پاکستان کڑی شرائط کے تحت آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کےقرضوں، دوست ملکوں کی اعانت اور سخت داخلی اقدامات کی بدولت دیوالیہ ہونےسے تو بچ گیا لیکن معاشی خود کفالت کی منزل ابھی بہت دور ہے۔
ماہرین کی رائے میںاس کی سب سے بڑی وجہ بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی ہے جس پر قابو پانے کی کوششیں بارآور نہیں ہوسکیں ۔قیام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی ساڑھے تین کروڑنفوس پر مشتمل تھی جو بڑھتے بڑھتے اب25کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ افزائش آبادی کے اعتبار سے پاکستان خطے کی سب سے زیادہ شرح رکھنے والا ملک ہے۔ملکی ترقی کے لئے حکومت جوبھی منصوبے بناتی ہے، آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سےاس کے مطلوبہ نتائج زمین پر نظر نہیں آتے۔ معاشی اشاریے بہتری کی نشاندہی توکرتے ہیں لیکن اصل صورتحال اتنی اطمینان بخش نہیں ہے۔ معیشت، تعلیم،صحت اور روزگار کے مواقع شدید دباؤ میں ہیں۔ایک طرف ملک کی کثیر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جوقومی اثاثہ سمجھی جاتی ہے تو دوسری طرف بے روزگاری کی وجہ سے یہ طبقہ بیرونی ملکوں کارخ کررہا ہے۔ ہنر مند نوجوان ملک کی خدمت کرنے کی بجائے حصول روزگار کے لئے،مارے مارے پھر رہے ہیں۔ عالمی بینک کے صدر اجے بنگانے جو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے، ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس صورتحال کے پیش نظر واضح کیا ہے کہ پاکستان کو اگلے دس سال میں روزگار کے تین کروڑ مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ گویا ہر سال25سے30لاکھ نوجوانوں کے لئے، اسامیاں تخلیق کرنا ہوں گی ورنہ ایک طرف ہنرمند افراد کا ملک سے انخلا جاری رہے گا تو دوسری طرف معاشی استحکام کا خواب، محض خواب ہی رہے گا۔صرف 2025 میں4ہزار ڈاکٹر ملک سے باہر چلے گئے۔
صنعتی ترقی کا پہیہ مختلف مسائل کی وجہ سے سست پڑ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے پچھلے سات ماہ میں تجارتی خسارہ28.3فیصد بڑھ کر122.4 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات، دفاع اور ترقیاتی اخراجات سے بڑھ گئے ہیں۔ مجموعی قومی قرض80.5ٹریلین روپے تک جاپہنچاہے جو ترقیاتی پروگرام سے70فیصد زیادہ ہے۔ حکومت کے پاس اخراجات کے لئے وسائل محدود ہیں اس لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا بوجھ نجی شعبے پرہے جو خودزبوں حالی کا شکار ہے۔ سرمایہ کاری ایک مشکل عمل بن گئی ہے۔ ان تمام مشکلات کا بنیادی سبب آبادی میں اضافہ ہی ہے۔ جس کی وجہ سے آبادی کی منصوبہ بندی ایک قومی ضرورت بن چکی ہے۔
شرح آبادی میں مسلسل اضافہ قومی وسائل معیشت،صحت، تعلیم غرضیکہ ہر شعبے کے مسائل بڑھا رہا ہے۔ پیدائش کی شرح میں کمی سے ہی ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ باضابطہ منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کے لئے ٹھوس اقدامات اس سلسلے میں ناگزیر ہیں۔ کم عمری کی شادی جو دیہی علاقوں میں معمول کا عمل ہے، کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل کرانا چاہیے۔ خاندانی منصوبہ بندی کا محکمہ موجود ہے،طبی ماہرین اس سلسلے میں ماہرانہ مشورے دے سکتے ہیں۔ خود خاندانوںکے اپنے حالات بھی سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی پیدائش میں وقفے کا فیصلہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ توپھر زندگی کی آسانیاں حاصل کرنے سے گریز کیوں کیا جائے۔بے محابا افزائش آبادی سے معیار زندگی پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں اس کا اس طبقے کو زیادہ علم ہے جو براہ راست متاثر ہورہا ہے۔ آبادی بڑھنے سے اسکولوں، کالجوں میں پہلے تو داخلہ نہیں ملتا۔ ملتا ہے تو کلاس روم میں بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ہوتی ۔
تعلیمی اخراجات بڑھ گئے ہیں۔اسپتالوں میں دوائیں نہیں ملتیں۔ طبی عملے کی کمی ہے۔ زراعت نت نئے آلات کشادرزی کے باوجود بڑھتی آبادی کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتی۔شہری علاقوں میں آبادی کے دباؤ کے باعث رہائش کے لئے مکانات، پینے کے لئے صاف پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے مسائل شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ مہنگائی میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ کچی آبادیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رہنے کے لئے لوگوں کو صحت مندماحول میسر نہیں۔ بڑھتی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کو حکومت اور سول سوسائٹی اپنے اپنے طور پر یا مل جل کر حل کرسکتی ہے۔ اسی سلسلے میں پیدائش میں درمیانی وقفہ بڑھانے کی تعلیم اور ترغیب دینے کے لئے علمائے کرام، ڈاکٹروں، اساتذہ، فلاحی تنظیموں اور میڈیا کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ سرکاری ذرائع توپہلے سے موجود ہیں۔ خواتین کی تعلیم اس حوالے سے ایک اہم عنصر ہے۔ ان سب کے ذریعے وقفے کے حوالے سے درست پیغام لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے، دیہی علاقوں اور پسماندہ وغریب خاندانوں میں وقفے کا پیغام پہنچانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
آبادی کی منصوبہ بندی کا نظام پوری دنیا میں رائج ہے۔ بنگلہ دیش، ایران، چین اور کئی دوسرے ممالک نےغربت کے خاتمے کے لئے افزائش آبادی پر کنٹرول کرکے مثبت نتائج حاصل کئے ہیں۔ معیار زندگی بہتر بنایا ہے۔ تعمیر وترقی کی بنیادیں مضبوط بنائی ہیںاور سماجی تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔آبادی کوکنٹرول کرنے کے لئے انسانوں نےخود منصوبہ بندی نہ کی تو قدرت اسے کنٹرول کرتی رہے گی اور زلزلے،سیلاب اور دوسری آفات سے کروڑوں لوگ مرتے رہیں گے۔
پاکستان میں اس حوالے سے میر خلیل الرحمن میموریل فاؤنڈیشن اورپاپولیشن کونسل آف پاکستان کے اشتراک سے وقفہ مہم اہم پیش رفت ہے،صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی تائید وحمایت اور عملی اقدامات اس کی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ اس سےعوامی رحجانات اور ثقافتی رویوں میں تبدیلی آئے گی جو خاندانی منصوبہ بندی کی اصل بنیاد اور معاشی خود کفالت کی ضمانت ہے۔