• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی تقریباً 8ارب نفوس پر مشتمل آبادی میں سے اس وقت 70کروڑ افراد ایسے ہیں  جنہیں دو وقت پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوتی لیکن دوسری طرف چار سو اؤیسے بھی ہیں جنہیں دولت کے انبار چین نہیں لینے دیتے اور وہ ان سے نجات حاصل کرنے کی فکرمیں ہلکان ہو رہے ہیں دولت کے ڈھیر میں ڈوبے ہوئے ان بیچاروں نے عالمی رہنماؤں کے نام ایک کھلے خط میں دہائی دی ہے کہ انکی بڑھتی ہوئی آمدن پر سپر ریچ ٹیکس لگایا جائے تاکہ وہ چین کی نیند سوسکیں۔ دنیا کے ان سب سے زیادہ امیر لوگوں  نے دولت کی اس بڑھتی عدم مساوات کو بنی نوع انسان کیلئے خطرہ قرار دیا ہے ارب پتیوں کے اس طائفے نے جنکا تعلق 14امیر ترین لوگوں سے ہے، خبردار کیا ہے کہ امیر اور غریب ملکوں کے درمیان اس بڑھتے ہوئے تفاوت نے دنیا کو کئی طرح کے خطرات کے آخری کنارے تک پہنچا دیا ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ آکسفوم نے عالمی میڈیا کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے ایک فیصد امیروں کے پاس عالمی آبادی کے مجموعی سرمائے سے زیادہ دولت ہے جب کہ ہر چار میں سے ایک عام آدمی فاقہ کشی پر مجبور ہے اقتصادی مشکلات اور مالیاتی بحرانوں کے باوجود پچھلے سال ارب پتیوں کی دولت میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اسی لئے 2025ء کو ارب پتیوں کا سال کہا جانے لگا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے قریبی شخص ایلون مسک اس وقت دنیا کا امیر ترین شخص ہے جسکی دولت نصف ٹریلین کھرب ڈالر سے بڑھ گئی ہےخود ٹرمپ کی دولت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی فسادی طبیعت اور خدشات سے بھرپور معاشی اور خارجی پالیسی کی وجہ سےپریشان حال امریکی ارب پتی ملک چھوڑنے اور آئرلینڈ، انگلینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جانے کا سوچ رہے ہیں۔ جائز طریقوں سے پیسہ کمانا ویسے تو ہر شخص کا حق ہے مگر ایک حد سے زیادہ دولت جمع ہونے سے معاشرے میں کئی خرابیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ جولوگ غیر قانونی طریقوں سرارب کھرب پتی بن جاتے ہیں وہ الیکشن خرید کر سیاسی قوت حاصل کرلیتے ہیں ۔ عوامی حقوق اور شہری آزادیاں سلب کرتے ہیں۔ ججوں اور اخبارات کو خرید لیتے ہیں۔ بڑے بڑے مناصب پر قابض ہو جاتے ہیں۔ وہ دولت سے عیاشانہ زندگی گزارنے کیلئے ہر چیز خرید سکتے ہیں جب کہ عام آدمی کو چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے حصول کے قابل بھی نہیں چھوڑتے ۔ اسی لئے دولت کی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور امیر اور غریب کی زندگی میں فرق بڑھتا جارہا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔

تخفیف غربت کی شرح اسی لئے منجمد ہوکر رہ گئی ہے افریقہ، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ میں اس بگاڑ کے اثرات زیادہ نظر آرہے ہیں۔ دولت کے بل پرلوگ رائے عامہ کی تشکیل پر قادر ہوجاتے ہیں وہ معاشی انصاف کو ناممکن بنا دیتے ہیں ۔ اسی لئے امیر ، امیر تر اور غریب، غریب تر ہورہے ہیں ۔ محتاط تخمینوں کے مطابق اس وقت دنیا کی آدھی دولت ایک فیصد امیروں کے تصرف میں ہے جب کہ 40فیصد لوگوں کے حصے میں روزانہ ساڑھے چھ ڈالر بھی نہیں آتے ۔ امریکا کے صدارتی انتخاب میں ایسا شخص صدر بنا جو خود ارب پتی ہے یہ محض اتفاق نہیں ہے یہ ایک نظام کا حاصل ہے جو امرا کو آگے بڑھنے اور ناداروں کو پیچھے دھکیلنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ہر ملک میں موجود ہے پاکستان میں اوپر کے 10فیصد لوگوں کے پاس ملک کی 40فیصد دولت ہے جبکہ نچلے طبقے کے 40 فیصد لوگوں کے پاس 10فیصد بھی نہیں 30سے 35فیصد آبادی بمشکل گزارا کررہی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان یہاں یہ فرق تعلیم تک غیر مساوی رسائی، ٹیکس کے غیر منصفانہ نظام، جاگیرداری اور اشرافیہ جیسی قباحتیں، میرٹ سے انحراف اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ آبادی کا دباؤ اور روزگار کے محدود مواقع بھی اس کا سبب ہیں ۔

ایک مغربی فلاسفر نے اس صورتحال کے تدارک کیلئے تجویز کیا ہے کہ دولت کی قانونی حد مقرر کی جائے اور اس سے زیادہ پیسہ قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے کہا جائے یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ٹیکسوں کا نظام قومی تقاضوں کے مطابق استوار کیا جائے اس حوالے سے سپر ٹیکس ریچ کی تجویز کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔ اسلام نے دولت کی تقسیم کا جو نظام دیا ہے وہ اس حوالے سے سب سے زیادہ موثر ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ خود اسلامی ملکوں میں اس پر عمل نہیں ہوتا۔ اسلام کے اقتصادی نظام کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن اسے بروئے کار لانے کے لئے جس سنجیدگی کی ضرورت ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ پاکستان تو تیزی سےتنخواہ پر انحصار کرنے والا ملک بنتا جارہا ہے اور تنخواہ دار طبقہ ہی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے ۔قومی افرادی قوت میں ملازمین کا تناسب بڑھ کر 60 فیصد ہوگیا ہے جوروزگار کے خود انحصار ذرائع کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے ۔ ٹیکنالوجی کا انقلاب اس میں مددگار ہوسکتا ہے ۔ خاص طور ہر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مدد لی جاسکتی ہے۔ زراعت ، صنعت اور کان کنی کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تخفیف غربت کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں توسیع بھی ضروری ہے۔ ملک کا معاشی نظام ایسا ہونا چاہئےکہ غریب کو بھی آگے بڑھنےکی جگہ مل سکے۔

تازہ ترین