زبیر یعقوب
موجودہ عالمی مالیاتی منظرنامے میں اخلاقی بینکاری ناگزیر ہوگئی ہے، کیوں کہ جیسے جیسے معیشتیں ایک دوسرے سے جُڑتی جا رہی ہیں، ویسے ویسے دیانت، شفّافیت اور سماجی ذمّےداری کے اصولوں پر کاربند مالیاتی اداروں کی طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
یہ رجحان خاص طور پر نوجوان نسلوں، ’’ملینیئلز‘‘ اور ’’جنریشن زی‘‘ میں نمایاں ہے، جو اپنے مالی فیصلوں میں ماحولیاتی تحفّظ، انصاف اور جواب دہی جیسی اخلاقی اقدار کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس تناظرمیں اخلاقی بینکاری پائےدار معاشی ترقّی، اعتماد کے فروغ اور مستحکم مالیاتی نظام کی تشکیل کے لیے خاصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
2007ء سے 2009ء تک کا عالمی مالیاتی بُحران اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب مالیاتی نظام اخلاقی حدود اور مؤثر ضابطہ کاری سے عاری ہوجائے، تو اس کے نتائج کس قدر تباہ کُن ہوتے ہیں۔ یہ بُحران حد سے زیادہ لیوریج کے استعمال، پیچیدہ اور کم شفّاف مالیاتی مشقوں کے فروغ اور حقیقی معاشی سرگرمیوں سے دُوری کے باعث پیدا ہوا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق، اس بُحران کے نتیجے میں عالمی سطح پر کھربوں ڈالرز کے مالیاتی اثاثے ضائع ہوئے اور دُنیا کو طویل عرصے تک معاشی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑے مالیاتی اداروں کے زوال اوراس کے بعد عوامی اعتماد کی کمی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ سُود پر مبنی وہ نظام، جو پیداواری سرمایہ کاری کی بجائے قیاس آرائی پر مبنی منافعے کو ترجیح دیتا ہے، اندرونی طور پر نہایت کم زور اور غیرمستحکم ہے، جب کہ اس کے برعکس اسلامی بینکاری نے اُس دَور میں بھی استحکام کا مظاہرہ کیا۔
یاد رہے، اسلامی طرزِمعیشت میں سُود(رِبا)، حد سے زائد غیریقینی (غرار) اور قیاس آرائی پر مبنی لین دین کی ممانعت ہے، جب کہ اثاثہ جاتی بنیاد پر فنانسنگ اور نفع و نقصان میں شراکت داری جیسے طریقوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔
یہ اخلاقی پابندیاں فطری طور پر اسلامی بینکاری کو اُن اثاثوں اور خطرے والے مالیاتی ذرائع سے محفوظ رکھتی ہیں، جنہوں نے عالمی بُحران کو مزید بڑھا دیا تھا۔ آئی ایم ایف کے 2015ء کے ایک ورکنگ پیپر کے مطابق، اسلامی بینکس بالخصوص پاکستان میں مالی دباؤ کےادوار کے دوران نہ صرف ڈیپازٹس کے انخلا کے حوالے سے کم متاثر ہوئے بلکہ انہوں نے قرضہ جاتی اور فنانسنگ سرگرمیوں کو بھی برقرار رکھا۔ اس استحکام کی بنیادی وجہ ان کی متوازن بیلنس شیٹس، مؤثررِسک مینجمینٹ اور حقیقی معاشی سرگرمیوں سے ہم آہنگی تھی۔
واضح رہے، اخلاقی بینکاری صرف اسلامی مالیات تک محدود نہیں، بلکہ دُنیا کے مختلف خطّوں میں سیکولر اداروں نے روایتی بینکاری کی خامیاں دُور کرنے کے لیے اِسی طرح کے اصول اپنائے ہیں۔ مثال کے طور پر نیدرلینڈز کا ٹریوڈوس بینک صرف مستحکم اداروں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور ایک ایسے گورنینس ماڈل کے تحت کام کرتا ہے، جس میں شیئر ہولڈرز کے منافعے پر سماجی اثرات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
برطانیہ کا کوآپریٹو بینک صارفین کی رہنمائی کے لیے تیار کردہ ایک اخلاقی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت ایندھن، اسلحہ سازی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اداروں کی فنانسنگ نہیں کی جاتی۔ یہ مثالیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ اخلاقی بینکاری مالی طور پر قابلِ عمل اور سماجی طور پر سُودمند ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں اسلامی بینکاری کی جانب اسٹریٹجک پیش رفت اخلاقی مالیات کے لیے وسیع تر قومی عزم کی عکّاسی کرتی ہے۔ مُلک کو اس وقت متعدّد معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں کرنسی کی قدرمیں کمی، مالیاتی خسارہ اورساختی ترقی کی ضروریات شامل ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط، شفّاف اور قابلِ اعتماد مالیاتی شعبہ طویل مدّتی معاشی استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
