• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان میں ویسے تو شہنشاہیت ہے مگر شہنشاہ ’’تبرک‘‘ کے طور پر قدم بوسی کے لئے ہے ۔نظام حکومت منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے جس کا انتخاب مغربی جمہوریت کے ضابطوں کے مطابق عوام خود کرتے ہیں ۔ اس وقت وہاں سنائے تاکییجی نام کی ایک خاتون وزیر اعظم ہیں ملک کی اس پہلی خاتون وزیر اعظم نے ایسا فیصلہ کیا ہے جو دنیا کا کوئی مرد حکمران بقائمی ہوش و حواس شاید ہی کرتا ۔ جاپان میں اکتوبر 2024ءمیں چار سال کیلئے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کا انتخاب ہوا تھا ابھی اس کی دوسال کی میعاد بھی پوری نہیں ہوئی کہ وزیر اعظم صاحبہ نے اس کے وسط مدتی انتخابات کا اعلان کردیاہے ۔ وجہ اس کی مہنگائی ہے اور تاکییجی نے اس پر قابو پانے کےلئے اشیائے خوردنی پر دوسال کے لئے ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اب وہ عوام کی رائےلینا چاہتی ہیں کہ انہوں نےصحیح کیا ہے یا غلط۔ مہنگائی کا شور عوام نے مچا رکھا ہے اور اپوزیشن نے تو اس حوالے سے طوفان بدتمیزی بپا کیا ہوا ہے ۔

تاکییجی اکتوبر2025ء میں وزیراعظم بنیں ابھی چارماہ گزرے ہیں کہ انتخاب کا اعلان کرکے انہوں نے اپنے اقتدار کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ ان کی بطور وزیر اعظم پہلی انتخابی آزمائش ہے اور ان کا اپنا کہنا ہے کہ ایسا کرکے میں اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگارہی ہوں لیکن عوام سے براہ راست ان کی رائے معلوم کرنا ضروری ہے تاکہ پتا چلے کہ میں ملک پر حکمرانی کا حق رکھتی ہوں یا نہیں۔

تاکییجی پاکستان میں ہوتیں تو ایسا کبھی نہ کرتیں پہلے تو وہ مہنگائی کو پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈالتیں اور ٹیکس کے خاتمے کا کریڈٹ خود لیتیں عوام سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی کہ یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں ، اگر ٹیکس ختم کردیا تھا تو اس کے ثمرات گنواتیں اور اعداد وشمار کے اشاریوں سے جو شماریات کا محکمہ آسانی سے تیار کرلیتا ہے، دعویٰ کرتیں کہ اس کے نتیجے میں مہنگائی تیزی سے ختم ہورہی ہے، معیشت بحال ہورہی ہے، کھانے پینے کی چیزیں سستی ہورہی ہیں اور جو لوگ مہنگائی کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں وہ یہ بھی کہہ سکتی تھیں کہ اسٹاک ایکسچینج میں تیزی آرہی ہے، کاروبار مستحکم ہورہے ہیں ،برآمدات بڑھ رہی ہیں، تجارتی خسارہ ختم ہورہا ہے ۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں، امیر غریب اور غریب امیر ہورہے ہیں اور یہ سب کچھ میرے اقتدار کےچار ماہ کے اندر ہی ہورہا ہے ۔ آگے چل کر ملک کتنی ترقی کرے گا اور کتنی خوشحالی آئے گی اس کی تفصیلات میں اپنی موجودہ مدت اقتدار ختم ہونے اور اگلے الیکشن سے پہلے بتاؤں گی ، عوام میرے ساتھ ہیں۔ جو میرے ساتھ نہیں اور مخالفین کا دم بھرتے ہیں وہ بھی کوئی عوام ہیں ؟میں انہیں نہیں مانتی۔

