• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو...

دنیا میں اِس وقت تقریباً پانچ ارب سے زائد افراد ٹی وی دیکھتے اور روزانہ اوسطاً دو گھنٹے 55 منٹ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ حساب کتاب کریں تو 72 سال کی عالمی اوسط عُمر میں ایک فرد کی زندگی کے آٹھ سے نو سال ٹی وی دیکھنے میں بیت جاتے ہیں، جب کہ گیلپ پاکستان کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ایک پاکستانی ناظر اوسطاً117منٹ یومیہ ٹی وی دیکھتا اور67 سال کی اوسط عُمر میں ساڑھے پانچ سال ٹی وی پر صرف کرتا ہے۔

موبائل اوراسٹریمنگ ایپس کے بڑھتےرجحان کے باوجود روایتی ٹی وی ناظرین کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے، کیوں کہ ٹی وی ابلاغ کاایک ایسا موثرذریعہ ہے، جو ہمارے نظریات، خیالات اورطرزِعمل پر گہرے اثرات ہی مرتب نہیں کرتا،تبدیلی یا چینج کو بڑے ہموار، غیر محسوس طریقے سے ناظرین تک منتقل کر کے اُن کی ذہن سازی بھی کرتا ہے۔ ہمارے یہاں ٹی وی یوں بھی بہت ذوق و شوق سے دیکھا جاتا ہے کہ عُمر، صنف، طبقۂ فکر، معاشی، معاشرتی اورعلمی پس منظر سے قطع نظرٹی وی پروگرامزمیں سب کی دل چسپی کا سامان موجود ہوتا ہے۔ 

خواتین تفریحی ڈرامے دیکھنے کی خواہش مند ہونے کے ساتھ سیاسی ٹاک شوز بھی ’’بڑا ڈراما‘‘ سمجھ کے دیکھ لیتی ہیں، تو حضرات اِن پر رواں تبصرے، تجزیے کرتے ہوئے خواہ مخواہ ہی اپنا بلڈپریشر بڑھاتے رہتے ہیں۔ جوان اسپورٹس چینل لگانے کی فکر میں ہوتے ہیں، تو بچّے کارٹون نیٹ ورک کے لیے مچلتے نظر آتے ہیں، مگر بزرگ باقی سب کو خاموش کروا کے صرف ’’نیوز‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔ 

اِس وقت پاکستان میں، پیمرا کے لائسینس یافتہ تقریباً114سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں، جن میں سے 30 سےزائد نیوز چینلز، جب کہ 40 سے زیادہ انٹرٹینمنٹ چینلز ہیں، جن سےتفریحی پروگرام، ڈرامے اور فلمیں پیش کی جاتی ہیں، جب کہ اندازاً40غیر مُلکی چینلز کے ساتھ مذہبی، اسپورٹس، میوزک، علاقائی زبانوں اور بچّوں کے لیے مخصوص چینلز بھی موجود ہیں۔

ٹی وی نشریات کے اہم جزو، خبروں سے ابتدا کریں، تو تمام نیوز چینل ’’بریکنگ نیوز‘‘ کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے ہیں، لیکن یہ ’’سعادت‘‘ عام طور پر اپنے وسیع نیٹ ورک کی بدولت سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینل ’’جیو نیوز‘‘ ہی کے حصّے آتی ہے۔ نہ صرف بریکنگ نیوز، بلکہ سوفی صد مصدّقہ خبر بھی۔ 

پچھلے کئی برسوں کی طرح، سالِ رفتہ بھی سوشل میڈیا پرجس طرح جھوٹ کا بازار پورے جوبن پر رہا، تو ایسے میں ایک درست، سچّی خبرکی تلاش کا سفر بالآخر روایتی، مین اسٹریم میڈیا ہی پر آکر ختم ہوتا رہا بلکہ عوام الناس کا انحصار مزید بڑھ گیا۔’’جیو کی خبرہے‘‘، گویا ہر درست خبر کی جانچ کا پیمانہ ٹھہرا۔ کرنٹ افیئرز یا سیاسی ٹاک شوز کا ذکر کریں، تو اپنے پرانے، منجھے ہوئے اینکرز کے ساتھ ساتھ نسبتاً نئے لائق فائق میزبانوں کے سبب جیو نیوز کے، ریٹنگ کے اپنے ہی ریکارڈز بریک ہوتے رہتے ہیں۔ 

