• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عورت محض ایک وجود نہیں، زندگی کا ایک خُوب صُورت رنگ ہے، جس کے بغیر دنیا کی تصویر ادھوری اور پھیکی ہے۔ اس کی محبّت، خلوص اور قربانی سے زندگی میں حُسن، وفا اور احساس کو معانی ملتے ہیں۔ عورت بیٹی ہو، تو رحمت، بہن ہو تو عزّت، بیوی ہو تو محبّت اور ماں ہو، تو جنّت کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ 

انسان نے اپنی لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے اُس کی حیثیت اور مقام و مرتبے کے تعیّن میں کم ظرفی دِکھائی، جب کہ محسنِ نسواں ﷺ نے اُس کی نماز اور خوش بُو کے ساتھ پذیرائی کی اور اُسے ایمان، اختیار، آزادی اور اہمیت کی دولت سے مالامال کیا۔ اب اُس کی مختلف النّوع حیثیتیں جہاں کو آباد کرنے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے ضمن میں نمایاں ہیں۔ 

وہ مکالماتِ فلاطوں نہیں لکھ سکی، مگر اُس کی فکری اور عملی تربیت ہی سے افلاطون تیار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی محنت اور محبّت سے اپنے گھر کو جنّت کا نمونہ بناتی اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ جو دین لے کر آئے، اُس نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ عورت کو متاثر کیا اور اسے تبدیل بھی کیا۔ کلمۂ دین نے اسے جذبۂ حریّت سے آشنا کیا۔ اس’’ لا الہ الا للہ‘‘ نے اسے ہر طرح کے خوف و وحشت سے آزاد کیا۔ اس کلمے ہی نے اُسے جہاں بانی اور جہانگیری سِکھائی۔ ہماری تاریخ بھی فروزاں تھی اور ہمارا جغرافیہ بھی پھیل رہا تھا۔ کسی بھی قوم کی بقا اور شناخت اس کی تہذیبی اقدار ہوتی ہیں۔

قومیں اُسی وقت مِٹتی اور فنا ہوتی ہیں، جب اُن کی تہذیبی شناخت مِٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طاغوتی طاقتیں اسلامی تہذیب و اقدار کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں اور دنیا میں عملاً تہذیبی تصادم کی راہ ہم وارکر دی گئی ہے۔عربی کا ایک مقولہ ہے۔’’النساء عماد البلاد۔‘‘یعنی عورتیں تہذیبوں کی عمارت کا ستون ہوتی ہیں۔ اسلامی تہذیب میں خواتین کا ایک خاص اور عظیم تر مقام ہے، جو خاندان کے استحکام کا ضامن بھی ہے اور تہذیب کی عمارت کی بنیاد بھی۔

ہمارے روشن مستقبل کا دارومدار عورت ہی پر ہے، لیکن وہ ایک اعلیٰ و منظّم معاشرے کی تشکیل میں اپنی عظیم ذمّے داری تبھی خوش اسلوبی سے ادا کر سکتی ہے، جب وہ ذہنی طور پر آسودہ حال ہو اور اُسے معاشرے کی اخلاقی اقدار، روایات کی پشتیبانی کا حق، اپنے حقوق کا تحفّظ اور عزّت و تکریم حاصل ہو۔ آج بدلتے سماجی ڈھانچے اور بڑھتی معاشی ضروریات کے سبب خواتین کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ 

نیز، آزادی، مساوات اور حقوق کے دل فریب نعروں نے بھی عورت کو اپنے فطری کردار سے غافل کرنے میں پورا حصّہ ڈالا ہے۔ پھر آزادیٔ اظہارِ رائے اور سوشل میڈیا کی بے لگام آزادی نے بھی تہذیبی اقدار اور خاندان کے ادارے کی یک جہتی خطرے میں ڈال رکھی ہے۔ تو اگر اِس بڑھتی تہذیبی یلغار کے آگے فوری بند باندھنے کی کوشش نہ کی گئی، تو یاد رکھیں، جلد ہمارا خاندانی نظام مکمل ٹوٹ پُھوٹ کا شکار اور نسلِ نو اپنی تہذیب سے یک سر بے گانہ ہو جائے گی۔

عورت کی شخصیت کی اصل تعریف

عورت، ربِ کائنات کی وہ تخلیق ہے، جو فطری طور پر مرد کی ہم سَر اور مکمل جوڑی ہے۔ دونوں اپنی فطرت کے اعتبار سے اللہ کی عظیم تخلیق، بے مثل شاہ کار ہیں۔ عورت کی شخصیت میں محبّت، شفقت، صبر، نرمی اور قربانی کے اوصاف شامل ہیں۔ 

