جان شینی شہید محترمہ بے نظیر بُھٹّو کے حصّے آئی اور اب اُن کی صاحب زادی، آصفہ بھٹو رُکنِ قومی اسمبلی اور پاکستان کی خاتونِ اول کے طور پر اپنی ذمّےداریوں سے عہدہ برآ ہو رہی ہیں۔
اِسی طرح سابق وزیرِاعظم، میاں نواز شریف کے مشکل وقت میں اُن کی زوجہ، بیگم کلثوم نواز نے سیاسی میدان میں اُن کا ساتھ دیا اور اس وقت پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر اُن کی صاحب زادی، مریم نواز شریف متمکّن ہیں۔ علاوہ ازیں، بانی پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ بھی اُن کی بہنیں اور اہلیہ کھڑی ہیں۔
یعنی مَردوں کا حوصلہ بڑھانے اور ساتھ دینے کے لیے خواتین ہراول دستے کی صُورت ہمیشہ موجود رہی ہیں۔ اِس ضمن میں فریال تالپور، شیری رحمٰن، حناربّانی کھر، شہلا رضا، شرمیلا فاروقی، شازیہ مری، مریم اورنگ زیب، عظمیٰ بخاری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عالیہ حمزہ ملک وغیرہ پاکستان کے میدانِ سیاست میں سرگرم خواتین میں سے چند نام ہیں۔
دوسری جانب 2025ء میں برطانوی شاہی خاندان کی خواتین اراکین، شہزادی کیٹ میڈلٹن اور ملکہ کمیلا، ملکہ لیٹیزیا (اسپین) ملکہ میکسما (نیدرلینڈز) اور ملکہ رانیا (اردن) اپنی سماجی خدمات کی وجہ سے دُنیا کی نظروں میں رہیں، جب کہ گزشتہ برس میری ای برنکو (امریکا) نے طب اور ماریہ کورینا مچاڈو (وینزویلا) نے امن کانوبیل پرائز حاصل کیا۔ آسکرز اداکارہ، مکی میڈیسن اور زوئی سیلڈانا کے حصّے میں آیا، جب کہ موسیقی کے گریمی ایوارڈ کی حق دار بیونسے ٹھہریں۔
گزشتہ برس ’’ٹائم میگزین‘‘ نے سال کی 13 غیر معمولی خواتین کو منتخب کیا، تو اُن میں اداکارہ نکل گڈ مین، اے جا ولسن (باسکٹ بال) اور جارڈن چائلز (اولمپک جمناسٹک) شامل ہوئیں۔ IIFA2025 میں ’’لاپتا لیڈیز‘‘ کی ہدایت کارہ، کرن راؤ اور اداکارہ، نتاشی گوئل نمایاں رہیں، جب کہ مُلکی سطح پر قومی اعزازات پانے والی خواتین میں فریحہ پرویز، شیبا ارشد، ثناء ہاشوانی، سفیناز منیر، زہرا نگاہ اور ثناء میر شامل ہیں۔
ان کے علاوہ منزّہ ہاشمی، روشانے ظفر، سرور پیش امام، پروین اسلام (سماجی خدمات) خولہ عُمر خان، اُمّت الرحمن، فاطمہ زہرا، مہرین علی، خدیجہ عافیت (کھیل)، ہانیہ عامر، فریال محمود، ایوا بی، انعم احمد، سیماب گل، ثناء جعفری (شوبِز) اورعلشبہ خان باریج (ادب) اپنے اپنے شعبوں میں خاصی مستعد رہیں اور مختلف اعزازات حاصل کیے۔
ہر چند کہ گزشتہ برس اَن گنت خواتین نے آگے بڑھ کرگویا اپنے اپنے آسمان کو چھوا، مگر آبادی کے لحاظ سے یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جب کہ زیادہ تر کام یابیاں، خواتین کی انفرادی محنت و جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ بحیثیتِ مجموعی خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود اور دشوار گزار ہیں۔ اِس وقت خواتین کے حوالے سے معاشروں میں وسیع پیمانے پر اہم تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں، لیکن ان تبدیلیوں کی رفتار ہر خطّے میں یک ساں نہیں ہے۔
سماجی بےداری کی مختلف تحاریک نے نہ صرف خواتین کا حوصلہ بڑھایا ہے بلکہ صنفی امتیاز کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کرکے اُن کے حقوق کا شعور پوری دُنیا میں بےدار کیا ہے، جو دنیا میں امتیازی رویّوں اور قوانین کو ختم کر کے خواتین کے تحفّظ کے لیے نئے قوانین لانے کا سبب بنا ہے۔ یہ تبدیلیاں خاندانی ڈھانچے پر بھی اثرانداز ہوئی ہیں۔
نوعُمری کی شادی اور بچّوں کی شرحِ پیدائش میں کمی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور گھریلو ذمّےداریوں میں مَردوں کی شراکت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ جبر کے بغیر منصفانہ معاشرے کی تشکیل کی نوید دیتے ہوئے یہ امکانات بہت دل کش ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی 2025ء میں خواتین کی صُورتِ حال پریو این سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتیرس کے یہ الفاظ خواتین کی ابتر صُورتِ حال کو واضح کرتے ہیں کہ ’’آج کی دُنیا میں پدر شاہی کا زہریلا پن واضح دکھائی دیتا ہے، جب کہ خواتین کے حقوق پر قدغن ہے۔
اُن سے نفرت کرنے والے زور پکڑ رہے ہیں اور آن لائن دنیا میں خواتین کو نفرت انگیز بیانیے کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اِن حالات میں تعلیم پر سرمایہ کاری، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدّد کو روکنے، ٹیکنالوجی میں ان کے قائدانہ کردار کی حوصلہ افزائی اور سیاست سے امنِ عامّہ تک تمام شعبوں میں ان کی مکمل شرکت یقینی بنانےکی کوششیں تبدیلی لانے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘‘
ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مزید سیاسی اقدامات اور وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ اِس ضمن میں کی جانے والی کاوشوں کی موجودہ رفتار کو دیکھا جائے، تو خواتین کو غُربت سے نکالنے کے لیے137 برس اور نو عُمری کی شادی کا خاتمہ کرنے کے لیے 68برس درکار ہوں گے۔ یعنی ؎ شکوۂ آبلہ ابھی سے میرؔ … ہے پیارے ہنوز دلی دُور۔
اس وقت خواتین کو درپیش بہت سی سنگین مشکلات میں سے ایک، جسمانی و جنسی تشدّد ہے، جس کی شرح انتہائی بلند ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی تازہ جاری کردہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر تین میں سے ایک عورت یعنی 840ملین خواتین کو جنسی و جسمانی تشدّد کا سامنا ہے۔ 117ممالک سے وصول کردہ اعداد و شمار کے مطابق روزانہ137خواتین یعنی اوسطاً ہر 10منٹ میں ایک خاتون گھریلو تشدّد کا شکار ہو کر ہلاک ہوجاتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کا قتل کوئی اچانک وقوع پذیر ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ یہ پہلے سے جاری تشدّد کے تسلسل کا حصّہ ہے۔
نیز، ٹیکنالوجی نے بھی خواتین اور لڑکیوں کےخلاف کچھ اقسام کے تشدد کو بڑھایا ہے،جن میں رضا مندی کے بغیر تصاویر کی تشہیر، ڈوکسنگ اور ڈِیپ فیک ویڈیوز شامل ہیں۔ ویمن ایکشن فورم کے مطابق، پاکستان میں خواتین کے تحفّظ کے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور سزا کی شرح محض 0.2 فی صد ہے۔ دوسری جانب آئی ایل او کے مطابق، دُنیا کے مختلف ممالک میں مساوی کام کے لیے خواتین کو مَردوں کے مقابلے میں اوسطاً 20 فی صد کم اُجرت دی جاتی ہے، جب کہ پاکستان میں اُجرت کا یہ صنفی فرق 25سے 30فی صد ہے۔
مالی وسائل تک رسائی کی محدودیت نے اُنہیں غُربت کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ دُعا ہے کہ وزیرِاعظم پاکستان، شہباز شریف کی جانب سے2025ء میں خواتین کی معاشی شمولیت کے فروغ کے لیے کیا جانے والا ورکنگ ویمن انڈونمنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کارگر ثابت ہو۔ جب کہ انتظامی و سیاسی قیادت میں خواتین کا حصّہ آبادی کے تناسب سے خاصا کم ہے، تو صنفی مساوات، خواتین کے حقوق کے تحفّظ اور اُنہیں بااختیار بنانے کے لیے عالم گیر ضوابط کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اِس وقت دنیا صنفی مساوات کے حصول کے لیے فیصلہ کُن موڑ پر کھڑی ہے۔ خوش قسمتی سے ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز پیش رفت نے نئے مواقع فراہم کر کے سب کو بلاتخصیص میرٹ پرآگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سو، یہ بات سمجھنی ازحد ضروری ہے کہ مَردوزن کا وجود ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہے اور دونوں مل کر ہی ایک پُرسکون گھر اور توانا معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
جہاں باپ، بیٹیوں کو خُود اعتمادی اور بھروسا دے کر مضبوط بناتے ہیں، وہیں ماؤں کی ذمّے داری ہے کہ وہ خواتین کی عزّت اور ان کا حق تسلیم کرنے کے ضمن میں بیٹوں کی صحیح خطوط پر مؤثر انداز میں تربیت کریں۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے برطانوی مصنّف، میری شیلے نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ’’مَیں نہیں چاہتی کہ خواتین کو مَردوں پر اختیار ملے۔ مَیں چاہتی ہوں کہ عورت کو خود پر اختیار ملے۔‘‘ اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے اور اپنے آپ سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے ابھی ایک طویل، صبر آزما سفر طے کرنا باقی ہے۔