سوال کی چوٹ سے ہر دیوار کو گراتے شاہزیب خانزادہ ہوں کہ ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں نت نئے سوال اُٹھاتے حامد میر، صرف ایک مہمان کے ساتھ ’’جرگہ‘‘ لگاتے سلیم صافی ہوں یا ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں مظہر عباس، ارشاد بھٹی، محمل سرفراز، بےنظیر شاہ، اعزازسید، عُمر چیمہ اور آصف بشیر چوہدری وغیرہ کے ساتھ محفل سجاتی علینہ فاروق شیخ، جو بدلتے دَورمیں اپنے ناظرین کو یہ سہولت بھی فراہم کرتی ہیں کہ وہ یوٹیوب پر کمنٹ کے ذریعے بھی، تجزیہ کاروں سےسوالات کے جواب حاصل کرسکتے ہیں۔ وہیں شہزاداقبال ’’نیا پاکستان‘‘ کی تعمیرمیں مگن ہیں۔ 

جب کہ معاصر چینلز پر اِسی نوعیت کے کچھ پروگرامز، جیسے کہ ندیم ملک کا ’’ندیم ملک لائیو‘‘، وسیم بادامی کا ’’الیونتھ آور‘‘، محمّد مالک کا ’’خبر‘‘، طلعت حسین کا ’’ریڈ لائن‘‘، منصورعلی خان کا’’ہم دیکھیں گے‘‘،مہر بخاری کا ’’مہر بخاری کے ساتھ‘‘، کامران شاہد کا ’’آن دی فرنٹ‘‘، منیب فاروق کا ’’ہیڈ آن‘‘، ’’آج کی بات، سیٹھی کے ساتھ‘‘، مجیب الرحمٰن شامی کا ’’نقطۂ نظر‘‘، صاحبِ اسلوب صحافیوں وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور شاہزیب جیلانی کا ’’ذراہٹ کے‘‘، غریدہ فاروقی کا ’’جی فارغریدہ‘‘، عاصمہ شیرازی کا ’’فیصلہ آپ کا‘‘، سیّد مزمل شاہ کا ’’اسٹیٹ کرافٹ‘‘، عادل عباسی کا ’’بول عادل عباسی کے ساتھ‘‘، ریحان طارق کا ’’دستک‘‘، مسعود رضا کا ’’گونج‘‘، ’’اسٹریٹ ٹاک وِد عائشہ بخش‘‘، رؤف کلاسرا کا ’’مدِمقابل‘‘، ابصاء کومل کا ’’پالیسی پوائنٹ‘‘ اور’’لائیو وِد ڈاکٹر شاہد مسعود‘‘ وغیرہ بھی عوام میں دیکھےاورپسند کیےگئے۔ ہرچندکہ کچھ ٹاک شوز مناظرے کا مزہ دیتے رہے، جہاں شرکاء کا فوکس حقیقت کے بیان، سچ کی تلاش یا حل کی طرف جانے کے بجائے وقتی طور پر بحث جیتنے پر رہا اور اُن کی یہ گرما گرمی نہ صرف مخالف کو زیر کرنے کی حکمتِ عملی کے طور پر بلکہ ریٹنگ کے حصول میں بھی کارگر ثابت ہوئی۔

