• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان نے 21اور22 فروری کی درمیانی شب افغانستان کے تین سرحدی صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں دہشت گردی کے اُن اڈّوں پر فضائی اور ڈرون حملے کیے، جو عرصے سے وہاں قائم تھے، اِن مراکز میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے منصوبے بنائے جاتے اور دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان بھیجا جاتا، جن کی مسلسل کارروائیوں سے بے گناہ شہریوں اور فورسز کے جوانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ یہ حملے انٹیلی جینس بنیاد پر کیے گئے، جن میں دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ کیا گیا۔ اِسی نوٹ میں کہا گیا کہ اِن حملوں میں80سے زاید دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں کالعدم تحریک طالبان اور داعش خراسان گروپ کے کارندے شامل ہیں۔ 

اِسے اُس حالیہ دہشت گردی کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا گیا، جو اسلام آباد، بنّوں اور باجوڑ میں کی گئی۔مگر طالبان حکومت نے اِس حملے سے سبق سیکھنے کی بجائے26فروری کی رات اچانک پاکستان کے سرحدی علاقوں پر دھاوا بول دیا، جس کے جواب میں پاک فوج نے کابل، قندھار اور دیگر علاقوں میں مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے دشمن کو بھرپور جواب دیا۔

طالبان کی عبوری حکومت کے وجود میں آنے کی بنیادی اساس وہ دوحا معاہدہ ہے، جس میں اُنہوں نے پوری دنیا کے سامنے کچھ وعدے کیے تھے۔ یہ قطعاً نہیں بھولنا چاہیے کہ طالبان عبوری حکومت کوئی سیاسی پارٹی یا ٹرانسفر آف پاور کے ذریعے وجود میں نہیں آئی، بلکہ ملیشیا گروپ کے طور پر ایک عالمی معاہدے کے تحت افغانستان پر قابض ہوئی۔ آج تک وہاں کسی عوامی رائے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا کہ اِسے کتنے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ 

امریکا اور طالبان میں جو معاہدہ ہوا، اُس کی ایک اہم ترین شق یہ ہے کہ طالبان عبوری حکومت کسی بھی حال میں افغان سرزمین کو کسی دوسرے مُلک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔ اِس شرط کی وجہ طالبان کا ایک ملیشیا فورس ہونا ہی نہیں تھا، بلکہ افغانستان میں دہشت گرد گروپس کی موجودگی اور خون ریزی کی وہ حالیہ تاریخ ہے، جس سے پوری دنیا تنگ ہے۔ 

دوحا معاہدہ، ایک مسلم مُلک، قطر کی ثالثی میں طویل مذاکرات کے بعد ہوا، جس میں روس، چین، تُرکیہ، وسط ایشیائی اور عرب ممالک، گویا سب شامل رہے۔ پاکستان سب سے اہم سہولت کار تھا کہ اِسی کی سر زمین پر موجودہ طالبان قیادت کے اہم رہنما برسوں میزبانی کا لُطف اُٹھاتے رہے۔ ویسے یہ پالیسی سازوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ اپنے عوام اور مُلکی مفادات کے برعکس کسی جذباتی یا لسانی لگاؤ کو فوقیت دینا کتنا منہگا پڑتا ہے۔ 

بعض افراد فتحِ کابل جیسے واقعات کو ایک خاص زاویے سے پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے ملیشیا گروپس اِتنے طاقت وَر ہوتے ہیں کہ منظّم فوجی طاقتوں تک کو شکست دے دیتے ہیں اور یہ ہمارے ہیرو ہیں، حالاں کہ کون نہیں جانتا کہ اسلحے کی بلیک مارکیٹ اور ڈالرز کا ان میں کیا کردار ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بڑی طاقت کسی دوسرے مُلک پر اُسی وقت قابض ہوتی ہے، جب اُس کے وہاں مفادات ہوں اور قبضہ تب چھوڑتی ہے، جب یہ مفادات ختم ہوجاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ امریکا کے افغانستان سے جانے کے بعد وہاں کیا بہتری آئی۔ اُن کے پاس ادارے ہیں، نہ گورنینس اور نہ ہی عوام کی بہتری کے منصوبے، جب کہ معیشت کا حال بھی سب کے سامنے ہے، تو کیا اِسی کو’’ آزادی کی نعمت‘‘ کہا جائے گا۔ امریکا، صدر اوباما کے پہلے دَور سے یہ اعلان کرتا رہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے واپس جا رہا ہے اور اس کا ارتکاز اب جنوب مشرقی ایشیا پر ہوگا۔ اِسی لیے اُس نے اپنے مختلف فورمز اور طاقت کو وہاں مضبوط کیا، جیسے کواڈ اور آسیان۔ جاپان کو دوبارہ فوجی کردار دینا بھی اِسی حکمتِ عملی کا حصّہ ہے۔

