جابر سلطان تہذیب ناآشنا قدیم زمانوں میں ہی نہیں آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی پائے جاتے ہیںجو سروں کی فصل تو کاٹتے رہتے ہیں مگر اپنے دامن پر لہو کی چھینٹ تک نہیں پڑنے دیتے ہیں وہ خود کوئی اصول کسی قانون اور قوموں کے کسی بھی متفقہ معاہدے کو نہیں مانتے اخلاقیات کے ان کے اپنے پیمانے ہیں ۔ جو وہ کہہ دیں وہ ہوجائے ،یہ ہے اللّٰہ کی قدرت، جو ہم کہہ دیں وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا ۔ عہد حاضر کےجابر سلطان نے اقتدار کا جبہ پہنتے ہی پہلا حکم یہ صادر کیا تھا کہ اس کے ملک میں تارکین وطن کا داخلہ روک دیا جائے کہ وہ اس ملک کے وسائل ہڑپ کررہے ہیں ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گیا کہ وہ تو خود بھی تارک وطن ہے۔ اس کےملک کے اصل باشندے تو تانبے کی رنگت والے مسکین لوگ تھے جنہیں دوسرے ملکوں سے آنے والے سفید چمڑی والوں نے مار مار کر بھگادیا ۔ اور خود اس کے مالک بن بیٹھے ۔ اس کا دادا ایک جرمن تھا جو اپنے ملک سے بھاگ کرامریکا آیا اور اس کےپوتے کو آج جابر سلطان بننے کا موقع مل گیا۔ یہ پوتا اب اس ملک کو ’’عظیم ‘‘بنانے کے لئے دوسروں کا راستہ روک رہا ہے اس نے ایک خود مختار ملک وینزویلا پر چوروں کی طرح حملہ کیا، اس کے صدر اور اس کی بیوی کو گرفتار کرکے اپنے ملک لے آیا اور ان کو اپنی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لئے پیش کردیا جب کہ دنیا بھر میں اس فعل کےخلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ جابر سلطان نے یہی نہیں بلکہ کیوبا ، کولمبیا اور کینیڈا کو بھی امریکا میں ضم کرنے کی دھمکی دی اور گرین لینڈ کو تووہ اپنے ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی ضروری سمجھتا ہے ۔ اسے خطرہ ہے کہ امریکا نے اس پر قبضہ نہ کیا تو روس اور چین وہاں آجائیں گے یہ ایسی دلیل ہے جسے وہ کسی بھی ملک کےلئے استعمال کرکے طاقت کے بل پر اس پر قبضہ کرسکتا ہے ۔ گرین لینڈ پر امریکا کے قبضے کی جو ممالک دبے لفظوں میں بھی مخالفت کررہے ہیں ان پر جابر سلطان نے تجارتی ٹیرف عائد کرکے انہیں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔
سب سے زیادہ فکر اسے ایران کی کھائے جارہی ہے جس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں سوائے اس کےکہ وہ اس کےلےپالک بچے اسرائیل کے ’’گریٹر‘‘ بننے میں حائل ہے ۔ جابرسلطان کے اسلحہ سرمائے اور عملی مدد سے اسرائیل نے غزہ کو اپنی ننگی جارحیت سے کھنڈربناکر رکھ دیا ۔ 90ہزار کے قریب فلسطینی مردوں اور عورتوں کو قتل کردیا جن میں 20ہزار سے زائد معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ کسی نے ایک فلسطینی بچے سے پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا بچے نے جواب دیا فلسطینی بچےبڑے نہیں ہوتے اس سے پہلے مار دیئے جاتے ہیں۔ جابر سلطان کے اسرائیلی بغل بچے نےنہ صرف 90ہزارفلسطینیوں کو قتل کیا ہے بلکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد کو شدید زخمی بھی کیا ہے اوران ہسپتالوں کو بھی بمباری سے اڑا دیا جہاں وہ اپنا علاج کرواسکتے تھے ۔ جابر سلطان کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا۔ وہ بس ایران میں مذہبی حکومت کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ وہ مملکت کے خلاف بغاوت کرنے والے پرتشدد مظاہرین میں سے کسی کو پھانسی نہ دیدے ۔ اس کا دعویٰ ہےکہ اس نے پاک بھارت جنگ سمیت دنیا میں 6جنگیں رکوائیں اور ایک کروڑافراد کی جانیں بچائیں ۔ اس لئے اسے نوبل انعام دیا جائے۔ نوبل انعام کمیٹی نے جنگیں رکوانے سے زیادہ اس کا جنگیں کروانے کا ریکارڈ دیکھا تو انعام کسی اور کو دے دیا ۔ اس پر وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر نے اس لالچ میں کہ جابر سلطان اسے وینزویلا کی حکومت عطا کردے گا اپنے نوبل انعام کو اس کی نذر کردیا حالانکہ جابر سلطان نےتو خود وینزویلا کے صدر ہونے کا اعلان کررکھا ہے ۔ جابر سلطان کو ایران کا ’’مکوٹھپنے‘‘ کا بڑا شوق ہے کچھ حالی موالی ملکوں نے اسے ایران پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر اس کا کہنا ہے کہ میں نے کسی کے مشورے سے نہیں اپنے مشورے سے حملہ روک دیاہے کیونکہ ایران نے لوگوں کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کردیا تھا ۔ مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ جابر سلطان حملے کی تیاری کرچکا ہے ۔ بس موقع کی تلاش میں ہے۔ اس نے ایک اور کارنامہ بھی انجام دیا ہے غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کوحملوں کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی ۔ اب اس نے وہاں امن کے لئے ایک بورڈ بنادیا ہے جس کا سربراہ وہ خود ہے اور امن فوج کا کمانڈر ایک امریکی جنرل کو بنایا ہے ۔ اس امن بورڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک بھی فلسطینی نہیں سب اپنے ہی لوگ ہیں ۔ اندھا بانٹے ریوڑیاں ،مرمراپنوں کو ۔ ایک امریکی اخبار نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ وعدہ شکنی امریکا کا اصول ہے ۔ ایرانیوں کو بغاوت پر اکسایا اور کہا کہ ہماری امداد پہنچنے والی ہے مگر پھر پیچھے ہٹ گیا ۔ مگر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کل کیا کرےگا ۔ جب تک جابر سلطان موجود ہے ، دنیا جنگ کے خطرے سے دوچاررہےگی ۔ لیکن تاریخ کا یہ سبق کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ۔ فارس(ایران) کبھی دنیا کی ایک عظیم قوت تھی ۔
سلطنت روما کی طاقت کا کوئی مدمقابل نہیں تھا۔ برطانیہ عظمیٰ پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا آج یہ سب باتیں ہوائی لگتی ہیں ۔ جبر کو بھی دوام نہیں اسے بھی مرمٹ جانا ہے ۔ کسےمعلوم کہ آج جو دنیا کی سپر طاقت ہے کل اس کا انجام کیا ہوگا ،سدا رہے نام اللّٰہ کا، جابر سلطان دنیا کی تیل اور نایاب معدنی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے دوسرے ملکوں کا جو امن برباد کررہا ہے ہوسکتا ہے کہ کل خود اس کیلئے مصیبت بن جائے ۔ہمارا فرض تو کلمہ حق کہنا ہے جو بہترین جہاد ہے ، جہاد کے معنی اگرچہ بدل دیئے گئے ہیں مگر حدیث رسول ﷺ بدلتی ہے نہ بدل سکتی ہے ۔ اقبال نے بہت پہلے کہہ دیا تھا،تمہاری تہذیب خود اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی،جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