• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں چار عذابوں میں گھرےہیں اور پانچویں عذاب کو دعوت دے ڈالی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے ایک ہوٹل میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ـ دنیا کے مستقبل کیلئے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی نہیں بلکہ گلوبل وارمنگ ہے، انہوں نے کہا ممکن ہے دہشت گردی کے مزید حملے ہوں اور 20 برسوں میں ان حملوںکے دوران چھوٹے پیمانے پر کیمیائی، حیاتیاتی اور نیو کلیئر مواد استعمال کیا جائے لیکن دنیا میں کبھی کوئی قوم صرف دہشت گردی سے تباہ نہیں ہوئی‘‘ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل امریکہ سے ہی خبر آئی تھی کہ امریکہ اور گلوبلائزیشن دنیا کیلئے دہشت گردی اور جنگ سے بڑا خطرہ ہے دنیا کو درپیش مسائل میں کرپشن دوسرے تنازعات جنگ دہشت گردی تیسرے ،بھوک چوتھے، ماحولیاتی تبدیلی پانچویں، اور ناخواندگی چھٹے نمبر پر آتی ہے یہ بات یوں ہی نہیں اڑا دی گئی تھی بلکہ بی بی سی ورلڈ کے عالمی ناظرین کے سروے سے سامنے آئی تھی جس میں دو ہزار ناظرین سے یہ سوال کیا گیاتھا کہ آج دنیا کو جن عالمی خطرات کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہے یورپ ایشیا شمالی و جنوبی امریکہ مشرق وسطیٰ افریقہ اور آسٹریلیا سے 52.3فیصد لوگوں نے امریکہ کی طاقت اور کرپشن کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیا یورپ اور مڈل ایسٹ نے جنگیں اور دہشت گردی کو زیادہ تشویش ناک بتایا۔ بی بی سی کے اس سروے میں یہ بات بھی پہلی بار سامنے آئی کہ جنگیں اور دہشت گردی کو 50 فیصد بھوک کو 49 فیصد ماحولیاتی تبدیلی کو 44 فیصد اور ناخواندگی کو 38 فیصد نے سب سے بڑا عالمی خطرہ قرار دیا ،جوہری طاقت کا حصول 38 فیصد کے ساتھ ساتویں اور اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم 36 فیصد آٹھویں نمبر پر رہے۔بی بی سی ورلڈ سروس کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ عالمی طاقتیں اور کرپشن کے بنیادی مسئلے کے طور پر سامنے آنےپر ہمیں تھوڑی حیرانی ہوئی تھی تا ہم ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ یہ وقتی ہے یا طویل مدتی اثرات کے حامل ہیں ۔ٹرمپ کے بیان کو دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان دنوںاہل زمیںکیلئے سیاست سے زیادہ زمین کا ماحولیاتی نظام اہم ہو رہا ہے اور یہ بات میرے حساب سے ہے بھی درست کیونکہ ہم ایک ایسی دنیا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو غریبی کے روگ میں مبتلا ہے۔ ہر دن جسکی ماحولیاتی آلودگی اور وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے زمین کے ماحول کو مغربی ممالک اور امریکہ کی اندھا دھند صنعتی مہم بازی کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کی مرمت کی تمام تر ذمہ داری مغرب پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ایک طرف تو کائنات میں انسانوں کی واحد مسکن کرہ ارض کو ناقابل رہائش بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ایشیائی اور افریقی ممالک کے باشندے اس صنعتی جبر کی قیمت اپنی صحت اور زندگی سے ادا کر رہے ہیں ۔جب متمول ملکوں کی انکی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تووہ انکی تلافی کیلئے مالی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نکاسی کی سب سےبڑی وجہ مغرب میںاستعمال ہونے والی گاڑیوں کی بڑی تعداد ہے ایک اندازے کے مطابق اکیلے امریکہ میں موٹر کاروں کی تعداد اس ملک کی آبادی سے دو گنا ہے یعنی 50 کروڑ سے زیادہ ہے جسکی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور مزید بڑھ رہا ہے انٹارکٹیکا اور قطب شمالی کی برف کے ساتھ ساتھ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہمالیہ کی پانچ کروڑ سال سے سلسلہ وار جمی برف بھی پگھلنے لگی ہے سیلاب بیشتر ملکوں کا مقدر بن گئے ہیں خود یورپ کے 15 ممالک بدترین سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں۔ ادھر ایشیا میں موسموں کی گردش اس قدر بگڑ چکی ہے کہ مون سون ایک بے اعتبار موسم بن گیا ہے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں قحط سالی سے کروڑوں لوگ بھوکوں مر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایشیا کے نیلے آسمانوں پر زہریلی گیسوں کے بھورے بادل چھائے ہوئے ہیں جبکہ 2024 کےکیو ٹو معاہدےکے تحت امریکہ سے کہا گیا کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر پابندی عائد کرے تو اپنے تجارتی مفادات کے پیش نظر اس نے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس قسم کا امریکی رویہ ماحولیاتی بدمعاشی کی ایک بہترین مثال ہے نہ تو امریکہ زمین کے بہتر ماحول کی بحالی کیلئے امدادی رقوم دینا چاہتا ہے اور نہ ہی زمین کے صحت مند مستقبل کیلئے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری کیلئے تیار ہے حد تو یہ ہے کہ جس عالمی کانفرنس میں زمین کے مقدر پر گفتگو ہو رہی تھی امریکہ کا صدر اس میں شرکت کرنے سے قاصر تھا ۔وسیع پیمانے پر زمین کے قدرتی ماحول میں پیدا ہونے والی خرابی کے علاوہ صنعتی آلودگی نے بھی بڑے پیمانے پر بڑے المیوں کو جنم دیا ہے یہ صنعتی آلودگی مغربی ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دین ہے جو اس دنیا کے چپے چپے کو نفع خوری کیلئے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں لیکن اس کے نتیجے میں پچھلے سال دنیا بھر میں صاف پانی کی فراہمی اور صفائی کی صورتحال کے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کے باوجود ترقی پذیر ملکوںکے3.4بلین افراد اب بھی صحت و صفائی کے معیاری انتظامات اور 1بلین افراد صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی سے محروم ہیں ان حالات میں امریکی صدر ٹرمپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ترقی پذیر ممالک کے باشندے یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ دنیا میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنسیں، سمپوزیم ،مذاکرے اور تقریریں دراصل امیر متمول اور بڑے ملکوں کی طرف سے 21کیسویں صدی میں محض ’’نو آبادی‘‘ نظام کا ایک فورم ہے ایسے فورم سے کسی خیر کی کیا توقع ہو سکتی ہے؟

جس کو چاہیں تباہ کر ڈالیں

آج کل آپ کا زمانہ ہے

تازہ ترین