ڈرامے کی طرف رُخ کریں، تو اس کی روایت پانچ صدی قبل مسیح، یونان سے شروع ہوئی۔ یونانی لفظ ڈراما کے لفظی معنی ’’فعل‘‘ یا ’’ادا کرنے‘‘کےہیں۔اپنے آغازمیں مذہبی رسومات اور اخلاقی تعلیم دیتا ڈراما ارتقائی مراحل طے کرتا رومیوں سے انگلستان اور فرانس سے ہوتا یورپ کے جدید دور میں داخل ہوا۔ اردو ڈراما19 ویں صدی کے اختتام پر پارسی تھیٹر اور پھر ریڈیو کے ذریعے گھر گھر پہنچا، جب کہ 80 ۔ 1970ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن نے اِسےعروج بخشا۔ اِس وقت پاکستان میں تفریحی چینلز کے درمیان ڈراموں کی بنیاد پرٹی آر پی (ٹیلی ویژن / ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ)کےلیےمقابلہ بہت سخت رہتا ہے۔ 

جیو انٹرٹینمنٹ عموماً ریٹنگز کے چارٹ پر نمایاں رہتا ہے، تو کچھ دیگر چینلز کے ڈراموں کو بھی عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہے۔ 2025 ء کے مقبول ڈراموں پرنظر ڈالیں تو ان میں میم سے محبت، دنیاپور، فرار، سُن میرے دل، قرضِ جاں، تن من نیل و نیل، دل والی گلی، پرورش، مَن مست ملنگ، دستک، شیریں فرہاد، اقتدار، ہم راز، ڈائن، مُہرہ، جُڑواں، آس پاس، حیا، گڈی، من مرضی، مکافات، کٹھ پتلی،دو کنارے، رخشی سوئیٹس، پتھر دل، بہارنگر، پیراڈائز، شیر، جن کی شادی اُن کی شادی، جمع تقسیم، پامال، بریانی، سانول یارپیا، شرپسند، عشق دی چاشنی، مَیں زمین، تُوآسمان، بہروپیا، ایک جھوٹی کہانی، مَیں منٹو نہیں ہوں، گونج، چال باز، لاڈلی، مفاد پرست، ایک بھول، نیلی کوٹھی، شکنجا، پہلی بارش، نہ چُھڑا سکو گے دامن، مداوا، معمّا، کفیل اور میری زندگی ہے تُو سمیت کچھ اور بھی پراجیکٹس شامل تھے، جنہیں دیکھنے والوں نے اپنی افتادِ طبع اور ذوق کے مطابق خُوب سراہا۔ جب کہ جیو سے آن ائیر ہونے والے شاہزیب خانزادہ کے تحریر کردہ پہلے ڈرامے ’’کیس نمبر9 ‘‘ کی بازگشت تو سینیٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی میں بھی سُنائی دی کہ سینیٹر شیری رحمان نے ڈرامے کا حوالہ دیتے ہوئے زیادتی کی شکار ہونے والی خواتین کی مشکلات اور سماجی دباؤ کی نشان دہی کی۔ 

درحقیقت ’’کیس نمبر9‘‘ جیسے ڈرامے ہی گیم چینجر ثابت ہوتے ہیں۔ لکھاریوں میں زنجبیل عاصم شاہ، ظفر معراج، مصطفیٰ آفریدی، کرن صدیقی، ثروت نذیر، فرحت اشتیاق، رادین شاہ، صائمہ اکرم چوہدری، ساجی گل، ہاشم ندیم، خلیل الرحمٰن قمر اور مصباح نوشین کے نام نمایاں رہے۔ 

زیادہ پسند کیےجانے والے فن کاروں میں صبا قمر، نعمان اعجاز، بلال عباس خان، ہانیہ عامر، فیصل قریشی، احمد علی اکبر، دانش تیمور، عائزہ خان، وہاج علی، یمنٰی زیدی، سجل علی، سوہائے علی ابڑو، عثمان مختار، حمزہ علی عباسی، ہمایوں سعید، احسن خان، فیروز خان، مہوش حیات، فرحان سعید، کنزیٰ ہاشمی، حبا بخاری، سحرخان، سارہ خان، احد رضا میر، ماورا حسین، حمزہ سہیل، دُرِفشاں سلیم، رمشا خان، خوشحال خان، علی رضا،حرامانی، کومل میر، دنانیر مبین، مایاعلی، صنم سعید، زارا نور عباس، سرحا اصغر، عینا آصف، ثمر جعفری، اقراء عزیز، علی انصاری، لائبہ خان، عماد عرفانی، صبور علی، گوہر رشید ، نمیر خان، امیر گیلانی اور طلحہ چہور وغیرہ نمایاں رہے۔

نیز، یہاں تمام ترانٹرٹینمینٹ چینلز پر نشر ہونے والے منتخب ڈراموں پریک سر غیر جانب دارانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیوں، تبصروں پر مشتمل ایک منفرد پروگرام ’’ کیا ڈراما ہے‘‘ کا ذکر، ہرگز بےجا نہ ہوگا۔ پروگرام کےمستقل شریک کنندگان میں میزبان مکرم کلیم کے ساتھ نادیہ خان، عتیقہ اوڈھو، مرینہ خان جیسے سینئر شوبز اسٹارز شامل ہیں،تو اِن میں سےکسی کی غیر موجودگی کے دوران سعدیہ امام، نادیہ جمیل، بشریٰ انصاری، مصدق ملک اور شمعون عباسی وغیرہ بھی شو کا حصّہ بنتے رہے۔ یہ پروگرام سال بھرسوشل میڈیا پر یوں بھی ٹرینڈ کرتا رہا کہ بیش تر ناظرین نے اِس کے شرکاء کے تجزیات، تبصروں ہی کی روشنی میں کسی بھی ڈرامے کو اُس کی ایک دو اقساط ٹیلی کاسٹ ہونے کے بعد آگے دیکھنےیا نہ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔

2025 ء میں کچھ ڈرامے ناظرین کی توقعات پر پورے نہیں بھی اُترسکے کہ روایتی فارمولا ڈرامے اب اپنی کشش کھوچُکے ہیں۔ صرف زیادہ بجٹ یا بڑی کاسٹ ہی ڈرامےکی کام یابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ مضبوط اسکرپٹ کے ساتھ منفرد، اچھوتے اور حقیقی موضوعات کا چناؤ، بہترین کیمراورک، ایڈیٹنگ، کرداروں کے مطابق گیٹ اپ، ڈرامےکی تھیم سے لگّا کھاتے مدھر، سریلے اوایس ٹی (اوریجنل ساؤنڈ ٹریک) اورمارکیٹنگ ہی شائقین کو متوجّہ کرتی ہے۔ یعنی ایسا ٹیم ورک، جس میں سب کی محنت اوروابستگی نظرآئے۔ 

ڈراموں میں حقیقت نگاری (Realism)کا فقدان، پرانی کہانی اور گھسے پٹے پلاٹ کے ساتھ کم زور اسکرپٹ، ہدایت کار کی عدم شمولیت اور غیرسنجیدگی، زیادہ اقساط کےچکر میں غیر ضروری طوالت، اداکاروں کی غیراطمینان بخش کارکردگی، غیرفطری، میکینیکل ری ایکشنز، ڈرامے کی سُست رفتاری، بےسمت اور بورنگ ہونا، تجسّس کی کمی، ایک ہی سین کو کھینچ کر کمرے میں موجود سب افراد کے چہرے کا بےتکا کلوزاپ اور ناظرین کا اپنی زندگی سےڈرامے کی کہانی، کرداروں کا ربط قائم نہ کر پانا ہی وہ وجوہ ہیں، جوکسی ڈرامے کے فلاپ ہونے کا باعث بنتی ہیں۔

اس بات کا دھیان رکھنا لازم ہے کہ تشدد، سازش، تحقیر، جھوٹ، رشتوں میں بداعتمادی، لڑائی جھگڑوں جیسی سماجی و اخلاقی برائیوں کے خلاف شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، نہ کہ انھیں معاشرے میں نارمل کردیاجائے، تو۔ خیر، غیر مُلکی ڈراموں کو اُردو زبان میں ڈب کر کے دکھانے کا چلن سالِ رفتہ بھی کام یاب رہا۔ نیز، 2025 ء کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ یوٹیوب پر پاکستانی ڈرامے دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی۔