کئی بڑے مالیاتی اداروں کی جانب سے اسلامی بینکاری ماڈلز کو اپنانا اور مُلک کے ایک اہم بینک کا مکمل طور پر اسلامی ماڈل اختیار کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ پاکستان ایسے مالیاتی طریقۂ کار کو قومی ترقیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے نجی بینک کی جانب سے اس تبدیلی کو اپنانا ایک نمایاں مثال ہے۔
تمام آپریشنز کے لیے شریعہ کمپلائنٹ اصول اپنانے کے سبب اس بینک نے نہ صرف صارفین کا اعتماد مستحکم کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ اخلاقی بینکاری بڑے پیمانے اور منافعے کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوسکتی ہے۔ مکمل اسلامی بینک بننے کے بعد اس بینک نے پاکستان کے 300سے زائد شہروں میں تقریباً 900شاخوں کی توسیع کی، جب کہ 2025ء کی پہلی ششماہی میں اُس کے ڈیپازٹس 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں اخلاقی مالیات کے لیے صارفین کی طلب نہ صرف موجود ہے بلکہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
مورگن اسٹینلے کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 95 فی صد’’ملینیئلز‘‘ پائےدار سرمایہ کاری میں دل چسپی رکھتے ہیں، جب کہ ’’جنریشن زی‘‘ کی توقّع ہے کہ اگلی دہائی میں دولت میں چار گُنا اضافہ ہو۔ یہ صارفین باشعوراوراقدار پرعمل پیرا ہیں اور ایسے مالیاتی اداروں کی تلاش میں ہیں، جو ان کے اخلاقی اصولوں کی عکّاسی کریں۔
وہ زیادہ ترایسے بینکس سے رابطہ کرتے ہیں، جو شفّاف اور غیر استحصالی مصنوعات پیش کرتے ہیں، اثاثہ جاتی بنیاد پر گھر اور چھوٹے کاروبارکے لیے مالی اعانت اور واضح و قابلِ فہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اخلاقی بینکاری صرف اخلاقی ذمّے داری نہیں بلکہ موثر اور مسابقتی بینکنگ بھی ہے۔ اخلاقی بینکاری کے اثرات صرف انفرادی اداروں یا قومی حدود تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرۂ کاربین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔
یاد رہے، مالیات صرف ایک تیکنیکی نظام نہیں، ایک سماجی ڈھانچاہے، جو لوگوں کی معاشی زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور مجموعی معاشرتی فلاح و بہبود پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ وہ بینکنگ ماڈلز جو اخلاقی پہلوؤں کو ترجیح دیتے ہیں، جامع ترقّی کو فروغ دینے کے ساتھ نظامی خطرات کم اورعوامی اعتماد بحال کرتے ہیں۔
اسلامی اور سیکولر اخلاقی مالیاتی ماڈلز کے درمیان بڑھتی ہم آہنگی اس بات کی علامت ہے کہ اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے کہ مالیاتی نظام کا بنیادی مقصد ذاتی مفادات کی بجائے عوامی بھلائی اور پائےدار ترقی یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
اخلاقی بینکاری کو اب ایک مستحکم، شفّاف اور جامع معیشت کا بنیادی عُنصر سمجھا جاتا ہے۔ ماضی کے مالیاتی بُحران، صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات اور قومی مالیاتی نظام میں جاری اسٹرٹیجک تبدیلیاں اس اَمر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ ایسے بینکنگ ماڈلز کی ضرورت ہے، جو دیانت داری اور مقصدیت کے ساتھ کام کریں اور اسلامی بینکاری جو انصاف، شفّافیت اور حقیقی معاشی سرگرمیوں پر زور دیتی ہے، اخلاقی مالیات کے لیے ایک مضبوط، قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ جب کہ اسے سیکولر اقدامات اورمؤثرضابطہ کاری کی حمایت حاصل ہو، تو اخلاقی بینکاری عالمی مالیاتی نظام میں ایک انقلابی قوّت بن سکتی ہے۔
پاکستان کی اسلامی مالیات کی جانب منتقلی اس صلاحیت کی واضح مثال ہے، جو مُلک کو اخلاقی اور مستحکم بینکاری کی عالمی تحریک میں ایک فعال اور پیش رو کردار ادا کرنے کی پوزیشن پر لاکھڑا کرتی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف قومی مالیاتی نظام مستحکم کرے گی، پاکستان کو عالمی مالیاتی ماڈلز پر مثبت اثرات مرتب کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