وہ ایمان داری اور وفاداری کے ساتھ اپنے گھر، خاندان کی دیکھ ریکھ، نشوونما اور تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھاتی ہے۔ تو مرد معاش کا بھاری بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے رکھتا ہے۔ اسلام میں مرد کو قوّام اور عورت کو ریحان قرار دیا گیا ہے، جو دونوں کے فطری کردار کی سو فی صد درست عکّاسی ہے۔ یہ کردار عورت کی شان کم نہیں کرتا بلکہ اس کی فطری شخصیت کا آئینہ ہے۔

عورت کی شخصیت کے بنیادی عناصر

٭انسانی جوہر:عورت کا جوہر وہی ہے، جو مرد کا، یعنی دونوں برابر انسان ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔٭محبّت و شفقت:عورت کی فطرت میں محبّت، شفقت اور قربانی شامل ہے، جو اس کے کردار کی بنیاد ہے۔٭صبر و تحمّل:گھر اور معاشرے میں عورت کا کردار صبر و تحمّل پر مبنی ہوتا ہے، جو اسے مضبوط بناتا ہے۔٭گھر/ خاندان کی حفاظت:عورت کی ذمّے داریوں میں گھر کو سنوارنا، بچّوں کی تربیت اور خاندان میں محبّت قائم رکھنا شامل ہیں۔٭نرمی اور وفاداری:عورت کی شخصیت میں نرمی، فرماں برداری اور وفاداری کے عناصر اہم ہیں، جو اس کے رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔٭عقل و فہم:عورت کی عقل و فہم بھی اس کی شخصیت کا اہم جزو ہے، جو اسے معاشرتی اور ذاتی زندگی میں کام یاب بناتی ہے۔٭عورت کی فطری شناخت: عورت کو ایک مکمل انسان اور معاشرے کا بنیادی ستون سمجھنا چاہیے، جس کی فطرت میں محبّت، شفقت، صبر اور تحفّظ کا جذبہ شامل ہے۔ 

بچّوں کی پرورش اور گھر کی فضا خوش گوار بنانے کی صلاحیت اس کی فطرت میں شمال ہے، جو خاندان کی بقا کے لیے ضروری بھی ہے۔٭مختلف کرداروں کا توازن: عورت کو ماں، بیٹی، بیوی اور معاشرتی فرد کے طور پر اپنے کرداروں میں توازن قائم رکھنا ہوتا ہے اور یہ توازن تب ہی ممکن ہے، جب عورت کو خود اپنی ذات کی پہچان اور حقوق و فرائض کا ادراک ہو۔ نیز، معاشرہ اور خاندان اس کی حمایت کریں۔٭تحفّظ اور احترام:عورت کو جسمانی، جذباتی، مالی اور سماجی تحفّظ ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنے کرداروں کو بہتر طریقے سے نبھا سکے۔ کیوں کہ تحفّظ اور احترام کی فضا میں ایک عورت اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکتی ہے۔

عورت گھر سنبھالنے کے علاوہ کیا کرے…؟؟

عورت گھر سنبھالنے کے علاوہ بہت سے مثبت، عزت دارانہ اور تعمیری کام کر سکتی ہے، جن سے نہ صرف وہ خود ترقّی کرتی ہے، بلکہ خاندان، معاشرہ اور اُمّتِ مسلمہ بھی فائدہ اُٹھاتی ہے۔جیسے٭گھر کا نظم و نسق بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا، وقت کی پابندی اور معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنا۔٭بچّوں کی تعلیم و تربیت پر دھیان، ان سے نرمی و دوستی کا برتاؤ اور ان کی تفریح کا خیال رکھنا۔٭گھر کے دیگر افراد، خصوصاً بزرگوں کی خدمت اور ان سے مشورہ کرنا تاکہ وہ خود کو اہم محسوس کریں۔٭خریداری کرتے ہوئے ضرورت کی چیزیں لینا، فضول خرچی سے بچنا اور بچت کی عادت اپنانا۔٭اگر عورت نوکری پیشہ ہو، تو گھر اور کام کے درمیان توازن قائم رکھنا۔ ٭گھر کے کام کاج کے علاوہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا اور معاشرتی یا تعلیمی سرگرمیوں میں حصّہ لینا بھی اس کی شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔٭اپنی دل چسپیوں، صلاحیتوں اور مقاصد کا جائزہ لے کر ایسی سرگرمیاں منتخب کرنا، جو ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقّی میں مددگار ثابت ہوں۔٭مصروفیات کو صرف وقت گزارنے کی بجائے ایک مقصد کے ساتھ انجام دینا، یعنی وہ سرگرمیاں اپنائی جائیں، جو کچھ نیا سِکھائیں یا مہارتیں بہتر بنائیں، جیسے کہ تعلیمی مباحثے، مختلف ہنر سیکھنا یا کمیونٹی سروس۔ ٭بامعنی مصروفیات میں شامل ہونے کے لیے اپنے اردگرد کے وسائل اور کمیونٹی کے تجربات استعمال کرنا، کیوں کہ کمیونٹی پر مبنی تحقیق اور تعاون سے زیادہ مؤثر اور پائے دار نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ٭مصروفیات کو منظّم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے واضح مقاصد اور نتائج کا تعیّن کرنا، جیسا کہ نتائج پر مبنی تعلیم میں ہوتا ہے، جہاں سیکھنے یا کام کا مقصد واضح اور قابلِ پیمائش ہوتا ہے۔٭دوسروں کے ساتھ تعاون اور مکالمے کو فروغ دینا، کیوں کہ گروپ مباحثے اور سیکھنے سکھانے کے حلقے نئے خیالات اور حل تلاش کرنے میں مدد دیتے اور سوچ وسیع کرتے ہیں۔٭اپنی مصروفیات میں مستقل مزاجی اور شمولیت کو یقینی بنانا تاکہ صرف موجودگی کی بجائے فعال کردار ادا کیا جائے، جس سے اثرو نفوذ اور کام یابی میں اضافہ ہوتا ہے۔٭علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔ 

سو، خواتین گھر بیٹھے آن لائن کورسز، اسلامی تعلیم یا پروفیشنل تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ جب کہ بچّوں، خواتین یا آن لائن طلبہ کو تعلیم دے سکتی ہے۔٭قرآن، حدیث، فقہ، سیرت النبی ﷺ کی تعلیم حاصل کرنا۔ آن لائن یا مقامی سطح پر خواتین کو اسلامی تعلیم دینا، بچّوں اور نوجوان نسل کی تربیت کرنا، وغیرہ۔٭یتیموں، بیواؤں یا نادار خواتین کی مدد، فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام، خواتین کو شعور، تعلیم یا صحت کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا۔٭ڈاکٹر، نرس، لیڈی ہیلتھ ورکر یا ماہرِ غذائیت کے طور پر خواتین کی صحت، بچّوں کی نگہہ داشت، ذہنی صحت جیسے موضوعات پر کام٭خواتین اسلامی، ادبی یا سماجی موضوعات پر مضامین یا بلاگ وغیرہ بھی لکھ سکتی ہیں۔ 

اپنی تحریروں سے اصلاحِ معاشرہ میں کردار ادا کرنا، بچّوں کے لیے کہانیاں، نصیحتیں اور معلوماتی مواد تخلیق کرنا۔٭دیگر خواتین، بچیوں یا نوجوان لڑکیوں کی رہنمائی، مثبت سوچ، اسلامی اقدار اور خاندانی نظام پر ٹریننگ دینا، شادی سے پہلے تربیت، والدین کے کردار پر ورکشاپس وغیرہ۔٭اچھے ہم سائے، دوست، رشتے دار کے طور پر معاشرتی کردار کی ادائی، صلح صفائی، رشتے داری قائم کرنے یا دوسروں کی مدد، خدمت کے ذریعے خیر پھیلانا۔

آن لائن کام(فری لانسنگ، کاروبار)

٭گھر بیٹھے فری لانسنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ٹرانسلیشن یا چھوٹے آن لائن کاروبار جیسے کپڑے، جیولری، کھانے پینے یا ہینڈی کرافٹس وغیرہ کے کام کا آغاز، سوشل میڈیا پر ویمن ایجوکیشن یا بزنس پیجز چلا سکتی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیٹا اینٹری کا کام بھی آن لائن کیا جاسکتا ہے۔٭اگر کسی بھی مضمون پر مہارت رکھتی ہیں، تو بچّوں کو آن لائن پڑھا سکتی ہیں۔ 

دین کی تعلیم (قرآن، تجوید، حدیث) بھی آن لائن دے سکتی ہیں۔٭ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے یوٹیوب، ٹک ٹاک یا انسٹا گرام وغیرہ پر بطور کری ایٹر موٹیویشنل، کوکنگ، ہینڈی کرافٹس یا دیگر موضوعات پر مبنی ویڈیوز بنا سکتی ہیں۔ واضح رہے، اِس فیلڈ میں مستقل مزاجی اور اچھا کانٹینٹ کام یابی کی کنجی ہے۔٭مختلف ویب سائٹس جیسے Amazon یا Daraz پر دوسروں کی پراڈکٹس بیچ کر کمیشن حاصل کرسکتی ہیں۔

