اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اچھی مناسب تعلیم نہیں دے رہے نا بہتر روزگار کی ضمانت، نجی تعلیمی اداروں کی مہنگی تعلیم ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔روزگار کے مواقع نا ہونے کے برابر ہیں کوئی نئی صنعت اس ملک میں نہیں لگ رہی سرمایہ باھر کہیں منتقل ہورہا ہے غیرملکی کمپنیاں یہاں سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں ،قوت خرید میں نمایاں کمی اور ناقابل برداشت ٹیکسز کاروبار نہیں کرنے دے رہے ، ملکی تاجر اور صنعتکار بھی پریشان ہیں غیر ضروری حکومتی رکاوٹیں، بندشیں ، ٹیکسوں کی بھرمار مہنگے یوٹیلیٹی بلزانہیں دوسرے ملک جانے پر مجبور کررہی ہے ۔ سرکاری نوکریوں پر یوں تو پابندی ہے مگرشنید ہے کہ’ اندرکھاتے‘ یہ ملازمتیںاپنوں میں تقسیم ہورہی ہیں۔ ہماری معیشت دیکھا جائے بیساکھیوں پر کھڑی ہے آئی ایم ایف کی شرائط ملک کو گروی رکھنے کے برابر ہیں۔
پیداواری صلاحیت بھی روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔ زراعت کا برا حال ہے زرعی پیداوار کی شرح خطرناک حد تک نیچے جاچکی ہے زرعی اجناس کی کمی اجناس کی درآمدات کے بعد پوری کی جاتی ہیں، زرعی زمینیں اب ہائوسنگ سوسائٹیوں کی شکل اختیار کررہی ہے اچھے داموں کی وجہ سے کاشتکار اپنی زمین ہائوسنگ سوسائٹیوں کو دھڑ ادھڑ بیچ رہے ہیں نتیجتاً زرعی قابل کا شترقبہ تیزی سے کم ہورہا ہے۔ دوسری جانب کاشتکاروں کوا نکی فصل کا بہتر ریٹرن نہیں مل رہا سپورٹ پرائسز بہت کم ہیں لاگت زیادہ۔ نوجوان نسل ان حالات سے مایوس اور پریشان ہے بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے لاکھوں گریجویٹس نوکری کی تلاش میں مایوس ہونے کے بعد ذہنی تنائو کا شکار ہیں، کاروبار کیلئے وسائل اور مواقع نہیں، ایسے میں ان نوجوانوں کی اکثریت ملک سے باھر جانے کو ترجیح دے رہی ہے اور جیسے تیسے کرکے وہ باھر جانے کے وسائل اور مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، باہر کانے کی وجہ پوچھو تو جواب ملتا ہے کہ اس ملک میں کیا رکھا ہے؟ مایوسی کے اندھیرے گہرے ،امید کی کرن مدھم اور امنگیں دم توڑرہی ہیں۔دوسری طرف حکمرانوں کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ملکی وسائل ،قرضے اور ٹیکسز کی رقم کہاں جارہی ہے ؟ عام شہری درجنوں ٹیکسوں میں پھنسا ہے، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ ’آمدن کم اور اخراجات زیادہ‘ یہ ہر متوسط گھرانے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ہمارے نمائندہ حکمرانوں کو شاید اسکی پروا ہو بھی تو وہ اس کو حل کرنے میں غیر سنجیدہ دکھائے دے رہے ہیں، نمائشی اقدامات زیادہ ہیں اور عملی اقدامات کم۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ کرپشن ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے قرض دینے والے عالمی ادارے بھی کرپشن پر نالاں ہیں اور اسے ختم کرنے یاکم از کم کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔اس ملک میں مہنگائی کی بڑی وجہ یہ کرپشن ہے جو ہر ادارے میں سرایت کرچکی ہے کوئی بھی سرکاری کام کرپشن رشوت اور کمیشن کے بغیر انجام نہیں پاتا یہ ہوشربا مہنگائی غریب کو تو کھا چکی، اب متوسط طبقہ اس سے لڑلڑکر تھک چکا ہے۔ امیر ، اشرافیہ اور اقتدارمیں شریک طبقہ مزے لوٹ رہا ہے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بہت بڑھ چکی ہے لیکن اسکوپاٹنے والا کوئی نظر نہیں آرہا ۔ملک اس وقت کسی ٹھوس پالیسی پر نہیں چلایا جارہا ،کل کیا ہوگا اور کیا ہونے جارہا ہے مقتدر حلقوں کو کیا اسکا ادراک نہیں جو وہ اپنی موج مستی میں مگن ہیں اور دیوار پر لکھا نہیں پڑھ پا رہے ۔ ایسے میں نوجوان نسل کیا تیر مارے گی وہ یقیناً اس ملک کا نہیں اپنا مستقبل سنوارنے کی کوششوں میں لگی ہے اور دیکھا جائےتو گھر کو درست کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیںآرہی۔مضبوط انفراسٹرکچر اور موثر نظام موجود نہیں۔جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں۔نوجوان بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہاہے لیکن شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز میں کہنے سے خائف ہیں البتہ وہ آپ کی خود ساختہ نیکی اور فضیلت کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پروا نہیں۔ آپ توسیکورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ امر آپ کو آپ کے عوام کی مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ نوجوانوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے، کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ وہ دن گئے جب لوگوں کو بے وقوف بنایا جا سکتا تھا۔
اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہاوقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی ہم سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے۔ تاہم آپ کو پروا ہی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پروا کیوں ہو گی؟تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔جانتے ہیں کیوںنئی جنریشن نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں وہ چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھ کراپنی فرسٹریشن دور کررہے ہیں انکے ہاتھ میں کچھ نہیں یہ مایوسیاں اور بے بسی کچھ رنگ نا دکھا دے۔