کہتے ہیں (اور یہ کہنے والا میں بھی ہو سکتا ہوں) کہ ’’سگریٹ کے ایک سرے پر آگ ہوتی ہے اور دوسرے سرے پر بے وقوف‘‘ـ یہ شے جسے ’’تمباکو‘‘ کہتے ہیں اسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چار ہزار سے زائد مختلف مرکبات کا مجموعہ ہے یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میڈیکل تجرباتی لیبارٹری میں جب مینڈک کو زندہ لایا جاتا ہے تو اس کا چیر پھاڑ کرنے سے پہلے اسے بے ہوشی کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس کیلئے مینڈک کے منہ میں سگریٹ کا تمباکو بھرا جاتا ہے اس سے وہ بے ہوش ہو جاتا ہے ( جیسے آدمی سگریٹ پی کر مدہوش ہو جاتا ہے) اور پھر میڈیکل تجربات کرنیوالے سرجن بآسانی چیرپھاڑ کر کے اس کے اندرونی نظاموں کا جائزہ لیتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مینڈک اور حضرت انسان کا نظام ہضم یکساں ہے لیکن غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ہضم کرنے کی صلاحیت انسانوں میں مینڈکوں سے کہیں زیادہ ہے اسکی مثال میں یوں دوں گا جب آپ سگریٹ کا ایک کش لیتے ہیں تو 10 سیکنڈ کے اندر یہ چار ہزار سے زائد کیمیائی مرکبات آپ کے دماغ ،دل ،معدہ اور دوسرے اعضائے رئیسہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔ان مرکبات میں نکوٹین ایک ایسا جان لیوا مادہ ہے جو آپ کے پھیپھڑوں کے ذریعے بڑی آسانی سے آپ کے جسم کے ایک ایک رگ و ریشے میں پہنچ جاتا ہے اور پھر جسم میں خون کی گردش یعنی خون کو لانے اور لے جانے والی رگوں شریانوں اور نالیوں کے اندرونی راستے کو تنگ کر دیتا ہے جس سے آپ کے جسم میں خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے جسے ہائی بلڈ پریشربھی کہتے ہیں اور پھر دل کو زور سے خون پہنچانے پر مجبور کر کے اسے نقصان پہنچاتا ہے دوسرا کیمیائی مادہ کاربن ڈائی اکسائیڈ ہے یہ گیس جو تمباکو کا ایک خاص جزو یا حصہ ہے دل اور دماغ تک آکسیجن جیسی حیات بخش گیس کی پہنچ میں رکاوٹ ڈالتی ہے بالخصوص دماغ تک پہنچنے والی آکسیجن گیس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ دشمنوں سے بھی برا سلوک کرتی ہے جبکہ یہ آکسیجن خون کو جسم کے مختلف اعضاء تک پمپ کرنے کے عمل میں ایک ایندھن کا کام دیتی ہے جیسے جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس آپ کے جسم میں سرایت کرتی جاتی ہے ویسے ویسے آپ کے پھیپھڑوں کو ملنے والی حیات بخش آکسیجن کی مقدار گھٹتی جاتی ہے ایک حالیہ سروے کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد لگ بھگ دو ارب ہے جن میں سے 45فیصد مرد اور 22فیصد خواتین شامل ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں5.1ملین خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں جبکہ آئندہ 20 سال کے عرصے میں ان کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ ادھر کشور حسین شاد باد میں 59 فیصد خواتین سگریٹ نوشی کی لت میں گرفتار ہیں ۔ان کے غریب اور متوسط طبقے کی 80 فیصد خواتین چرس پیتی ہیں یہاں یہ بات بھی چونکانے والی ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال نشہ کرنے والوں کی تعداد میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے یہ سروے رپورٹ ورکنگ ویمن آرگنائزیشن پاکستان کی جانب سے حال ہی میں تیار کی گئی ہے ادھر ہمارے ہمسائے بھارت میں لگ بھگ 19 سے 20 کروڑ افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جس میں تقریباً 10 کروڑ افراد سگریٹ نوشی اور باقی افراد دیگر طریقوں سے تمباکو استعمال کرتے ہیں جبکہ لگ بھگ 10 لاکھ افراد ہر سال تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں ان بیماریوں میں کھانسی، سی او پی ڈی، سانس و پھیپھڑوں کی بیماریاں اور منہ کا کینسر بھی شامل ہے بھارت ہی میں لگ بھگ 10 ہزار کروڑ روپے تمباکو اور اس کی مختلف شکلوں میں اڑا دیے جاتے ہیں ہماری اس چھوٹی سی دنیا میں ہر روز تقریباً 13 ہزار افراد تمباکو نوشی کے سبب موت سے ہم کنار ہو جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ آخر تمباکو ہے کیا جس سے لوگ خوشی خوشی موت خریدتے ہیں؟ اس کا آغاز کب کہاں اور کیسے ہوا؟ میں اپنے حساب سے عرض کرتا ہوں ـ تمباکو کے پتوں کی باقاعدہ دریافت پہلی بار کولمبس نے کیوبا کے سفر کے دوران کی تھی یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ امریکہ نے کیوبا کے سربراہ فیڈل کا سترو کو تین بار اس کے پسندیدہ سگار سے ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔ ـ 1492 میں جب کولمبس نے کیوبا کے ساحل پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں کے باشندوں کو اس نے ان پتوں کو سونگھتے چباتے اور پیتے دیکھا، پھر اس کے رد عمل پر غور کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اسکا استعمال کرنے والوں پر ان پتوں کو گہرا اثر ہوتا ہے 1560میں فرانس کے سفیر برائے پرتگال نے قیدی جہاز رانوں سے یہ پتیاں حاصل کیں کہ اسے بتایا گیا تھا کہ ان پتیوں کے لگانے سے زخم مندمل ہو جاتے ہیں اور اس سے السر کا علاج بھی کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ان کو وبائی امراض جیسے طاعون وغیرہ سے بچنے کیلئے بھی موثر خیال کیا جاتا ہے اس وقت کے ڈاکٹر کا خیال تھا کہ یہ ہاضمہ کے نظام کو درست کرتاہے اور خون کی صفائی میں معاون ہے اس کے باوجود تمباکو نوشی سے نقصانات کا خطرہ ہر وقت لاحق رہتا ہے اور ان میں سے بڑا خطرہ کینسر کے موزی مرض کا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پییں گے تو سگریٹ آپ کو کھا جائے گا۔