تاکییجی پاکستان میں ہوتیں تو وسط مدتی کیا پوری مدت ہونے پر بھی انتخابات نہ کراتیں اور انہیں تضیع اوقات قرار دیتے ہوئے اپنی مدت اقتدار بڑھانے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتیں ۔ اگر انتخابات کی ضرورت پڑجاتی تو بھی اپنی ’’عظیم الشان فتح‘‘ کو یقینی بنالیتیں ۔ مگر یہ جاپان ہے جس کی وہ وزیر اعظم ہیں اور وہاں وہ کچھ نہیں ہوتا جو یہاں ہوتا ہے ۔ کسی زمانے میں ہوتا ہوگامگر ایٹم بم سر پر پڑتے ہی وہاں کے لوگوں کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ وہ امریکہ کے حلقہ بگوش ہوگئے ہیں اور چین کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

پاکستان میں جو بھی برسراقتدار آتا ہے اپنا اقتدارچھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا کہ سیاسی استحکام خطرے میں نہ پڑجائے۔ جسے اقتدار نہیں ملتا وہ ایک دن کیلئے بھی اقتدار والے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا ۔ یوں ملک میں سیاسی کشمکش اور ’’رونق میلہ‘‘ لگا رہتا ہے۔ مغرب نے جس نوعیت کی جمہوریت وضع کررکھی ہے وہاںاس پر سختی سے عمل بھی کیا جاتا ہے سیاسی پارٹیاں ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل اور عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں بناتی ہیں جن پر عمل درآمد کے لئےکچھ اصول بھی وضع کئے جاتے ہیں ۔جس کسی کو سیاست کے خارزار میں قدم رکھنے کا شوق چرائے وہ کسی ایسی پارٹی سے وابستہ ہوجاتا ہے جس کا منشور اس کی خواہشات کےمطابق ہو۔ پھر ساری عمر اسی پارٹی میں گزار دیتا ہے کوئی کم ہی اپناذاتی کام نہ ہونے پر ادھر سے اُدھر ہوتا ہے ۔ لوگ ذاتی مفاد کو قومی نفع نقصان کی سوچ کے تابع رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے وجود میں آتے ہی جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرداروں نے اپنے سیاسی قبلے بدلنا شروع کردیئے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔

پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی سے ایک موقع پر حلف لیا گیا کہ وہ اقتدار کے لئے اپنی پارٹی نہیں بدلیں گے ۔ اگلے ہی روز اسکندر مرزا نے انہیں بلایا اور ری پبلکن پارٹی میں شامل ہونے کو کہا جو اس نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے بنائی تھی۔ سب مسلم لیگی حلف بالائے طاق رکھ کر نئی پارٹی میں شامل ہوگئے اور نئی حکومت بن گئی ۔ عام ووٹر کو بھی اس سے کوئی دلچسپی نہیں رہی کہ کس پارٹی کا منشور کیا ہے اور وہ قوم کے لئے کیا کام کرنا چاہتی ہے وہ ایسے لیڈروں کی تلاش میں لگ گئے جو انہیں تھانے کچہری اور پٹواری کے غضب سے بچائے ۔سنائے تاکییجی پاکستان کے اس سیاسی تجربے سے فائدہ اٹھاتیں تو اپنا اقتدار خطرے میں نہ ڈالتیں ، کون جانے مڈٹرم الیکشن میں فتح اسے ملتی ہے یا نہیں ، ملتی ہے تو بھی موجودہ اکثریت برقرار رہتی ہے یا کم ہوکر اس کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے ۔ ہمارے ہاں ووٹ کسی پروگرام کی بجائے شخصیات کو دئیے جاتے ہیںجولوگ بلند بانگ دعووں کی بنیاد پرکامیاب ہوتے ہیں منتخب ہونے کے بعداپنے وعدوں کو چھوڑکراقتدارکی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔وہ تاکیچی کی طرح لوگوں سے پوچھ کرپالیسیاں نہیں بناتے وہی کچھ کرتے ہیںجو ان کے اقتدار کو دوام دینے میں مدد دے سکیں۔ مغربی جمہوریت کا اچھا پہلو یہی ہےکہ وہاں منتخب لوگ اپنے وعدوں سے سوچ سمجھ کر ہی انحراف کرتے ہیں۔

تازہ ترین