سلیبرٹیز کے انٹرویوز پر مبنی پروگرامز کی بات کریں، تو 2003 ء سے اپنی طرز کے مقبول ترین پروگرام، ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ میں سہیل وڑائچ ،جو اپنے مخصوص سادہ انداز میں معروف شخصیات سے زندگی کے’’کھلے تضادات‘‘ جاننے کی کوشش کرتے ہیں، 2025ء میں بھی چھائے رہے۔ تابش ہاشمی کا ہلکے پُھلکے مزاح پر مبنی، منفرد شو ’’ہنسنا منع ہے‘‘ آن ایئرہو تو اُس کی 400 ایپی سوڈ دیکھ چُکنے کے باوجود بھی اسکرین کے سامنے سے اُٹھنا محال ہے کہ اُن کی مہمانوں سے برجستہ جملے بازی اور شگفتگی کا لیول ہی الگ ہے۔ 

یہ شو پوری فیملی کے ساتھ مل کر دیکھنے، لُطف اٹھانے کا سلسلہ سالِ گزشتہ بھی پورے ذوق و شوق سےجاری رہا اور پچھلے کئی برسوں کی طرح 2025ء میں بھی اس نےٹاپ ریٹڈ شوزمیں اپنی جگہ مستحکم رکھی۔ اِسی نوعیت کے شو ’’زبردست‘‘ میں وصی شاہ کی گفتگو، ادبی چاشنی کے ساتھ تہذیب و شائستگی کی روایت آگے بڑھاتی رہی۔ 

واسع چوہدری کی’’گپ شپ‘‘ کا بھی جواب نہ تھا۔ جب کہ ’’حسبِ حال‘‘ میں سہیل احمد، ’’مذاق رات‘‘ میں عمران اشرف، ’’دیس بُک‘‘ میں جنید سلیم ، ’’آفٹر آورز‘‘ میں عُشنا شاہ، ’’بز‘‘ میں حسن چوہدری، ’’سُنو تو سہی‘‘ میں حنا نیازی اور پی ٹی وی کے ’’اسٹار اینڈ اسٹائل سیزن فائیو‘‘ میں عاصم یار ٹوانہ نےخُوب ہی رونق لگائے رکھی۔

مارننگ شوز کا ذکرکریں، تو’’جیو نیوز‘‘ کا نیوز بیسڈ (اہم خبروں، سماجی مسائل اور ہلکے پھلکے موضوعات پر مبنی) شو، ’’جیو پاکستان‘‘، ہما امیرشاہ اور عبداللہ سلطان کی میزبانی میں سابقہ کئی برسوں کی طرح، 2025ء میں بھی مقبولِ عام رہا، کیوں کہ اس کا مطمعِ نظر محض تفریح فراہم کرنا نہیں، بلکہ ڈیجیٹل مواد اور سوشل میڈیا ٹرینڈز کےساتھ سماجی شعور میں اضافہ، معلومات تک رسائی اور معاشرتی و اخلاقی تربیت کا فروغ بھی ہے۔ 

’’گڈ مارننگ پاکستان‘‘ پچھلے 14 سال سے ندا یاسر کر رہی ہیں اور ہر برس ہی کسی نہ وائرل کلپ کی زد میں ضرور آتی ہیں۔ سالِ رفتہ بھی اُنھوں نےاپنا ریکارڈ قائم رکھا اور ڈیلیوری بوائز سے متعلق ایک اسٹیٹ مینٹ داغ دیا، جس کے بعد ٹرولنگ کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اُن کے شوہر، معرف فن کار یاسر نواز کو سوشل میڈیا پر آکر کہنا پڑا کہ’’خدا کے واسطے میری معصوم بیوی کو معاف کردو۔ 

اب کسی اور کی بینڈ بجاؤ ۔‘‘ اِسی طرح ایک شو، ’’صُبح سویرے‘‘ مدیحہ نقوی نے سنبھالے رکھا، تو ’’روشن سویرا،‘‘نامی شوآمنہ ملک، ’’آج پاکستان‘‘ سدرہ اقبال، ’’مارننگ وِد فضا‘‘، ماڈل، اداکارہ فضا علی اور ’’اے مارننگ وِد فرح‘‘ فرح حسین (واضح رہے، انتہائی سلجھی ہوئی میزبان نے کافی وقفے کے بعد نئی انرجی کے ساتھ ایک نئے مارننگ شو کا آغاز کیا) نے، جب کہ’’رائز اینڈ شائن‘‘ نادیہ خان اور ساتھی میزبان زہیب حسن نے کافی خوبی وعُمدگی سے نبھائے۔ پی ٹی وی پر جگن کاظم کا ’’مارننگ ایٹ ہوم‘‘، سندس جمیل کا’’ویک ایند ایٹ ہوم‘‘ اور توثیق حیدر کا ساتھی میزبانوں سبین فاروق اور محمّد شعیب کے ساتھ ’’رائزنگ پاکستان‘‘ بھی دیکھے اور سراہے گئے۔ 

گیم شوز کا ذکر کریں تو ’’جیتو پاکستان لیگ‘‘، ’’دی الٹیمیٹ مقابلہ‘‘ ’’بول دیوانے، بول مستانے‘‘، ’’آخری کھلاڑی کون‘‘ اور ’’ماسٹرشیف‘‘ وغیرہ آن ایئر رہے۔ کرائم شو اور انویسٹی گیٹو جرنلزم کے زمرے میں جیو نیوز کا پروگرام ’’جرم و سزا‘‘ اور اقرار الحسن کا’’سرِعام‘‘ بھی شوق سے دیکھے گئے۔ ویسے تو نہ جانے کیوں ٹی وی پر موسیقی کے پروگرامز کا کال ہے، مگر سالِ رفتہ ’’پاکستان آئیڈل‘‘ میں سریلے ٹیلنٹ کی تلاش کے خوش گوار سفر نے شائقینِ موسیقی کے خاصے آنسو پونچھ ہی ڈالے۔ 

بلاشبہ، میرٹ اپنا راستہ خُود بنا ہی لیتا ہے اور ’’پاکستان آئیڈل‘‘ کے گالا رائونڈ تک پہنچنے والے 16نٹیسٹنٹس نے یہ ثابت کر دکھایا۔ سال کے اختتام تک سب سے سریلی آواز یعنی’’پاکستان آئیڈل‘‘ کے انتخاب کا فیصلہ تو نہیں ہو پایا، لیکن پروگرام کی شہرت اتنی دُور دُور تک پھیل گئی کہ توقع ہو چلی ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر اچھی موسیقی کی تخلیق کا باقاعدہ آغاز(احیاء) ہونے جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں اگرچہ اسپورٹس چینلز کی تعداد کم ہے، مگر معیار اچھا ہے۔ جیو سوپر، پی ٹی وی اسپورٹس، اے اسپورٹس اور بین الاقوامی برانڈ ٹین اسپورٹس کا خصوصی ورژن، پاکستان میں کھیلوں کے دل دادہ افراد کی توجّہ کا مرکز بنا رہا۔ کھیلوں کی دنیا میں جیو کا ’’اسکور‘‘ یحیٰی حسینی بڑھاتے ہیں، البتہ کرکٹ سیزن میں مختلف چینل خصوصی نشریات پیش کرتے نظر آئے۔ 

رمضان کے حوالے سے خصوصی نشریات جیسے احساس رمضان، شانِ رمضان، رمضان میں بول، محفلِ رمضان، رمضان پاکستان وغیرہ کا بھی مختلف چینلز نے اہتمام کیا۔ مذہبی مواقع پرمحافل، مجالس ٹیلی کاسٹ کی گئیں، جب کہ قومی، ملی اور مذہبی ایام کی مناسبت سے بھی خصوصی پروگرام نشر ہوئے۔ اور ہاں، ویسے تو پیمرا 12 منٹ فی گھنٹہ کے اشتہارات کی اجازت دیتا ہے، لیکن عوام عملی طور پر اوسطاً 12 سے 18 منٹ کے اشتہارات بھی ملاحظہ کرتے رہے۔

سنڈے میگزین سے مزید