حسب عادت، حسب معمول اور حسب ِروایت صدر ٹرمپ بار بار ٹیپ کا یہ مصرع دُہرا رہے ہیں کہ’’ایرانی ہمارے دشمن نہیں، عوام سے ہمیں انتقام نہیں لینا‘‘ـ یہی وہ ٹیپ کے جملے تھے جب 1991ء میں عراق پر بمو ںکی برسات ہوئیـ یہی وہ راگ تھا جو 1985ء میں لیبیا پر بمباری سے پہلے ہمیں سنایا گیا تھاـ، یہی وہ بول تھے جس کا ریکارڈ امریکیوں نے 1982ء میں لبنان پر بم پھینکنے سے پہلے بجایا تھا۔ یہ کیساجان لیوا مذاق ہے کہ 1965ء میں نہر سویز کےپانیوں میں بارود کی تہ بچھانے سے پہلے بھی امریکہ کی کانگریس میں ممبران یہی گیت گنگناتے رہتے تھےـ۔
تو کیا خیال ہے اس بار بھی دنیا آپ کا یقین کرے گی؟
یوں تو دنیا کے سبھی ملکوں میں ہر دور میں ہر حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کو مخالفین کہا گیا ہے ان مخالفین پر اگر سرکاری پولیس اور فوج نے زور زبردستی کے ذریعے قابو پا لیا یاتو یہ لوگ باغی کہلائے اور اگر مخالفین نے اقتدار حاصل کر لیا تو انقلاب کا اعلان کر دیا گیااور قائم ہونے والی نئی انقلابی حکومت قانونی قرار دے دی گئی ۔اسی طرح یہ بھی دنیا کا اصول ہے کہ پہلے دہشت گرد کہلانے والے چند دنوں بعد محب وطن بنے اور بعد میں انہوں نے اقتدار حاصل کر لیا لیکن آج ترقی یافتہ دور میں امریکہ نے اپنے سیاسی معاشی تجارتی اور فوجی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ہزاروں میل دور واقع ممالک میں مداخلت کر کے’جمہوریت بچاؤ ،تہذیب بچاؤ‘ اور’اقدار بچاؤ‘ کا نام دے کر اور مخالفت کرنے والوں کو دہشت گرد کا خطاب دے کر اپنی مداخلت کا جواز پیدا کر رکھا ہے۔ امریکہ کے خیال میں دنیا بھر کے ممالک یا تو اس کی ہاں میں ہاں ملائیں ورنہ وہ اس کے دشمن سمجھے جائیں گے پہلے پہل تو امریکہ کی فہرست میں سوویت یونین ہی دشمن نمبر ایک تھا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے اس نے 900ایجنسیاں اور ادارے قائم کیے ۔ ـ اس نے تقریباً 40سال تک جدوجہد کی اس کے اطراف کے ممالک کو معاشی و فوجی امداد دے کر اسے گھیرے میں لیے رکھا۔پھر 1967ءمیں عرب اسرائیل جنگ کے بعد سعودی عرب کے شاہ فیصل نے مغربی ممالک کو تیل کی سپلائی روک دی تو امریکہ جیسی بڑی طاقت کے ہوش اڑ گئے جو ںتوں کر کے جنگ ختم ہوئی تو اس کے دماغ میں صرف ایک بات بسی ہوئی تھی کہ پٹرول والے علاقوں میں براہ راست مداخلت کی جائے جو کہ اتفاق سے مسلم ممالک میں ہیں۔ یہ مسلم ممالک اپنی دھرتی سے 35ملین بیرل یومیہ تیل نکالتے ہیں ۔آج تیل کی قیمتیں WTI کروڈ تقریباً 65ڈالر اور برینٹ کروڑ لگ بھگ 70ڈالر کے قریب ہیں۔ ـ 1975ءمیں اسی پٹرول کی قیمت 36ڈالر فی بیرل تھی جو آج ایک سازش کے تحت 1اعشاریہ 30ڈالر لیٹر کر دی گئی ہے اور بقول میرے ایک معاصر کے 1980ءسے لے کر آج تک مغربی ممالک کی اس سازش کے تحت مسلم ممالک کو چار ہزار پچاس ملین ڈالر کا یومیہ نقصان ہو رہا ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ساری امریکی قوم 37ہزار ڈالر فی مسلمان مقروض ہے اسی قرضے کی ادائیگی سے بچنے کیلئے انہوں نے پہلے اقدام کے طور پر شاہ فیصل کو قتل کروایا پھر ایران عراق کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا جس میں دونوں طرف کے مرنے والے مسلمانوں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ تھی عراق کی معاشی حالت پر ترس کھاتے ہوئے امریکہ نے عراق کو صلاح دی کہ وہ کویت پر قبضہ کر کے اپنی بگڑی معاشیات کو سدھار لے، کویت جو ایک زمانے میں عراق کا حصہ تھا اس کو انگریزوں نے اپنے مفاد اور پٹرول حاصل کرنے کی خاطر علیحدہ ملک قرار دے کر وہاں عرصہ دراز تک انتظام اور کنٹرول رکھا نہ صرف یہ بلکہ اسکی سرحدوں کی حفاظت کے نام پر اپنی باقاعدہ فوج کو لے آیا۔ سعودی حکمرانوں کو جب عراق کے ارادوں کا علم ہوا تو اس نے والیِ کویت سے مل کر اپنی حفاظت اور بقا کیلئے امریکہ سے مدد چاہی اور بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ امریکہ چاہتا بھی یہی تھا سو وہ عراق کے خلاف اپنی فوج کو مشرق وسطیٰ لے آیا۔جس میں کویت اور سعودی عرب کی بھی براہِ راست مدد کی درخواست شامل تھی ۔یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کو ختم ہوئے عرصہ گزر چکا ہے لیکن سعودی عرب قطر بحرین اور کویت کو 20 ہزار امریکی سپاہیوں کو اپنی سرزمین پر رکھنا پڑتا ہے اور ان کے تمام اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں ۔دوسری طرف امریکہ کا لے پالک اسرائیل جس کو امریکہ عربوں کے خلاف ہر سال 995ملین ڈالر کی اقتصادی اور تین بلین ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے عربوں کے سر پر تلوار کی طرح لٹکا ہوا ہے وہ اس خطرے کی شدت کو کم کرنے کیلئےمغربی ممالک کے بینکوں میں رکھے ہوئے اپنے تقریباً 1800 بلین ڈالر استعمال نہیں کر سکتے۔ امریکہ نے عربوں کے خلاف اسرائیل کی خوب پیٹھ ٹھونکی ہے کہ وہ ہر قسم کے ہتھیار رکھ سکتا ہے جبکہ ایران کا ایٹمی پلانٹ جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہی تھا اسرائیل اور امریکہ نے بمباری کر کے تباہ کر دیا۔ اب ایران پر امریکہ کے متوقع حملے کے پیش نظر اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے امریکہ کی دہشت گردوں اور ایرانی رجیم کی تلاش کو ’’بھوسے کے ڈھیر سے سوئی کی تلاش‘‘ قرار دیا ہے جبکہ ساتھ ہی یہ رائے بھی دی ہے کہ تلاش سے کہیں بہتر ہے کہ پورے ڈھیر ہی کو آگ لگا دی جائے۔ـ