عورت پر مغربی تہذیب و افکار کے اثرات

مغربی تہذیب و افکار نے عورت کے فطری مظاہر، مزاج اور نفسیات پر گہرے اور پیچیدہ اثرات مرتّب کیے ہیں۔

مغربی تہذیب نے عورت کو گھر کی محدود ذمّے داریوں سے باہر نکال کر معاشی و سماجی میدان میں مَردوں کے برابر کام پر مجبور کیا، جس سے عورت پر دُگنا بوجھ پڑا۔ وہ نہ مکمل طور پر مَرد بن سکی اور نہ ہی مکمل طور پر عورت رہ سکی۔ اس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل اور خاندانی نظام کی کم زوری جیسے مسائل سامنے آئے۔

مغربی معاشرت میں عورت کی خود مختاری اور آزادی کو بڑھاوا دیا گیا، جس میں بعض اوقات آزادانہ جنسی تعلقات اور’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے نظریات عورت کے حقوق کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، جو اسلامی اور روایتی معاشرتی اقدار کے قطعاً منافی ہیں۔ 

نیز، اس سے خاندان اور معاشرے کی اخلاقیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ مغربی تہذیب میں عورت کی معاشی جدوجہد کو خوش حالی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں سرمایہ دارانہ نظام نے عورت کو’’سَستی مزدور‘‘ کے طور پر استعمال کیا اور اسے گھر داری اور بچّوں کی تربیت کے فطری فرائض سے دُور کردیا، جس سے خاندان کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ 

مغربی معاشروں میں عورت کی حالتِ زار کے اسباب میں طلاق کی بڑھتی شرح، خودکُشی اور نفسیاتی دباؤ جیسے مسائل عام ہیں، جو مغربی تہذیب کے اثرات کی عکّاسی کرتے ہیں، جب کہ اسلامی معاشروں میں عورت کو گھر کا مرکز مان کر عزّت و احترام کا مقام دیا جاتا ہے، جس سے عورت کی نفسیاتی اور سماجی صحت بہتر رہتی ہے۔ مغربی تہذیب کے اثرات نے بعض مسلم معاشروں میں بھی عورت کی فطرت اور نفسیات پر منفی اثرات مرتّب کیے ہیں کہ جہاں مغربی ثقافت کی تقلید نے عورت کو دین سے دُور اور اس کے فطری کردار سے ہٹانے کی کوشش کی۔ 

مجموعی طور پر مغربی تہذیب نے عورت کے فطری مزاج، نفسیات اور سماجی کردار میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، جو اکثر اسلامی اور روایتی اقدار کے خلاف ہیں۔ ان ہی کے نتیجے میں عورت کو ذہنی، سماجی اور خاندانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلامی تعلیمات عورت کو گھر کا مرکز اور محفوظ مقام دیتی ہیں، جہاں اس کی نفسیاتی اور فطری ضروریات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔

خواتین اپنے وقت کو کس طرح مؤثر بنائیں

٭صبح جلدی اٹھ کر عبادت اور ورزش کریں کہ چہل قدمی اور ناشتے سے دن بھر توانائی اور خوش گواری محسوس ہوتی ہے۔٭اپنے روزمرّہ کاموں کی فہرست بنائیں اور ترجیحی بنیادوں پر اہم کام پہلے مکمل کریں، اِس طرح وقت ضائع ہونے سے بچتا ہے اور کام منظّم انداز سے ہوجاتے ہیں۔٭گھر کے کاموں کو شیڈول کے مطابق انجام دینے سے وقت کی بچت ہوگی، تو اپنے لیے بھی وقت نکالا جا سکے گا۔٭ سوشل میڈیا اور غیر ضروری فون کالز سے پرہیز کریں کہ یہ وقت ضائع کرنے والے عوامل ہیں۔٭ اپنی پسندیدہ سرگرمیوں اور مشاغل کو وقت دیں، جیسے مطالعہ، لکھنا لکھانا، کوئی ہنر سیکھنا یا گھریلو دست کاری وغیرہ۔ 

