• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران تنازع، پائیدار مذاکرات پر زور، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو، دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے مشاورت برقرار رکھنے کا عزم

اسلام آباد، ماسکو ،استنبول( نیوز رپورٹر، اے ایف پی ) پاکستان نے ایران تنازع کے حل کیلئے پائیدار مذاکرات پر زور دیا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے، دونوں رہنمائوں نے خطے کی سلامتی اور ترقی کے فروغ کیلئے پائیدار مذاکرات اور سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا ، دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے مشاورت برقرار رکھنے کا عزم ، دوسری جانب نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کی ، اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے، روس اور ترکیہ بھی مذاکرات کیلئے کوشاں ہیں ،روس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا، روسی صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ تہران کے خلاف طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں ’افراتفری‘ پیدا کر سکتا ہے اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے،روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو بتایا کہ ماسکو ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ کریملن مذاکرات میں اس معاملے پر ان کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہیں،ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکیہ جمعہ کو ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرے گا، ترک سفارتی ذرائع کے مطابق، وزیر خارجہ ہاکان فیدان جمعہ کو عراقچی کو بتائیں گے کہ ان کا ملک "مذاکرات کے ذریعے موجودہ کشیدگی کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے"۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فیدان ایران کے خلاف فوجی مداخلت کی مخالفت کا اعادہ کریں گے کیونکہ اس طرح کے قدم سے علاقائی اور عالمی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نےامریکی صدر کی جانب سے ایران کیخلاف جنگ شروع کرنے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشر ق وسطیٰ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔تفصیلات کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جمعرات کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے اعلیٰ سطحی روابط اور مشاورت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید