• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلدیاتی ادارے یامقامی حکومتیں جدید طرز جمہوریت کی اصل بنیاد ہیں۔ اسی بنیاد پر جمہوریت کی بلندوبالا پائیدار عمارت کھڑی کی جاسکتی ہےلیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ پہلے تو عوام کو کئی کئی سال کے وقفوں سے ووٹ کا حق ملتا ہے۔ لیکن جب ملتا ہے تو بنیادی جمہوری تقاضے پورے نہیںکئے جاتے۔ قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کراکے سمجھا جاتا ہے کہ جمہوریت بحال ہوگئی۔ میونسپل کارپوریشنوں ، میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں وغیرہ کے الیکشن سردمہری کی نذر کردئیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں گزشتہ حکومت نے جو تبدیلی کے نعرے کی بدولت برسر اقتدار آئی تھی مقامی سطح کے جمہوری اداروں کے وجود کو نظر انداز کئے رکھا ۔ موجودہ حکومت کے دور میں بھی بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہیں کرائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے آئین کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر جہاں جہاں الیکشن کرانے کا اعلان کیا اورانتخابی شیڈول بھی جاری کردیا، حکومت کی سردمہری کی وجہ سے وہاں انتخابات نہ ہوسکے۔ اس کے نتیجےمیں سندھ کے سوا کہیں بھی مقامی حکومتیں قائم نہ ہوئیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے انتخابی شیڈول کا اعلان بھی ہوا۔ اس کی روسے فروری میں الیکشن ہونے تھے لیکن وفاقی کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں آرڈیننس کے ذریعے14ترامیم کی منظوری دےدی ۔ وزیر اعظم نے آرڈ یننس کے اجراکے لئے صدر مملکت کوسمری بھی بھیج دی۔ صدر نے آرڈیننس جاری کردیا تو الیکشن کمیشن کی مقررہ تاریخ پر الیکشن ممکن نہیں ہوگا،اسے ملتوی کرنا پڑےگا۔کابینہ نے جن ترامیم کی منظوری دی ہے ان میں سے ایک کے تحت میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو تین ٹاؤن کارپوریشنوں میں تقسیم کردیا جائے گا اور ہر ٹاؤن کارپوریشن قومی اسمبلی کے ایک حلقے پر مشتمل ہوگی۔ اس وقت اسلام آبادقومی اسمبلی کے تین حلقوں میں تقسیم ہے۔ ایک اور ترمیم کی رو سے ووٹرز کی موجودہ تعداد اور حلقہ بندیوں میں ردوبدل کرکے حلقوں کی تعداد میں اضافہ کیاجائے گا۔ اس کے نتیجے میں انتخابات میں تاخیر ناگزیر ہوجائے گی ۔ جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ نے کابینہ کے فیصلے اور انتخابات میں تاخیر کےخلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ دوسری اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومتی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کئے جانےکابکھیڑا ایسے وقت میں پیدا کیا گیا ہے جب امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں اوروہ لاکھوں روپے فیس کی مد میں بھی جمع کرواچکے ہیں۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کے قیام کی راہ میں روڑے اٹکانے والے اسمبلیوں کے ارکان ہیں۔ جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ کے ارکان کا پہلا کام قانون سازی ہوتا ہے۔ وہ ملک کی داخلی وخارجہ پالیسی طے کرتے ہیں اور تعمیروترقی کے میگاپراجیکٹس تک محدود رہتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کا کام مقامی سطح پر عوام کے مسائل ومشکلات حل کرنا ہوتا ہے۔ عام لوگوں کی رسائی پارلیمنٹ کے ارکان کی نسبت اپنے چنے ہوئے کونسلروں تک زیادہ آسان ہوتی ہے کونسلران کی مشکلات دور کرنے کی پوزیشن میں اس لئے بھی ہوتے ہیں کہ وہ ایک محدود حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس حلقے کے لوگ اور ان کے مسائل کو خود بھی بہتر طور پر جانتے ہیں۔ خاص طور پر پانی بجلی گیس ،صفائی وغیرہ۔مقامی نمائندے لوگوں کے سماجی مسائل حل کرنے میں بھی بہتر مددگار ہوتے ہیں کیونکہ وہ انہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اسمبلیوں میں منتخب ہونے والے زیادہ تر جاگیردار ،سرمایہ دار اور بااثر لوگ ہوتے ہیں۔ وہ صرف انتخابات میں اپنے حلقے کا ایک آدھ چکر لگاتے ہیں۔ لوگوں کی ان تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔یہ تاثر بھی ہے کہ اسمبلیوں کےکچھ بدعنوان ارکان کرپشن کے مواقع حاصل کرنے کے لئے نچلی سطح کے اداروں کے انتخابات نہیں ہونے دیتے۔ کیونکہ انتخابات سےایک تو مقامی سطح پر ان کا رعب داب کم ہوجاتا ہے دوسرے چھوٹی موٹی اسکیموںسے لاتعلق ہونے کی وجہ سے ان کی کمائی کا دھندہ نہیں چلتا ۔ لوگ اپنے کام اپنے ہی گلی محلے کے منتخب لوگوں سے کروالیتے ہیں۔ اس عمل سے وہ جمہوری طور طریقے سیکھتے ہیں۔ ووٹ کا صحیح استعمال ان کی سمجھ میں آتا ہے اور جمہوریت پر ان کا اعتماد پختہ ہوتا ہے۔ بلدیاتی ادارے درحقیقت جمہوریت کی نرسری ہیں۔ یہاں سے پروان چڑھنے والی قیادت اوپر سے مسلط ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ معاملہ فہم اور ہمدرد ہوسکتی ہے۔ اسی لئے عوامی سطح پر مقامی حکومتیں زیادہ موثر اور مقبول ہوتی ہیں۔ جو بڑی سطح کے نمائندوں کی مدد سے اپنے علاقوں کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئین کی شق140اے کے تحت بلدیاتی اداروں کے انتخابات مقررہ وقت پر کرائے جائیں اور وقتی مصلحتوں یا انفرادی مفادات کیلئے حیلے بہانوں سے انہیں موخر نہ کیاجائے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ عین اس وقت انتخابات کو ملتوی یا منسوخ کردیا جاتا ہے جب ہر طرح کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہوتی ہیں اور امیدواروں نے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرادئیے ہوتےہیں۔ یہ جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کا حربہ ہے۔ اور پاکستان میں جمہوری اداروں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب بھی یہی ہے۔

تازہ ترین