یہ امور ذہنی سکون کے ساتھ شخصی ترقّی کا ذریعہ بھی ثابت ہوں گے۔٭اپنی صحت کا خیال رکھیں، روزانہ ورزش کریں اور پانی کی مناسب مقدار استعمال کریں تاکہ جسمانی اور ذہنی تن درستی برقرار رہے۔٭اپنی ہم خیال سہیلیوں کا ایک گروپ بنائیں اور مفید تبادلۂ خیال کریں۔٭اپنے کاموں کو حصّوں میں تقسیم کریں اور مقرّرہ وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ جلد فارغ ہوکر، کچھ وقت خُود کو بھی دے سکیں۔٭اپنی شخصیت کے نکھار کے لیے اچھی کتابیں پڑھیں، دینی معلومات حاصل کریں اور اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کریں تاکہ ذہنی سکون اور خوشی حاصل ہو۔٭خواتین عموماً ٹی وی سیریلز، ڈراموں، فیشن شوز وغیرہ میں اپنا وقت ضائع کرتی ہیں۔ 

یہ سرگرمیاں آسان تفریح فراہم کرتی ہیں اور اکثر انہیں ذہنی سکون یا مصروفیت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اس طرح وقت کا زیاں کئی منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔٭وقت کی بربادی سے اہم اور ضروری کاموں کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے، جس سے ذاتی اور خاندانی زندگی متاثر ہوتی ہے۔٭مسلسل فضول مشغولیات ذہنی دباؤ، الجھن اور عدم توازن کا سبب بن سکتی ہیں اور کارکردگی میں بھی کمی آتی ہے۔٭وقت کی بُری منصوبہ بندی کی وجہ سے پریشانی، دیر سے کام مکمل ہونے اور صحت کے مسائل جیسے بدہضمی اور نیند کی کمی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ٭غیر ضروری طور پر ٹی وی دیکھنے سے ذہنی اور نفسیاتی سکون کی بجائے الجھن اور ذہنی تھکاوٹ بڑھ سکتی ہے، جب کہ یہ سرگرمیاں اکثر حقیقی زندگی کی مثبت مصروفیات کی جگہ لے لیتی ہیں۔٭گھریلو امور اور بچّوں کی تربیت میں فعال کردار ادا کریں تاکہ وقت کا مثبت استعمال ہو۔٭اپنی دل چسپیوں کو مثبت اور نتیجہ خیز بنائیں اور وقت کے بہتر استعمال کے لیے خُود احتسابی کو معمول بنالیں۔

خواتین کی شخصیت سازی

اِس ضمن میں چند اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔٭اپنے وقت کا مثبت استعمال: روزمرّہ مصروفیات میں سے کچھ وقت صِرف اپنے لیے نکالیں تاکہ ذہنی و جسمانی طور پر ری فریش ہوسکیں۔ اِس طور شخصیت میں نکھار آتا ہے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔٭ کردار سازی اور اخلاقی تربیت: اپنے اندر کے منفی جذبات جیسے غصّے، حسد اور انتقام پر قابو پائیں اور مثبت اخلاقی صفات کو فروغ دیں تاکہ مجموعی طور پر شخصیت مضبوط اور خوش گواریت کی حامل ٹھہرے۔٭گھر کی خوش انتظامی:گھر کے کاموں کو منظّم طریقے سے انجام دیں، خاندان کے افراد کے ساتھ تعاون کریں اور بچّوں کی تربیت میں فعال کردار ادا کریں، کیوں کہ نسل کی شخصیت سازی میں ماں کی تربیت کا کردار کلیدی ہے۔٭دین اور روحانیت سے تعلق: اپنے دل و دماغ کو خشیتِ الٰہی، محبّتِ رسول ﷺ اور اسلامی تعلیمات سے منوّر کریں تاکہ شخصیت میں پختگی، استحکام آئے اور گھر، خاندان، معاشرے پر مثبت اثرات مرتّب ہوں۔٭معاشرتی کردار:گھر کے دائرے سے باہر بھی معاشرتی اصلاح اور دعوتی کاموں میں حصّہ لیں، کیوں کہ عورت کا کردار صرف گھریلو نہیں، معاشرتی بھی ہے اور اس کے اسی کردارکے ذریعے معاشرہ بہت بہتر ہوسکتا ہے۔٭سادہ طرزِ زندگی:سادہ اور متوازن زندگی گزاریں تاکہ ذہنی و روحانی سکون حاصل ہو، اعلیٰ سوچ پیدا ہو، جو شخصیت سازی اور گھر کے انتظام و انصرام کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔

اِن تمام نکات پر عمل کر کے خواتین نہ صرف اپنی شخصیات نکھار سکتی ہیں، بلکہ اپنے گھروں کو خوش حال اور منظّم بھی بنا سکتی ہیں۔ نیز،اپنی صلاحیتوں کو فروغ دے کر معاشرے کی تعمیر وترقّی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید