• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے سی یا ڈی سی: زیادہ خطرناک کرنٹ کون سا؟

بجلی، دورِ جدید میں زندگی کی بنیادی ضرورت، لازمی حصّہ ہے، جو گھروں سے لے کر صنعتوں تک ہر جگہ توانائی فراہم کرتی ہے۔ یہ صحت، تعلیم اور پیداواری شعبوں کو فعال رکھنے، صنعتی ترقی، گھریلو آلات اور مواصلاتی نظام چلانے کے ضمن میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر بجلی کی مسلسل فراہمی رُک جائے، تو اسپتال، ادارے اور کاروبار فعال نہیں رہ سکتے۔ ہمارے گھروں کے زیادہ تر آلات بھی، مثلاً ریفریجریٹرز، مائیکرو ویوز، واشنگ مشینز وغیرہ برقی رو کی بدولت ہی کام کرتے ہیں۔ 

گویا روزمرّہ زندگی، بجلی کے بغیر ایک کارِ محال ہے، لیکن اسی بجلی کو درست طریقے اور احتیاط سے استعمال نہ کیا جائے، تو یہ انتہائی خطرناک بھی ہوسکتی ہے، لہٰذا حادثات سے بچاؤ کے لیے کچھ بنیادی حفاظتی اصولوں پر عمل ازحد ضروری ہے۔ مثلاً برقی آلات کی صفائی یا مرمّت سے قبل انھیں پلگ سے ضرور نکال دیں، گیلے ہاتھوں یا مرطوب جگہوں پر برقی آلات استعمال نہ کریں، ہر قسم کے آلے کے لیے مناسب پلگ اور ایکسٹینشن استعمال کریں۔

واضح رہے، بجلی کو محفوظ طریقے سے استعمال کر کے ہم توانائی کے اس ذریعے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ گھروں اور فیکٹریز میں بنیادی طور پر دو قسم کی برقی رویعنی اے سی (Alternating Current) اور ڈی سی (Direct Current) استعمال ہوتے ہیں۔ پاور گرڈ سے گھروں ، دفاتریا فیکٹریز کو سپلائی کی جانے والی برقی رو کو اے سی کہتے ہیں۔ یہ ایک سیکنڈ میں کئی بار اپنی سمت تبدیل کرتی ہے۔

جب کہ بیٹری یا سولر پلیٹ سے پیدا ہونے والا کرنٹ، ڈی سی کہلاتا ہے اور یہ ایک ہی سمت میں چلتا ہے۔ ہمارے یہاں بہت سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ صرف بجلی گھر سے آنے والا کرنٹ ہی خطرناک ہوتا ہے، جب کہ بیٹری یا سولر پلیٹ سے آنے والا کرنٹ خطرناک نہیں ہوتا، تو یاد رہے کہ بجلی کا کرنٹ خواہ کسی بھی صُورت میں ہو، خطرناک ہے، لہٰذا اس ضمن میں ہمیشہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ زیرِنظر مضمون اس حوالے سے ہے کہ کون سا کرنٹ انسانی وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

اے سی کے خطرات: اے سی کا ایک بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اسے آسانی سے مختلف وولٹیج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چوں کہ مختلف آلات کے لیے مختلف وولٹیج کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریفریجریٹر کے لیے120وولٹ اے سی کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ مائیکروویو اوون کے لیے240وولٹ اے سی کی ضرورت ہوتی ہے، تو ایسے میں اے سی برقی رو کے ذریعے ٹرانسفارمر کا استعمال کرتے ہوئے وولٹیج کی سطح بآسانی اوپر یا نیچے کی جاسکتی ہے۔

چوں کہ ٹی وی، فریج، واشنگ مشین اور پانی کی موٹر وغیرہ میں کرنٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، تو ان آلات کے استعمال میں احتیاط ازحد ضروری ہے، اگر خدانخواستہ کسی کو بےاحتیاطی یا لاپروائی کے سبب کرنٹ لگ جائے، تو اس کا فوری اثر دل پر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کے مسلز سکڑنے لگتے ہیں اور دھڑکن بے ترتیب ہوجاتی ہے۔

مذکورہ حالت ایک منٹ سے زیادہ ہوجائے، تو موت کے امکانات 99فی صد ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ اے سی انسان کے مسلز کو جکڑ کر لاک کردیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو کرنٹ سے چُھڑوا نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں عام گھروں میں استعمال ہونے والے برقی آلات 220 وولٹ پر کام کرتے ہیں، ان کا کرنٹ لگنے کی صُورت میں انسان کے جسم پر دباؤ ڈالتا ہے اور شدید صورت میں بے ہوشی یا موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگر اے سی کی فریکوئنسی 50تا 60ہرٹز کے درمیان ہے، تو یہ مقدار انسانی دل کو بند کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

ڈی سی کے خطرات: ڈی سی ایک اہم قسم کی برقی رو ہے، جو مختلف ایپلی کیشنز میں استعمال ہوتی ہے، لیکن یہ رہائشی گھروں میں وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے موزوں نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گھروں میں بجلی کی تقسیم کے حوالے سے اے سی کی نسبت ڈی سی کے کئی فوائد ہیں۔ مثلاً وولٹیج کی تبدیلی میں آسانی، بہتر کنٹرول، زیادہ حفاظت، اور اعلیٰ کارکردگی وغیرہ۔ عام طور پر ڈی سی کا بہاؤ مسلسل ہوتا ہے۔

اگر خدا نخواستہ کسی کو ڈی سی لگ جائے اور اس کا دورانیہ ذرا سا بھی طویل ہو جائے، تو جسم کے اندرونی ٹشوز تک جل کر ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ بعض اوقات کسی بڑے کارخانے میں لگے بڑے سولرسسٹم میں ہائی وولٹیج پیدا ہونے کی صُورت میں چند سیکنڈز میں انسانی جان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ 

گھروں میں نصب ہائی وولٹیج والی سولر پلیٹس (500واٹ یا اس سے زائد) بھی انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ڈی سی انسان کو ایک زور دار جھٹکے سے دُور پھینک دیتا ہے، یعنی سولر سسٹم جتنا بڑا ہوگا، کرنٹ کا جھٹکا اور اس کی شدّت اتنی ہی شدید ہوگی۔

بہرحال، کرنٹ چاہے اے سی ہو یا ڈی سی، لاپروائی اور بے احتیاطی کی صُورت میں دونوں ہی انسانی جان کے لیے خطرناک ہیں۔ بس، فرق صرف اتنا ہے کہ اے سی انسان کو پکڑ لیتا ہے اور براہِ راست دل پروار کرتا ہے، جب کہ ڈی سی انسان کو زور دار جھٹکے سے دُور پھینک دیتا ہے اور جسم کے اندرونی ٹشوز تک جلادیتا ہے۔ سو، بہرطور حد درجہ احتیاط لازم ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید