ایک نجی بھارتی کمپنی کی نئی گھر سے کام کی پالیسی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کمپنی نے گزشتہ ماہ بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنے کے بعد دفتر کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ملازمین کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب ملازمین کو باری باری گھر اور دفتر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
متاثرہ ملازمین کے مطابق کمپنی میں اسٹاف کی تعداد 40 سے کم ہو کر 15 رہ گئی ہے جبکہ کمپنی نے چھٹی منزل پر موجود دفتر خالی کر کے پانچویں منزل پر ایک چھوٹی سی جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
محدود جگہ ہونے کے باعث صرف 4 افراد ایک وقت میں دفتر میں کام کر سکیں گے جبکہ باقی ملازمین گھر سے کام کریں گے۔
ایک ملازم نے بتایا ہے کہ ابتداء میں وہ اس فیصلے سے خوش تھا کیونکہ اسے امید تھی کہ وہ اپنے آبائی شہر سے کام کر سکے گا تاہم بعد میں انتظامیہ نے واضح کیا کہ گھر سے کام کرنے والے تمام ملازمین کا دہلی این سی آر کے اندر موجود ہونا لازمی ہو گا۔
کمپنی نے حاضری کے لیے جی پی ایس نگرانی کا نظام متعارف کروایا ہے جس کے تحت صرف انہی ملازمین کی حاضری لگے گی جو دہلی این سی آر میں موجود ہوں گے۔
ملازم کے مطابق انتظامیہ نے اس پابندی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی ہے البتہ امکان ہے کہ ضرورت پڑنے پر ملازمین کو فوری طور پر دفتر بلانے کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہو۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔
بعض صارفین نے اسے ملازمین کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ کئی بڑی کمپنیاں بھی گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی لوکیشن کی نگرانی کرتی ہیں تاکہ حاضری اور کام کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