امریکا کا بڑا مقصد چین کی بڑھتی اقتصادی اور فوجی قوّت کو اِس علاقے میں محدود کرنا ہے۔ ہمارے ہاں کئی حلقوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ’’افغانستان تو وہ سرزمین ہے، جہاں ہر بڑی طاقت کو شکست ہوئی، یہ ناقابلِ تسخیر مُلک ہے۔‘‘ افغانستان کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں، تو یہ ہمیشہ ایک قبائلی معاشرہ رہا۔ اس نے بمشکل ایک مُلک کے طور پر کبھی کبھار ہی فنکشن کیا۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بادشاہتیں قائم تھیں، جو درحقیقت قبائلی سردار تھے۔ زیادہ تر تو یہ آپس ہی میں لڑتے رہتے۔

جدید زمانے کی ترقّی اور ٹیکنالوجی کی رمق تک وہاں نہیں پہنچی۔ وہاں کے سردار برّ ِعظیم میں آتے اور یہاں آباد ہوتے رہے کہ اُن کی سر زمین بے آب و گیاہ تھی۔ مغل اور انگریز دَور میں تو افغانستان اُن کی حکومت کا حصّہ رہا۔ افغانستان میں زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات ہی کبھی پوری نہیں ہوئیں۔ یہ غربت زدہ علاقہ تھا اور آج بھی، جب طالبان کی عبوری حکومت کو چار سال ہونے کو آئے ہیں، اس کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ 

امریکا نے افغانستان میں 80بلین ڈالرز خرچ کیے۔ فوج اور انتظامیہ کی تشکیل پر بیس ارب ڈالرز لگائے، لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اِس سے پہلے سوویت یونین کی کمیونسٹ حکومت اس کی سرپرست تھی، تو کیا یہ مُلک اُس سے بھی فائدہ اُٹھانے میں کام یاب رہا۔ افغان عوام تو آج بھی دربدر ہیں۔ جب امریکی وہاں سے جارہے تھے، تو افغان عوام کے جہازوں سے لٹکنے کے مناظر پوری دنیا نے دیکھے۔ 

دراصل، جو قومیں زمانے کے ساتھ نہیں چلتیں اور کسی خوابوں کی دنیا میں رہتی ہیں، وہ ایسی ہی صُورتِ حال سے دوچار ہوتی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی ایسے خوش فہم موجود ہیں، جو اپنے ملک و قوم کے مفادات پر دوسروں کو فوقیت دیتے ہیں، وگرنہ ہمیں کیا ضرورت کہ دنیا بَھر کے تنازعات میں ٹانگ اَڑاتے پھریں۔

افغانستان کی حالیہ تاریخ میں سب سے پیچیدہ صُورتِ حال یہ ہے کہ وہاں دنیا بھر کے دہشت گرد گروپس آکے پناہ لیتے ہیں، جنہیں خوش آمدید بھی کہا جاتا ہے۔ شاید وہ اِس خوش فہمی میں ہیں کہ اِن گروپس کی موجودگی سے دنیا پر خوف طاری ہوگا، رُعب پڑے گا، لیکن یہ کبھی نہ سوچا کہ اپنی قوم کا کیا انجام ہو رہا ہے۔ القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی سب ہی نے وہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جن سے دنیا نفرت بھی کرتی ہے اور اُن سے نبرد آزما بھی ہے۔

یہ تنظیمیں، اقوامِ متحدہ کی لسٹ پر بطور دہشت گرد موجود ہیں۔ اِن گروپس کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے، کیوں کہ ماضی میں یہ تنظیمیں ان کا ساتھ دیتی رہی ہیں اور ان میں نظریاتی ہم آہنگی بھی ہے۔ پہلے یہ’’افغان جہاد‘‘ تھا اور اب ہر گروپ کا الگ الگ’’جہاد‘‘ بن گیا، وہ بھی اپنے ہی مسلم ممالک کے خلاف۔ اصل آزمائش یا مشکل وقت وہ ہوتا ہے، جب یہ ملیشیاز، ایک حکومت میں بدلتی ہیں۔

