• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان تقریباً نصف پاکستان ہے۔ اپنے اسٹریٹجک محل وقوع، کم آبادی اور قدرتی وسائل کی فراوانی کے باعث اسے اب تک ملک کا سب سے زیادہ تر قی یافتہ صوبہ ہونا چاہئے تھا۔ مگر حقیقت اسکے بالکل برخلاف ہے ۔مملکت پاکستان کیساتھ الحاق کے وقت سے لے کر اب تک وہاں بے چینی، شورش اور عسکریت پسندی سے نمٹنے ہی میں سارا عرصہ گزر گیا، پہلے نوابوں، سرداروں کو اسکا ذمہ دار قرار دیا جاتا تھا اب دہشت گرد تنظیموں نے انکی جگہ لے لی ہے ۔ بلوچ قوم پرستوں کے نزدیک اس مسئلے کا حل یہی ہےکہ صوبےپر یہاں کے لوگوں کو حق حاکمیت اور ساحل اور وسائل پر اختیار دیاجائے ، اور اس کیلئے مثبت اور عملی اقدامات کئے جائیں، صوبے کے امن وامان اور معاشی و سماجی ترقی کیلئے موثر پالیسی بھی یہی ہے لیکن وفاق نے اب تک اس حوالے سے جو اقدامات کئے ہیں وہ عوام کی خواہشات پر پورے نہیں اترئے، اسی لئے ان کےمطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کافی عرصہ بعد گزشتہ دنوں جب بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ گئے تو انہوں نے صوبے میں غیر ملکی پشت پناہی سے جاری دہشت گردی کو کچلنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے وفاق اور صوبے کے مل کر آگے بڑھنے کی بات کی ۔ انہوں نے اس موقع پر قومی شاہراہ این25اور پانچ دانش اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور سیلاب سے متاثرین کیلئے تعمیر شدہ مکانات کےسرٹیفکیٹس دینےکی تقریب سے خطاب کیا۔ اس تقریب میں سرکاری اہلکاروں کے علاوہ صوبے کےعمائدین بھی مدعو کئے گئے تھے ۔ یہ عمائدین وہی معزز لوگ ہیں جو پہلے سے حکومت کے حامی اور مددگار ہیں۔ اسلام آباد سے جب بھی کوئی حکمران بلوچستان کے دورے پر جاتا ہےتو صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کے ایک بڑے ہوٹل یا گورنر ہاؤس میں انہی عمائدین کو بلا کر خطاب کرتا ہے اور مطمئن ہوکر واپس چلا جاتا ہے۔ جب کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ اس کا رقبہ ملک کے تقریباً 44 فیصد علاقے پر مشتمل ہے جس میں کوئٹہ کے علاوہ بھی کئی بڑے شہر اور قصبے شامل ہیں ۔ اس وسیع و عریض علاقے کے عام لوگ اپنے وفاقی حکمرانوں کے ناموں اور چہروں سے بھی زیادہ تر آشنا نہیں کیونکہ وہ ان کے علاقوں میں جانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے ۔ ذوالفقار علی بھٹو چند بڑے شہروں میں ضرور گئے مگر تمام علاقوں تک ان کی رسائی بھی ممکن نہ ہوپائی۔ باقی حکمران قلات، خضدار، تربت، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی ، ڈھاڈر ، پشین ،قلعہ سیف اللّٰہ، لورالائی، چمن، ژوب وغیرہ کے شاید نام ہی سنتے ہوں گے جب کہ عوام سے قریبی روابط کیلئےسیاسی رہنماؤں کو ملک کے کونےکونے تک جانا چاہیے۔ جلسے جلوسوں سے خطاب کرنا اور لوگوں سے ملنا چاہیے، اس سے نہ صرف عام لوگوں میں اپنے رہنماؤں کیلئے اپنائیت کے جذبات فروغ پاتے ہیں بلکہ ان کی باتیں، ان کا پیغام سمجھنے میں بھی انہیں آسانی ہوتی ہے۔ سیاسی رہنما اقتدار میں ہوں یا باہر دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں تو بڑے بڑےشہروں کے دورےبھی کرتےہیں اور رائے عامہ کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ملتے ہیں تو ان کا اور ان کی سیاسی پارٹیوں کا ایجنڈا بھی لوگوں تک پہنچتا ہے ۔ بلوچستان کے معاملےمیں ایسا نہیں ہوتا۔ احقر نے ایک ملاقات میں میاں نواز شریف کی توجہ بھی اس طرف دلائی تھی جب وہ وزیراعظم تھے، انہوں نے غور سے میری معروضات سنیں ضرور مگر کوئٹہ سے آگے نہ گئے ۔بلوچستان آبادی کے لحاظ سے ملک کاسب سے چھوٹا صوبہ ہے قومی اسمبلی میں اس کی ڈیڑھ درجن سیٹیں ہیں جو 342کے ایوان میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ شایداسی لئےقومی لیڈر بلوچستان کا کم ہی رخ کرتے ہیں کہ اتنی سی سیٹوں کیلئے جان جوکھوں میں کون ڈالے۔ مگر انہیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ بین الاقوامی سطح پر اپنے تزویراتی محل وقوع، نایاب معدنیات اور طویل ساحل کی بدولت اس صوبے کی ہمالیہ جیسی اہمیت ہے۔ اس کا اندازہ لگانا ہے تو یہاں کی اینٹمونی معدنیات میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی کا مشاہدہ ضرور کیجئےجن کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قدر بڑی طاقتوں کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق عالمی سطح پر اینٹمونی اسٹریٹیجک معدنیات کی طلب میں تیزی آئی ہے جسے میزائلوں ، بیڑیوں اور فلیم ریٹارڈینس جیسی اہم مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے، یہ معدنیات اس وقت چین کے کنٹرول میں ہیں۔ مگر امریکہ، اس کی کمپنیوں اور نجی تاجروں کی نظروں میں آچکی ہیں۔ اور وہ ایک آسٹریلوی کمپنی کے اشتراک سے ان کی تلاش میں ہیں۔ امریکہ جس نے تیل کے ذخائر کیلئے خود مختار ہمسایہ ملک وینزویلا پر قبضہ کرلیا ہے اور ایران ، گرین لینڈ اور کئی دوسرے ملکوں پر حریصانہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اس دھات کے حصول کیلئے کیا کرسکتاہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس وقت تو پاکستان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں مگراندیشہ ہے کہ نایاب قدرتی وسائل کی خاطر آنکھیں پھیرتے دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان کے پاس تیل کا سمندرہی نہیں سونے ، تانبے ، خام لوہے اور اسٹریٹیجک مقاصد کیلئے کام آنے والی قیمتی ، معدنیات کے ذخائر بھی ہیں جن میں سے ریکوڈک کے سب سے بڑے ذخائر کا ٹھیکہ پہلے ہی ایک امریکی کمپنی لے چکی ہے۔ پاکستان کو مستقبل کے وسیع تناظر میں بلوچستان میں پائی جانے والی بے چینی کا سد باب کرنا ہوگا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بلوچستان کو دیوار سے لگانے کی بجائے سینے سے لگا یا جائے۔ اس کے دکھ درد کو محسوس کیا جائے۔ اس کے مسائل کو غور سے سناجائے اور سنجیدگی سے انہیں حل کرنے کیلئے قابل عمل تدابیر اختیار کی جائیں۔ خاص طور پر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ دی جائے جو فی الوقت بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے۔

تازہ ترین