بہت کم ایسا دیکھا گیا کہ ایسی عسکری تحریکیں حکومت میں آکر عوامی توقّعات پر پوری اُتری ہوں۔ حالیہ زمانے میں صرف ویت نام میں ایسا ممکن ہوا۔ افغانستان میں گزشتہ45 سالوں میں کوئی مستحکم حکومت وجود میں نہیں آسکی۔ پہلی افغان وار ختم ہوئی، تو مجاہدین کی باہمی جنگیں شروع ہوگئیں۔ جو بھائی، بھائی تھے، وہ اقتدار کے لیے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے۔ 

ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ایسے گروہ مذہب اور انقلابی نظریات کے نام پر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ یہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ دنیا اُن کے خلاف اِس لیے ہے کہ وہ ایک خاص نظریے کی پاس داری کرتے ہیں اور دنیا اسے پنپنے نہیں دینا چاہتی۔ یہ تو ممکن ہے کہ کوئی ایک یا دو ممالک ایسا کرتے بھی ہوں، لیکن باقی دنیا کو کیا مصیبت پڑی کہ وہ خوامخواہ دوسرے ممالک کے معاملات میں نظریات کے نام پر ٹانگ اَڑائے، جب کہ اُن کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔ 

یہ مادی دنیا ہے، مارکیٹ پر چلتی ہے، اِس کا نظریات سے بہت کم واسطہ ہے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 1979ء میں اِس نے ترقّی کا فیصلہ کیا، تو بہت سے کمیونسٹ نظریات پر مفاہمت و سمجھوتے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے کُھلی مارکیٹ کا نظریہ اپنایا۔ آج ہی نہیں، دنیا کے لیے ہمیشہ یہی اہم رہا ہے کہ وہ دوستی اور دشمنی اپنے مفادات ہی میں کرتی ہے۔

خاص طور پر آج کے بین الاقوامی امور کی بنیادی حکمتِ عملی یہی ہے، لیکن اِسے سمجھنے کے لیے تجربہ کار دانش و سیاست کی ضرورت ہے۔ جب امریکا واپس جارہا تھا، تو خیال تھا کہ افغان طالبان حکومت اور وہاں موجود جنگ جُو گروپس یہ بات اچھی طرح سمجھ چُکے ہوں گے کہ اب افغان عوام کی بنیادی ضرورت معاشی ترقّی ہے، مگر یہ اندازہ غلط نکلا۔ 

دنیا نے دوحا معاہدے میں وہ شرائط رکھیں، جن کے پورا کرنے پر طالبان حکومت تسلیم کی جائے گی، لیکن طالبان عبوری حکومت ایک بھی شرط پوری کرنے میں کام یاب نہیں ہوئی۔ اُلٹا اس نے اپنی برتری اسی میں سمجھ لی کہ وہ دہشت گرد گروپس کی سرپرستی کرتی رہے۔ لڑائی اور خون ریزی جاری رہے تاکہ افغان عوام کی توجّہ ترقّی کی طرف نہ جانے پائے۔

پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کی بھرپور مدد کی کہ وہ ایک مستحکم حکومت میں تبدیل ہوجائے، لیکن حکومت پر شدّت پسند افراد کی اجارہ داری نے اسے ممکن نہیں ہونے دیا۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی، پاکستان سے تعلق رکھتی ہے، تو جواباً پاکستان نے کہا کہ ٹھیک ہے، پھر اُنھیں پاکستان کے حوالے کردیں، مگر وہ یہ کام بھی نہیں کرتے۔ اگر یہ افراد امریکا کے خلاف لڑنے آئے تھے، تو وہ تو جاچکا، اب اُنہوں نے کس لیے ہتھیار رکھے ہوئے ہیں۔ پھر اگر وہ پاکستانی ہیں، تو اپنے ہی ہم وطنوں کو خُود کُش حملوں میں مار کر کس طرح کی حب الوطنی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 

طالبان کی عبوری حکومت نے بھارت سے تعلقات بڑھا کر پاکستان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بھارت اس کا پشت پناہ ہے، حالاں کہ بھارت میں اِس وقت جو قوم پرستی یا ہندوتوا کی تحریک چل رہی ہے، اُس سے وہاں کے مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جب کہ طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ’’ اسلامی امارت‘‘ ہے، تو اس کے بھارت کے ساتھ نظریات کیسے ہم آہنگ ہوں گے۔علاوہ ازیں، بھارت تو ایک عرصے سے افغان طالبان پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ کشمیر میں آ کر دہشت گردی کرتے ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اب اچانک بھارت خود دہشت گرد گروپس کا سپورٹر بن جائے۔ 

طالبان حکومت کو اِتنی عقل تو ہونی چاہیے کہ بھارت کے سامنے گزشتہ45سال کی افغان تاریخ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی اور دوسری افغان وار میں اتنے افغانی نہیں مارے گئے، جتنے ان کے درمیان ہونے والی خانہ جنگیوں اور قبائلی لڑائیوں میں ہلاک ہوئے۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ افغانستان میں گورنینس یا شہری سہولتوں کا کوئی بنیادی ڈھانچا موجود نہیں، اِس لیے کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری، فضول مشق ہوگی۔ 

امریکا کے قبضے کے دوران بھارت میں افغان پولیس اور سِول سروس اہل کاروں کی تربیت ہوئی، لیکن اس کا نتیجہ کیا سامنے آیا۔ بھارت میں تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ بتایا جاتا ہے کہ افغان بادشاہ، ہندوستان کی سرزمین پر حملے کرتے تھے۔ اُن کی فلمز میں یہی دِکھایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی یہی بحثیں چل رہی ہوتی ہیں۔

پاکستان کے پاس ایک ریگولر اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوج موجود ہے، جس نے سال بھر پہلے بھارت کی فوجی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں، جو فضائی حملوں کے خلاف کام کرسکے۔ مجاہدین نے جب روس کا مقابلہ کیا، تو اُس میں سب سے اہم کردار اُن امریکی اسٹنگر میزائلز کا تھا، جو کندھے پر رکھ کر چلائے جاتے تھے۔

اُن کی مدد سے گن شپ ہیلی کاپٹرز نشانہ بنائے گئے، جو روس کا افغان وار میں بنیادی فضائی ہتھیار تھا۔ اِسے ہمارے مُلک میں اِس طرح پیش کیا گیا کہ یہ کوئی افغان ٹیکنالوجی اور بہادری کی فتح تھی۔ فوجی معاملات میں غلط حساب کتاب اور اندازہ بہت منہگا پڑ جاتا ہے۔ آج بھی افغان طالبان کے پاس جو ہتھیار ہیں، اُن سے روایتی جنگ لڑنا ممکن نہیں۔

افغانستان کے پڑوسی وسط ایشیائی ممالک، ایران اور چین بار بار افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف وارننگ دے چُکے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کے پاس وہ ہتھیار ہیں، جنہیں امریکی فوج بے کار سمجھ کر وہاں چھوڑ گئی، اب انہیں بھی چار سال سے زیادہ ہوچُکے ہیں۔ ایک فوجی پریڈ میں عبوری حکومت نے اسکڈ اور آرگن میزائلز کا مظاہرہ کیا تھا۔ فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ اِن ہتھیاروں ہی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کوئی تیس، چالیس سال پرانی ٹیکنالوجی ہے۔ اب ڈرون اور جدید میزائلز کے سامنے ان کا ٹھہرنا ممکن نہیں۔

پاکستان کی پڑوسیوں کے معاملے میں یہ خواہش اور عملی پالیسی رہی کہ وہ امن سے رہنا چاہتا ہے۔ اپنا معاشی نظام مضبوط کرنا چاہتا ہے اور پڑوسیوں کا بھی۔ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ مُلک ہے، پاکستان اُسے خوارک اور دوسری اشیاء کی سہولت کے لیے ہمیشہ اپنی زمینی اور آبی راہ داری فراہم کرتا رہا ہے۔ ہم وہ احسانات نہیں دُہرانا چاہتے، جو پاکستان اور اس کے عوام نے افغان عوام اور طالبان عبوری حکومت پر آزمائش کے مشکل وقت میں کیے۔ 

دونوں ممالک کے عوام کی خواہش ہے کہ وہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہیں۔ فرسودہ اور بے تکے مطالبات یا کسی قسم کی پاکستان دشمن گروپنگ، طالبان عبوری حکومت کے حق میں ہے اور نہ ہی افغان عوام کو اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔ دنیا پہلے ہی دہشت گردی سے تنگ ہے، اِس لیے وہ اُن تمام کارروائیوں کی حمایت کرتی ہے، جو ان کے خلاف کی جاتی ہیں۔ 

دہشت گردی کے سدّ ِباب کے لیے مختلف ممالک مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ یہ سب طالبان عبوری حکومت کے لیے واضح پیغام ہے کہ اب وہ ملیشیا کی بجائے سیاسی حکومت میں تبدیل ہوجائے۔ پاکستان کی حالیہ کارروائی بھی خبردار کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان، افغان سرحد سے آنے والے دہشت گردوں کو اُن کے گھر میں گُھس کر جواب دے گا۔

سنڈے میگزین سے مزید